وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِىۡۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ – سورۃ نمبر 63 المنافقون آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Friday، 29 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِىۡۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے کچھ (ہماری راہ میں) خرچ کرو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے پھر وہ کہے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے کچھ اور دنوں کی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں صدقہ کرتا اور نیکوں میں سے ہوجاتا۔
المنافقون : ١٠ میں فرمایا ہے کہ موت آنے سے پہلے ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو، اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیئ، اسی طرح تمام فرائض ہیں۔
حج میں تاخیر کے جواز سے حضرت ابن عباس کی تفسیر پر اعتراض اور اس کا جواب
نماز اور زکوۃ کی ادائیگی میں قصدات تاخیر کی تو یہ بالاتفاق گناہ ہے، لیکن حج کی ادائیگی میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کے نزدیک جیسے ہی مسلمان زاد راہ، سواری اور دیگر ضروری اخراجات پر قادر ہوا، اس پر اسی سال حج فرض ہوجاتا ہے اور اگر اس سال اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو گناہ گار ہوگا۔ اور امام محمد اور امام شافعی کے نزدیک حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے اور ضروری نہیں کہ جس سال وہ حج کے اخراجات پر قادر ہوا اسی سال اس کو موت آجائے، اس لئے اگر اس نے حج میں تاخیر کی اور اس سال حج نہیں کیا تو وہ گناہگار نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر ج ٢ ص ٤٢٠-٤١٧، دارالکت بالعلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ علاء الدین ابوبکر بن مسعود کا سانی متوفی ٥٨٧ لکھتے ہیں :
امام محمد اور امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حج کو مطلقاً فرض کیا ہے اور یہ قید نہیں لگائی کہ فرضیت کے پہلے سال ہی حج کیا جائے، مکہ ٨ ھ میں فتح ہوا تھا اور رسول اللہ نے ١٠ ھ میں حج کیا ہے، اگر حج فوراً واجب ہوتا تو آپ اسی سال حج کرلیتے نیز اگر اسی سال حج فرض ہو تو جو شخص ایک سال بعد حج کرے تو یہ کہنا چاہیے کہ اس نے حج کو قضا کیا ہے اور یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اس نے حج کو ادا کیا ہے اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ ہرچند کہ حج مطلقاً فرض ہے اور فوراً حج کرنے کی قید نہیں ہے لیکن احتیاط کا یہی تقاضا ہے کہ فوراً حج کرلیا جائے کیونکہ موت کا کوئی پتا نہیں۔
(بدائع الصنائع ج ٣ ص 42-43 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہے : جس نے حج نہیں کیا اور اس کو موت آگئی تو وہ المنافقون ٩-١١ کا مصداق ہوگا حلانکہ بعض ائمہ کے نزدیک حج میں تاخیر کرنا جائز ہے۔ علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے اور اجتہادی مسائل وعید میں داخل نہیں ہیں۔ (احکام القرآن ج ٤ ص ٢٥٩ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٠٨ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 63 المنافقون آیت نمبر 10