۱۱- باب

باب

۱۸- حدثنا أبـواليـمـان قال أخبرنا شعيب،عن الزهري قال أخبرني أبو إدريس عائذ الله بن عبدالله أن عبادة بن الصامت رضي الله عنه ، وكان شهد بدرا وهو أحد النقباء ليلة العقبة. أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وحوله عصابة من اصحابہ بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا،ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادكم ولاتأتوا ببهتان تفترونه بين ايديكم وارجلكم ، ولا تعصو في معروف ، فمن وفي منكم فاجره علی الله ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب في الدنیا فهو كفارة له ومن أصاب من ذلك شيئا ثم سترہ الله فهو إلى الله إن شاء عفا عنه، وإن شاء عاقبہ فبايعناه على ذلک۔(اطراف الحدیث: ۳۸۹۲۔ ۸۹۴ ۴ – ۸۴ ۲۷-۲۸۰۱ – ۱۳ ۷۲۔ ۷۴۶۸)

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے از زہری خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں حاضر تھے اور یہ العقبہ ( مکہ کی جس گھاٹی میں حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کو تبلیغ کے لیے جاتے تھے ) کی رات میں اہل مدینہ کے نمائندوں میں سے ایک تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ کے گرد آپ کے اصحاب کی ایک جماعت تھی ( آپ نے فرمایا: ) مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور نہ چوری کروگے اور نہ زنا کرو گے اور نہ اپنی اولاد کوقتل کرو گے اور نہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے کسی بے قصور پر افتراء با ندھو گے اور نہ کسی نیک کام میں حکم عدولی کرو گے، پھر تم میں سے جس نے اپنی بیعت ( کے عہد) کو پورا کر دیا، اس کا اجر اللہ ( کے ذمہ کرم) پر ہے اور جس نے ان کاموں میں سے کوئی کام کر لیا اور اس کو اس دنیا میں سزا دے دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جس نے ان میں کوئی کام کیا پھر اللہ نے اس پر پردہ رکھا تو وہ اللہ کی مشیت کی طرف مفوض ہے وہ اگر چاہے تو اس کو معاف کر دے اور اگر وہ چاہے تو وہ اس کو سزا دے، تب ہم نے آپ سے اس پر بیعت کر لی ۔

( صحیح مسلم:۰۹ ۱۷ سنن ترمذی:۱۴۳۹ سنن نسائی: 4172 مسندالشافعي ج 1 ص 15،مسند الحمیدی: 387 مصنف ابن ابی شیبہ ج۹ ص440 ابن الجارود: ۸۰۳ مسند ابوعوانہ : 6344 حلیة الاولیاء ج ۵ ص 126 سنن بیہقی ج 8 ص 328 سنن دارمی : ۲۴۵۳ مسند احمد ج ۵ ص ۱۴ ۳ طبع قدیم،مسند احمد : ۲۲۶۷۸۔ ج 37 ص 352، مؤسسة الرسالة بيروت)

امام بخاری نے اس حدیث کے باب کا عنوان قائم نہیں کیا اور جہاں امام بخاری باب کا عنوان قائم نہ کریں وہ باب, باب سابق کے ساتھ ملحق ہوتا ہے باب سابق میں انصار کی فضیلت کا ذکر تھا اور اس باب میں حضرت عبادہ بن الصامت کی دو فضیلتوں کا ذکر ہے ایک یہ کہ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور دوسری یہ کہ وہ لیلۃ العقبہ کے نقباء میں سے تھے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصاً حضرت عبادہ بن الصامت کا تذکرہ

(۱) ابوالیمان الحکیم بن نافع الحمصی ، ان کا تعارف گزر چکا ہے.

(۲) شعیب بن ابی حمزہ القرشی، ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے.

(۳) محمد بن مسلم الزھری ،ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے.

( ۴ )ابو دریس عائذ اللہ بن عبد اللہ بن عمر الخولانی الدمشقی، یہ حضرت ابن مسعود اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے حضرت عبادہ بن الصامت اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہما اور دیگر سے سماع کیا ہے یہ غزوہ حنین کے دن پیدا ہوۓ، عبدالملک نے ان کو دمشق کا قاضی مقرر کیا تھا ۸۰ھ میں ان کی وفات ہو گئی.

( ۵ ) حضرت عبادہ بن الصامت بن قیس بن احرم الانصاری الخزرجی یہ عقبہ اولی اور عقبہ ثانیہ میں حاضر ہوئے یہ غزوہ بدر، غزوہ احد، بیعت رضوان اور تمام مشاہد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۸۱ احادیث روایت کی ہیں، جن میں سے چھ احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور امام بخاری دو احادیث کے ساتھ منفرد ہیں اسی طرح امام مسلم بھی دو احادیث کے ساتھ منفرد ہیں ان کو سب سے پہلے فلسطین میں قاضی مقرر کیا گیا ۳۴ھ میں یہ فوت ہو گئے ۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۲۴۸)

مشکل الفاظ کے معانی

اس حدیث میں نقباء‘ کا لفظ ہے ہی نقیب ‘‘ کی جمع ہے’’ نقیب‘ کامعنی ہے قوم کا منتظم، کفیل اوران کا نمائندہ ۔ ( مختار الصحاح ص ۳۸۸)

اور اس حدیث میں عصابة ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : دس سے لے کر چالیس افراد تک کی جماعت ۔ ( التوشیح ج۱ ص ۹۹ )

اس میں فرمایا ہے : تم اپنی اولاد کوقتل نہ کرو اس سے مراد ہے : تم اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور نہ کرو ۔

