أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمہ:

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہے.

کافروں کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے ؟

التغابن : ٤ میں فرمایا : وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ کافر کفر کریں گے پھر ان کو پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں ضرور حکمت ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم کو اس حکمت کا علم بھی ہو۔

(تفسیر کبیرج ١٠ ص 552-553 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

میں کہتا ہوں کہ اس میں یہ حکمت ہے کہ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی صفت قہر اور غضب کا ظہور ہو جی اس کہ بعض روایات میں ہے : میں چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جائوں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔

(اللالی المنثورۃ للزر کشی رقم الحدیث : ١١٣ المتکب الاسلامی، بیروت، ١٤١٧ ھ)

ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ نے لکھا ہے : اس حدیث کی کوئی سند نہیں ہے لیکن اس کا معنی صحیح ہے۔ (الاسرار المرفوعہ رقم الحدیث : ١٩٦)

سو مئومنوں کے پیدا کرنے سے اس کی صفت رحمت کا ظہور ہوا اور کافروں کو پیدا کرنے سے اس کی صفت غضب کا ظہور ہوا۔

القرآن – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 4