اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَـؤُا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ فَذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Friday، 29 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَـؤُا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ فَذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنہوں نے (تم سے) پہلے کفر کیا تھا، انہوں نے اپنے کرتوتوں کی سزا (دنیا میں) چکھ لی اور (آخرت میں) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنہوں نے (تم سے) پہلے کفر کیا تھا، انہوں نے اپنے کرتوتوں کی سزا (دنیا میں) چکھ لی اور (آخرت میں) ان کے لیء درد ناک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انکے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے کہا : کیا بشر ہمیں ہدایت دیں گے ! پس انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیرا، اور اللہ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اللہ بےنیاز ہے تعریف کیا ہوا۔ کافروں کا یہ باطل گمان ہے کہ ان کو مرنے کے بعد نہیں اٹھایا جائے گا، آپ کہیے، کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم ! تم کو ضرور بہ ضرور اٹھایا جائے گا، پھر تم کو تمہارے کرتوتوں کی ضرور بہ ضرور خبر دی جائے گی اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ (التغابن : ٧-٥)
اس آیت میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور اس میں سابقہ امتوں کے اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو ان کے مسلسل کفر اور عناد کی وجہ سے دنیا میں دیا گیا تھا اور اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیء آخرت میں تیار کیا گیا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 5