’’بھتان ‘‘ اس کا معنی ہے: ایسا جھوٹ جو سننے والے کو حیران کر دے ۔ ( التوشح ج ۱ ص ۹۹)

اس میں فرمایا ہے : اور نہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے کسی بے قصور پر افتراء با ندھو گے اس سے مراد ہے: پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا اور لوگوں کی غیبت کرنا اس کو ہاتھوں اور پیروں کے سامنے کے ساتھ مقید فرمایا ہے کیونکہ بڑے بڑے کام ہاتھوں اور پیروں کی طرف منسوب ہوتے ہیں، اور ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ ہی کسی کام کے لیے کوشش کی جاتی ہے، اس لیے جرائم کی نسبت ہاتھوں اور پیروں کی طرف کی جاتی ہے اگرچہ جرائم میں باقی اعضاء بھی شریک ہوتے ہیں اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کے سامنے ان پر بہتان نہ باندھو حالانکہ تم ایک دوسرے پر گواہ ہو، جیسے کہا جاتا ہے : تم نے فلاں کے سامنے یہ بات کہی ۔ ( تنقیح الزرکشی ج۱ ص ۴۹)

حدود کے کفارہ ہونے یا نہ ہونے کی بحث

اس حدیث میں فرمایا ہے : جس نے ان ( ممنوعہ ) کاموں میں سے کوئی کام کر لیا اور اس کو اس دنیا میں سزا دے دی گئی تو وہ اس ( اس کے لیے) کفارہ ہے ۔

علامہ ابو الفرج عبد الرحمان بن شہاب الدین ابن رجب حنبلی متوفی 795 ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حدود کا قائم کرنا، ان جرائم کا کفارہ ہو جاتا ہے، امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے ۔

اس کے خلاف یہ حدیث ہے:

حضرت ابو ہریرہ بنی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پتا نہیں کہ حدود جرم کرنے والوں کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں ۔ ( سنن ابوداؤد : ۴۶۷۴ المستدرک ج ۲ ص۴۵۰) اس حدیث کی سند ضعیف ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس وقت کا ہے جب آپ کو اس کا علم نہیں دیا گیا تھا بعد میں آپ کو علم دے دیا گیا کہ حدود کفارہ ہوتی ہیں ۔ (فتح الباری لابن رجب ج۱ ص ۷۳۔ ۷۲ دارابن الجوزیہ ریاض ۱۴۱۷ھ )

فقہا ءاحناف کا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی مجرم نے حد جاری ہونے سے پہلے تو بہ کرلی تو اس کے لیے حد کفارہ ہو جاۓ گی اور یہ حدیث اسی پر محمول ہے، اور اگر اس نے حد جاری ہونے سے پہلے اپنے جرم پر توبہ نہیں کی بلکہ اپنے جرم پر مصر رہا تو اس کے لیے حد کفارہ نہیں ہوگی بلکہ وہ آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا احناف کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے محاربین ( ڈاکوؤں ) کی سزا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

ذلك لهم خزي في الدنيا ولهم في الأخرة عذاب عظيمO إلا الذين تابوا من قبل أن تقدروا عليهم ، (المائدہ: 34۔33)

یہ ان کی دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس سے پہلے توبہ کر لی کہ تم ان کو گرفتار کرو۔

چور کی سزا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

فمن تاب من بعد ظلمه وأصلح فإن الله يتوب عليه إن الله غفور رحيم ( الانه ۳۹:۰)

سوجس نے جرم کرنے کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی تو بے شک اللہ اس کی توبہ قبول فرماۓ گا بے شک اللہ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے

نیز اس حدیث میں ہے کہ جس نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر اللہ نے اس پر پردہ رکھا تو وہ اللہ کی مشیت کی طرف مفوض ہے، وہ اگر چاہے تو اس کو معاف کر دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو سزا دے ۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، پھر اللہ نے اس پر پردہ رکھ لیا تو اللہ اس سے بہت زیادہ کریم ہے کہ جس گناہ کو وہ معاف کر چکا ہے اس پر اس کو دوبارہ سزا دے۔

سنن ترمذی:2626 ، سنن ابن ماجه : 2604)۔

حدیث مذکور کی شرح، شرح صحیح مسلم میں شرح صحیح مسلم میں اس حدیث کی نہایت تفصیل سے شرح کی گئی ہے اس شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :

اسلام میں بیعت کا تصور (۲) شیخ طریقت کی شرائط (۳) بیعت برکت (۴) بیعت ارادت (۵) تبدیل بیت اور تجدید بیعت کا حکم (7) کیا ہرشخص پر بیعت ہونا فرض یا ضروری ہے ، قتل اولاد سے ممانعت کی تخصیص کے جوابات (۸) ثواب اور عذاب میں اہل سنت اور دیگر مکاتب فکر کے نظریات (۹) حدود کے کفارہ ہونے یا نہ ہونے میں مذاہب فقہاء (۱۰) حدود کے کفارہ ہونے کے متعلق دو متعارض حدیثوں میں تطبیق (10) قرآن مجید کی روشنی میں حدود کے کفارو نہ ہونے کا بیان (۱۲) حدود کے کفارہ نہ ہونے کے بارے میں فقہاء احناف کی تصریحات (۱۳) حدود کے کفارہ نہ ہونے کے بارے میں مفسرین احناف کی تصریحات ۱۴۱) مذہب احناف کے بیان میں بعض شارحین کا تسامح ۔ ( شرح صحیح مسلم :۴۳۵۰ – ج ۴ ص ۸۷۸ – 867 فرید بک سٹال لاہور)