أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَقُوۡلُوۡنَ لَئِنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ ‌ؕ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلٰـكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ کہتے ہیں کہ اگر (اب) ہم مدینہ واپس گئے تو ضرور عزت والا، ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے ہے اور ایمان والوں کے لئے ہے لیکن منافقین نہیں جانتے ؏

مئومنوں کی عزت کا معنی

المنافقون : ٨ میں فرمایا : حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے ہے اور ایمان والوں کے لئے ہے لیکن منافقین نہیں جانتے۔ امام فخر الدین حمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

عزت تکبر کے مغائر ہے اور مئومن کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلت میں رکھے، پس مئومن کی عزت یہ ہے کہ اس کو اپنی حقیقت کی معرفت حاصل ہو اور وہ اپنے آپ کو دنیا کی عارضی منفعت سے بچا کر رکھے اور تواضح کرے اور جو انسان تکبر کرتا ہے وہ اپنی حقیقت سے جاہل ہوتا ہے، پس عزت صورت کے اعتبار سے تکبر کے مشابہ ہے اور حقیقت کے اعتبار سے تکبر کے خلاف ہے، جیسا کہ تواضح بہ ظاہر ذلیل ہونا ہے اور حقیقت کے اعتبار سے ذلت کے خلاف ہے اور تواضح محمود ہے اور ذلت مذموم ہے اور تکبر مذموم ہے اور عزت محمود ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کافر کے متعلق فرمایا :

(الاحقاف : ٢٠) پس آج تم کو ذلت والا عذاب چکھایا جائے گا کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور فسق کرتے تھے۔

اور اس میں یہ خفیف اشارہ ہے کہ وہ عزت جس میں کبریائی اور بڑائی ہو وہ صرف اللہ کا حق ہے اور مئومنوں کے لئے جو عزت ہے وہ کبریائی اور بڑائی کی آمیزش سے خالی ہے اور تواضح اور انکسار کو متضمن ہے اور کفار اور منافقین کے لئے کسی قسم کی کوئی عزت نہیں ہے۔ (تفسیر کبیرج ١٠ ص ٥٤٩ دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 63 المنافقون آیت نمبر 8