يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Thursday، 28 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن (نماز) جمعہ کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیء بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ پھر جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو۔ اور جب انہوں نے کوئی تجارتی قافلہ دیکھا یا طبل کی آواز سنی تو اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو (خطبہ میں) کھڑا چھوڑ دیا، آپ کہیے : اللہ کے پاس جو (اجر) ہے وہ تماشے اور تجارتی قافلہ سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔۔ (الجمعہ : ١١-٩)
سابقہ آیات سے ارتباط
اس سے پہلی آیتوں میں یہود کی اس وجہ سے مذمت کی تھی کہ وہ متاع دنیا اور اس کی لذتوں کی وجہ سے موت سے بھاگتے ہیں اور۔ کے احکام پر عمل نہیں کرتے، اور ان آیتوں میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم اللہ کے حکم سے نماز جمعہ پڑھو اور نماز جمعہ کے لئے دنیاوی کاروبار کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجالائو اور اس طرح یہودیوں اور مسلمانوں میں نمایاں فرق ہوگا کہ یہودی دنیاوی متاع کی وجہ سے اللہ کے حکم کو چھوڑ دیتے ہیں اور مسلمان اللہ کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر تین وجوہ سے رد فرمایا : انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے دوست اور محبوب ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا : اگر ایسا ہے تو تم موت کی تمنا کرو، انہوں نے اس پر فخر کیا تھا کہ وہ اہل کتاب ہیں اور عرب امی ہیں ان کے پاس کتاب نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا : تم اپنی کتاب کے احکام پر عمل نہیں کرتے، لہٰذا تم اس گدھے کی مثل ہو جس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں، اور یہود اس پر فخر کرتے تھے کہ ان کے لئے ہفتہ میں ایک مقدس دن ہے اور وہ یوم السبت ہے یعنی سنیچر کا ایک دن مقرر فرما دیا اور وہ جمعہ کا دن ہے جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا ہے۔
جمعہ کی وجہ تسمیہ
امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر دوسری بار آپ آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، پھر آپ نے یسری یا چوتھی بار میں فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں تمہارے باپ آدم (کی تخلیق) کو جمع کیا گیا، اس دن جو مسلمان بھی وضو کر کے مسجد میں جائے، پھر اس وقت تک خاموش بیٹھا رہے حتیٰ کہ امام اپنی نماز پڑھ لے تو یہ عمل اس جمعہ اور اس کے بعد کے جمعہ کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے بہ شرطی کہ اس نے خن ریزی سے اجتناب کیا ہو۔
(مسند احمد ج ٥ ص ٤٤٠ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٩ ص ١٣٣، رقم الحدیث : ٢٣٧٢٩ مئوستہ الرسالتہ، بیروت، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٦٦٥ المعجم الکبیر رقم الحدی : ٦٠٨٩)
علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ لکھتے ہیں :
ابو سلمہ نے کہا : پہلے جمعہ کے دن کو العروبتہ کہا جاتا تھا اور سب سے پہلے جس نے اس دن کا نام الجمعہ رکھا وہ کعب بن لوی ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ سب سے پہلے انصار نے اس دن کا نام الجمعہ رکھا۔
امام ابن سیرین نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے اور جمعہ کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے اہل مدینہ جمع ہوئے اور ان ہی لوگوں نے اس دن کا نام الجمعہ رکھا، انہوں نے کہا : یہود کا بھی ایک دن ہے جس میں وہ عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں اور ہر سات دنوں میں ان کا ایک مقدس دن ہے اور وہ السبت (سنیچر) ہے اور نصاریٰ کے لئے بھی اس کی مثل ایک دن ہے اور وہ اتوار کا دن ہے، پس آئو ! ہم بھی ہفتہ میں ایک دن معین کریں جس میں ہم سب جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں اور اس دن خصوصی نماز پڑھیں، پھر انہوں نے کہا : یہود نے سنیچر (ہفتہ) کا دن معین کیا ہے اور نصاریٰ نے اتوار کو دن معین کیا ہے، پھر ہم یوم العروبتہ کا دن معین کرتے ہیں، پھر وہ سب حضرت اسعد بن زرارۃ (ابوامامتہ) (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہر بالغ پر نماز جمعہ کے لئے جانا واجب ہے۔
(سنن کبریٰ للبیہقی ج ٣ ص ١٧٢ مطبوعہ نشرالسنتہ، ملتان)
