أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَا۟ اۨنْفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا وَتَرَكُوۡكَ قَآئِمًا‌ ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ‌ ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ  ۞

ترجمہ:

اور جب انہوں نے کوئی تجارتی قافلہ دیکھا یا طبل کی آواز سنی تو اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو (خطبہ میں) کھڑا چھوڑ دیا، آپ کہیے : اللہ کے پاس جو (اجر) ہے وہ تماشے اور تجارتی قافلہ سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے ؏

 

الجمعہ : ١١ میں فرمایا : اور جب انہوں نے کوئی تجارتی قافلہ یا تماشا دیکھا تو اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو (خطبہ میں) کھڑا چھوڑ دیا، آپ کہیے کہ اللہ کے پاس جو (اجر) ہے وہ تماشے اور تجارتی قافلہ سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

خطبہ جمعہ کے دوران صحابہ کے اٹھ کر چلے جانے کی توجیہ

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، اچانک غلہ کا ایک قافلہ آگیا، پس لوگ اس قافلہ کی طرف اٹھ کر چلے گئے، تب یہ آیت نازل ہوئی :” واذا اراواتجارۃ اولھوا انفضوا الیھا وترکول فآئماً “ (الجمعہہ : ١١) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٩٩ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٣ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣١١)

” صحیح بخاری “ اور ” صحیح مسلم ‘ کی روایت میں ہے کہ بارہ صحابہ کے سوا سب چلے گئے تھے اور ” سنن دارق طنی “ میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ چالیس صحابہ بیٹھے رہے تھے، جن میں، میں بھی تھا، (سنن دارق طنی ج ٢ ص ٤ مطبوعہ نشرالسنتہ، ملتان)

صحابہ کرام کا خطبہ چھوڑ کر جانا خطبہ جمعہ سننے کے حکم سے پہلے کا واقعہ ہے، اس وقت خطبہ نماز کے بعد دیا جاتا تھا، صحابہ کرام نماز جمعہ پڑھ کر گئے تھے اور ان کے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں تھا حتیٰ کہ قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی۔

اس آیت کے نزول کے بعد خطبہ سننا واجب ہوگیا، خیال رہے کہ صحابہ کرام کے تسامحات بعض اوقات قرآن مجید کی آیات کے نزول کا سبب ہوتے ہیں، بعض اوقات احکام شرعیہ کی تنفیذ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسوہ حسنہ فراہم کرنے کا سبب ہوتے ہیں، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بعض صحابہ پر حدود و تعزیرات جاری فرمانا اور بعض اوقات ان کی تسامحات کی وجہ سے امت پر احکام شرعیہ سہل ہوجاتے ہیں، جیسے رمضان کی راتوں کا امت پر حلال ہوجانا ہم نے جو لکھا ہے کہ صحابہ کا خطبہ چھوڑ کر جانا ابتدائی واقعہ ہے، اس کی دلیل یہ حدیث ہے : امام ابودائود اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

مقاتل بن حیان روایت کرتے ہیں کہ (پہلے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ سے پہلے نماز جمعہ پڑھتے تھے، جس طرح عیدین کی نماز میں ہوتا ہے، ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز جمعہ کے بعد خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر بتایا کہ دحیہ بن خلیفہ مال تجارت لے آیا ہے، اس کے آنے پر دف بجایا جاتا تھا، سو لوگ اٹھ کر چل گئے، انکے گمان میں خطبہ ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا (اور نماز وہ پڑھ چکے تھے) تب اللہ تعالیٰ نے ( سورة جمعہ کی مذکورہ) آیت نازل کی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ جمعہ کو مقدم کردیا اور نماز جمعہ کو خطبہ سے مئوخر کردیا، پھر کوئی شخص خواہ نکسیر پھوٹ جائے یا وضو ٹوٹ جائے آپ سے اجازت لئے بغیر دوران خطبہ نہیں جاتا تھا۔ ایسی صورت میں وہ انگلی سے اشارہ کر کے اجازت لیتے تھے۔ (مراسیل ابو دائود ص ٧، مطبوعہ اصح المطابع، کراچی)

القرآن – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 11