أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَـنَا فَكَفَرُوۡا وَتَوَلَّوْا‌ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ ۞

ترجمہ:

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے کہا : کیا بشر ہمیں ہدایت دیں گے ! پس انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیرا اور اللہ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اللہ بےنیاز ہے تعریف کیا ہوا.

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشر کہنے کی تحقیق

التغابن : ٦ میں فرمایا : تو انہوں نے کہا، کیا بشر ہمیں ہدیات دیں گے ! پس انہوں نے کفر کیا۔

ان کے کفر کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بشریت کو رسالت کے منفای سمجھا اور پتھر کے بتوں کو الوہیت کے منافی نہیں سمجھا، انہوں نے رسولوں کی رسالت کا انکار کیا اور اللہ کی اطاعت اور عبادت سے منہ پھیرا اور لاپرواہی برتی۔

انہوں نے رسولوں کی تحقیر کرتے ہوئے کہا : کیا بشر ہمیں ہدایت دیں گے ! اور یہ نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے رسالت کے لئے منتخب فرما لیتا ہے۔

رسولوں کی بشریت کا انکار کرنا کفر ہے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی فرماتے ہیں :

اور جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے، قال تعالیٰ :

(بنی اسرائیل : ٩٣) آپ کہیے : میرا رب ہر عیب سے پاک ہے، میں صرف بشر رسول ہوں۔ (قتاویٰ رضویہ ج ٦ ص ٦٧ متکبہ رضویہ، کراچی، ١٤١٢ ھ)

لیکن رسول ا للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف بشر کہنا صحیح نہیں ہے آپ کو افضل البشر یا سید البشر کہنا چاہیے۔

شیخ اسماعیل دہلوی متوفی ١٢٢٦ ھ نے لکھا ہے :

یعنی کسی بزرگ کی تعریف میں زبان سنبھال کر بولو اور جو بشر کی سی تعریف ہو سو وہی کرو سو ان میں بھی اختصار کرو۔ (تقویۃ الایمان ص ٤٤، مطبع علمی، ی لاہور)

جب کسی شخص کی صفات ذکر کی جائیں تو ان صفات کا ذکر کرنا چاہیے جن صفات میں وہ دوسروں سے ممتاز ہو، اسی وجہ سے جب صحابہ نے کہا : کیا ہم آپ کے (یدین) بھائی نہیں ہے تو آپ نے فرمایا : تم میرے اصحاب ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابیھ تک نہیں آئے (یعنی بعد کے لوگ۔ ) (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٩ )

آپ نے صحابہ کو بھائی کہنا پسند نہیں فرمایا کیونکہ اس صفت میں بعد کے لوگ بھی مشترک ہیں اور ان کو اصحاب فرمایا، کیونکہ یہی ان کا امتیازی وصف ہے تو آپ کو صرف بشر کہنا کس طرح درست ہوگا جس وصف میں نہ صرف عام مسلمان بلکہ کفار بھی مشترک ہیں۔

اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن معسود نے فرمایا : جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ پڑھو تو سب سے حسین صلوۃ پڑھو، کیونکہ تم کو معلوم نہیں یہ صلوۃ آپ پر پیش کی جاتی ہے، لوگوں نے کہا، آپ ہمیں سکھائیں، ہم کیسے صلوۃ پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو :” اللھم اجعل صلاتک و رحمتک و برکاتک علی سید المرسلین و امام المتقین و خاتم النبین محمد عباک و رسولک امام الخیر و قائد الخیر و رسول الرحمۃ اللھم ابعثہ مقامات محموداً یغبطہ بہ الاولون والاخرون الحدیث “ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٠٦)

القرآن – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 6