حضرت ابوالجعد الضمری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے سستی کی وجہ سے تین بار جمعہ کو ترک کردیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٠٥٢ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٠٠ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١١٢٥ صحیح ابن حبانرقم الحدیث : ٢٧٨٦، المسدترک ج ١ ص ٢٨٠ سنن بیہقی ج ٣ ص ١٧٢ مسند احمد ج ٣ ص ٤٢٤ )
حضرت طارق بن شہاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مسلمان پر جماعت کے کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنا واجب ہے، ماسوا چار کے : غلام، عورت، بچہ یا بیمار (ہدایہ میں ہے کہ مسافر اور نابینا پر بھی جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے۔ ) (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٠٦٧ )
حضرات ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے (یعنی ثابت ہے) اور یہ کہ وہ مسواک کرے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے۔ الحدیث
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٨٠ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٤١ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٧٧ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٠٨٩)
حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جمعہ کے دن غسل کیا تو فبہا (یہ اچھا کام ہے) اور عمدہ ہے اور جس نے غسل کیا تو غسل کرنا افضل ہے۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٩٧ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٥٤ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٧٩)
حضرت ابوہریرہ ری اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا، پھر نماز کے لئے گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ صدقہ کیا اور دوسری ساعت میں گیا تو گویا اس نے ایک گائے صدقہ کی اور جو تیسیر ساعت میں گیا، اس نے گویا سینگھوں والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے گویا مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں ساعت میں گیا گویا اس نے انڈا صدقہ کیا، پس جب امام نکل آئے تو فرشتے خطبہ سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٨١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٥٠ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٥١ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٩٩ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٨٩)
حضرت السائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے عہد میں یہی معمول تھا، جب حضرت عثمان (رض) کا عہد آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے تو مقام الزوراء پر تیسری اذان کا اضافہ کردیا (اقامت کے اعتبار سے تیسری اذان فرمایا ہے۔ )
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩١٢ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥١٦ سنن ابود ائود رقم الحدیث : ١٠٨٧ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٤٩٤)
حضرت السائب بن زیدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے عہد میں بھی۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٠٨٨)
حضرت ابن عمر (رض) نے بیان فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو خطبے دیتے تھے، آپ منیر پر بیٹھ جاتے اور جب مئوذن اذان سے فارغ ہوتا تو آپ کھڑے ہو کر ایک خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے اور کوئی بات نہیں کرتے تھے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٠٩٢)
حضرت اوس بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے ایام میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم پیدا ہوئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن سب بےہوش ہوں گے، سو تم اس دن مجھ پر زیادہ درود وسلام پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود وسلام مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ پر ہمارا درود کیسے پیش کیا جائے گا حالانکہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے کھانے کو حرام کردیا۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٠٤٧، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٧٣ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٣٦-١٠٨٥)
نماز جمعہ کے ضروری مسائل
