يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلۡهِكُمۡ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ سورۃ نمبر 63 المنافقون آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Friday، 29 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلۡهِكُمۡ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جس نے ایسا کیا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جس نے ایسا کیا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے کچھ (ہماری راہ میں) خرچ کرو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے، پھر وہ کہے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے کچھ اور دنوں کی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں صدقہ کرتا اور نیکوں میں سے ہوجاتا۔ اور جب کسی شخص کی مقرر مدت کا وقت آجاتا ہے تو اللہ اس کی روح ( قبض کرنے) کو ہرگز مئوخر نہیں کرتا، اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ (المنافقون : ١١-٩)
اللہ کے ذکر کی مختلف تفسیریں
ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر اللہ سے مراد حج اور زکوۃ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید کو پڑھنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد دائمی طور پر ذکر کرنا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد پانچ نمازیں ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد تمام فرائض ہیں۔
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا، جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کرسکے یا جس کے پاس اتنا مال ہو جس پر زکوۃ واجب ہو اور وہ حج نہ کرے اور زکوۃ نہ دے تو وہ موت کے وقت مہلت کا سوال کرتا ہے، ایک شخص نے کہا، اے ابن عباس ! اللہ سے ڈریئے، دوبارہ دنیا میں لوٹنے کا سوال تو صرف کافر کرتے ہیں، اس پر حضرت ابن عباس نے اس کے سامنے المنافقون : ١١-٩ آیات کی تلاوت کی۔
اس شخص نے پوچھا، زکوۃ کتنے مال پر واجب ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : دو سو درہم پر (٢٠٠٥ ء میں تقریباً آٹھ ہزار روپوں پر) اس نے پوچھا : حج کس شخص پر واجب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس شخص کے پاس زاد راہ اور سواری ہو۔ )
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣١٦ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٨٠٤١ مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٨)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 63 المنافقون آیت نمبر 9