علامہ علاء الدین محمد بن علی محمد حصکفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :
نماز جمعہ فرض عین ہے اور اس کا انکار کفر ہے کیونکہ اس کا ثبوت بھی قطعی ہے اور اس کی لزوم پر دلالت بھی قطعی ہے، نماز جمعہ پڑھنے جواز کی سات شرائط ہیں :
(١) پہلی شرط یہ ہے کہ جمعہ صرف شہر میں فرض ہے، گائوں اور دیہات میں جمعہ فرض نہیں ہے اور شہر کا ثبوت اس حدیث سے ہے :
حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہ جمعہ جامع شہر کے بغیر ہوگا نہ تشریق۔
(مصنف عبدالرزاق ج ٣ ص ٧٠ رقم الحدیث : ٥١٨٩ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
ابوعبدالرحمان سلمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا : نہ جمعہ جامع شہر کے بغیر ہوگا نہ تشریق اور وہ بصرہ، کوفہ، مدینہ، بحرین، مصر، شام، جزیرہ، یمن اور یمامہ کو شہر میں شمار کرتے تھے۔
(مصنف عبدالرزاق ج ٣ ص ٧٠ رقم الحدیث : ٥١٩١ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
شہر کی معتمد تعریف جو امام ابوحنیفہ سے منقول ہے وہ یہ ہے : وہ بڑا شہر ہو جس میں گلیاں اور بازار ہو اور اس کے مضافات ہوں اور اس میں ایسا حاکم ہو جو مظلوم کا حق ظالم سے لینے پر قادر ہو اور اس میں ایسا عالم دین ہو جو پیش آمدہ مسائل میں شرعی رہنمائی کرسکتا ہو (ردا المختارج ٣ ص ٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٩١ ھ )
(٢) دوسری شرط یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سلطان پڑھائے یا وہ شخص جو سلطان کی طرف سے مقرر ہو، تاہم مسلمان جس کے نماز جمعہ پڑھانے پر راضی ہوں وہ نماز جمعہ پڑھا سکتا ہے۔ اعلیٰحضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی لکھتے ہیں :
اقامت سلطان بمعنی مذکور ضرور شرط جمعہ ہے اور یہاں بوجہ تعذر تعیین مسلمین قائم مقام تعیین سلطان ہے۔
(فتاویٰ رضویہ ج ٣ ص ٧٤٠ مطبوعہ لائل پور، ١٣٩٣ ھ)
(٣) تیسری شرط یہ ہے کہ نماز جمعہ کے لئے ظہر کا وقت ہو۔
(٤) چوتھی شرط یہ ہے کہ نماز جمعہ سے پہلے خطبہ دیا جائے، دو خطبے دینا اور ان کے درمیان بیٹھنا سنت ہے۔
(٥) پانچویں شرط یہ ہے کہ جماعت کے سامنے خطبہ دیا جائے، خلاصہ میں تصریح ہے کہ ایک آدمی کا ہونا بھی کافی ہے۔
(٦) چھٹی شرط یہ ہے کہ نماز جمعہ کے لئے امام کے سوا جماعت ہو اور اس میں کم از کم تین آدمی ضروری ہیں۔
(٧) ساتویں شرط یہ یہ کہ نماز جمعہ کے لیء اذن عام ہو، مسجد کے دروازے آنے والوں کے لئے کھلے ہوں، ہاں ! اگر دشمن کے خطرہ کی وجہ سے یا عادت قدیمہ کی وجہ سے قلعہ کے دروازہ بند کردیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے (موجودہ دور میں صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ کی رائش بھی اسی حکم میں ہے۔ )
(الدرا المختار مع ردا المختارج ٣ ص ٤٢-٥ ملحضاً و موضحاً و مخرجاً داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
آیا اذان اول پر جمعہ کی سعی واجب ہے یا اذان ثانی پر ؟
اس آیت میں فرمایا ہے : جب جمعہ کے دن (نماز) جمعہ کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو۔
اس آیت میں یہ الفاظ ہیں : ” فاسعوا الی ذکر اللہ “ یعنی تم اللہ کے ذکر (خطبہ) کی طرف سعی کرو۔
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ٤٠٥ ھ لکھتے ہیں :
سعی کی تفسیر میں چار قول ہیں : (١) دل سے نیت کرنا (٢) نماز جمعہ کی تیاری کرنا یعنی غسل کرنا (٣) اذان کی آواز پر لبیک کہنا (٤) بغیر بھاگے ہوئے نماز کی طرف پیدل چل کر جانا۔
اور ” ذکر اللہ “ کی تفسیر میں تین قول ہیں : (١) خطبہ میں امام کی نصیحت (٢) نماز کا قوت (٣) نماز۔
اور فرمایا : خریدو فروخت کو چھوڑ دو ، یعنی نماز کے وقت خریدو فروخت سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا، ایک قول یہ ہے کہ یہ ممانعت زوال کیوقت سے لے کر نماز سے فراغت تک ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خطبہ کی اذان سے لے کر نماز سے فراغت تک ہے۔
امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ پہلی اذان بدعت ہے، اس کو حضرت عثمان (رض) نے ایجاد کیا تھا تاکہ لوگ خطبہ سننے کے لئے پہلے سے تیار ہوجائیں، کیونکہ مدینہ بہت وسیع ہوچکا تھا، اس پہلی اذان کے بعد خطبہ سے پہلے خریدو فروخت حرام نہیں ہے۔ (النکت و العیون ج ٦ ص ١٠-٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :
زیادہ صحیح یہ ہے کہ پہلی اذان کے ساتھ جمعہ کی طرف سعی کرنا واجب ہے، اگرچہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نہیں تھی، حضرت عثمان (رض) کے زمانہ میں شروع ہوئی ہے۔
علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :
” شرح المنیۃ “ میں مذکور ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس اذان پر سعی واجب ہے جو منبر کے سامنے دی جاتی ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں یہی اذان اول تھی، حتیٰ کہ حضرت عثمان (رض) نے اپنے زمانہ میں اذان ثانی شروع کی، جب لوگ زیادہ ہوگئے تو مقام زوراء پر یہ اذان دی جاتی تھی اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ وقت کے اعتبار سییہی اذان اول ہے جو کہ زوال کے بعد منارہ پر دی جاتی تھی۔
(الدرا المختار وردالمختار ج ٣ ص ٣٥ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
عید اور جمعہ دونوں ایک دن میں جمع ہوجائیں تو آیا دونوں کو پڑھنا لازم ہے یا نہیں ؟
اگر ایک دن میں عید اور جمعہ دونوں جمع ہوجائیں تو دونوں نماز کو پڑھا جائے گا۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین میں اور جمعہ میں ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ اور “ ھل اتک حدیث الغاشیۃ “ پڑھا کرتے تھ اور بعض اوقات ایک دن میں عید اور جمعہ دونوں جمع ہوجاتے تو آپ دونوں میں یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٧٨ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٣٣ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٤٢٣ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٢٨١)
علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :
ہمارا مذہب یہ ہے کہ عید اور جمعہ دونوں لازم ہیں “ ” الہدایہ “ میں ” الجامع الصغیر “ سے منقول ہے کہ دو عیدیں ایک دن میں جمع ہوگئیں، پس عید سنت ہے اور دوسرا عید (جمعہ) فرض ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کو بھی ترک نہیں کیا جائے گا۔ (ردا المختارج ٣ ص ٤٢ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
اس کے خلاف یہ حدیث ہے :
حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے حضرت زید بن ارقم (رض) سے سوال کیا : کیا آپ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھے جب ایک روز میں دو عیدیں جمع تھیں ؟ حضرت زید بن ارقم نے کہا : ہاں ! حضرت معاویہ نے پوچھا : پھر آپ نے کس طرح کیا ؟ حضرت زید نے کہا : آپ نے عید کی نماز پڑھائی، پھر جمعہ کی رخصت دے دی، جو چاہے جمعہ کی نماز پڑھے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٠٤١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣١٠)
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
” المغنی “ میں مذکور ہے کہ شعبی، نخعی اور اوزاعی کے نزدیک عید کے دن جمعہ کی نماز ساقط ہوجائے گی اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت سعد، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن الزبیر (رض) کا یہی مذہب ہے۔
اور عامۃ الفقہاء نے کہا ہے کہ آیت کے عموم اور دیگر احادیث کی بناء پر جمعہ کی نماز واجب ہے اور یہ دونوں نمازیں واجب ہیں اور ایک کے پڑھنے سے دوسری نماز ساقط نہیں ہوگی جیسے کے دن ظہر کی نماز ساقط نہیں ہوتی۔
(مغنی ابن قدامہ ج ٢ ص ٢١٢، دارالفکر بیروت) (شرح سنن ابودائود ج ٤ ص ٣٩٨-٣٩٧، مکتبۃ الرشید، ریاض، ١٤٢٠ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج کے دن دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں پس جو شخص چاہے اسے عید کی نماز جمعہ سے کافی ہوگی اور ہم جمعہ پڑھیں گے۔
(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٤٠١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣١٢)
علامہ محمود بن احمد عینی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ جو چاہے اس کے لئے عید کی نماز جمعہ سے کافی ہوگی، یہ رخصت ابتداء میں ان لوگوں کے لئے تھی جو بالائی بستیوں سے جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آتے تھے، پھر یہ امر مقرر ہو یا کہ عید کی نماز جمہ کی نماز سے کافی نہیں ہتی، حتیٰ کہ جس شخص نے عید کی نماز پڑھ لی اور امام کے ساتھ جمعہ پڑھنے حاضر نہیں ہوا وہ ظہر کی چار رکعات پڑھے گا۔
(شرح سنن ابو دائود ج ٤ ص ٤٠٢ مکتبتہ الرشید، ریاض)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 9
ٹیگز:-
سورہ الجمعہ , یوم الجمعہ , سورہ جمعہ , سورہ الجمعة , Allama Ghulam Rasool Saeedi , تبیان القرآن , اے ایمان والو , جمعہ