۱۲- باب من الدين الفرارمن الفتن

فتنوںں کے زمانے میں شہر سے بھاگنا بھی امور دین سے ہے

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ اس باب میں یہ ذکر ہے کہ مسلمان اپنے دین کوفتنہ سے بچانے کے لیے شہر سے بھاگ جاۓ اور باب سابق میں نقباء انصار کا ذکر تھا جو فتنہ کفر سے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوگئے تھے۔

۱۹- حدثنا عبد لله بن مسلمة ، عن مالك، عن عبد لرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابی صعصعة ، عن أبيه ، عن أبي سعيد الخدري انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوشك أن يكون خيـر مـال الـمـسـلـم عـنـما يتبع بها شعف الجبال و مواقع القطر، يفر بدينه من الفتن .

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسلمہ امام مالک روایت کرتے ہیں وہ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمان بن ابی صعصعہ سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد سے، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو اپنے پیچھے چلا کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش ہونے کی جگہوں پر چلا جاۓ اور اپنے دین کو بچانے کے سبب سے فتنوں سے بھاگ جاۓ.

(اطراف الحدیث : ۳۳۰۰ – 3600- ۲۴۹۵ – 6495- 7088- )

 

( سنن ابوداؤد : ۴۲۶۷، سنن نسائی :۵۱ ۵۰ سنن ابن ماجہ :3980 مسند الحمیدی: ۷۳۳ مسند ابویعلی : 983 صحیح ابن حبان : ۵۹۵۵ مسند احمد ج ص 6 طبع قدیم مسند احمد : 11032 ۔ ج ۔17 ص 79 مؤسسة الرسالة بیروت))

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کا تذکرہ

(۱) عبد الله بن مسلمہ بن قعنب ابوعبدالرحمان الحارثی البصری، یہ مستجاب الدعوات تھے انہوں نے امام مالک، لیث بن سعد اور مخرمہ بن بکیر سے سماع کیا ہے ان کی توثیق اور جلالت پر اتفاق ہے امام بخاری اور امام مسلم نے ان سے بہت سی احادیث روایت کی میں یہ ۲۲۱ ھ میں مکہ میں فوت ہو گئے.

( ۲ ) امام مالک بن انس، امام دار الہجرت ہیں، ان کا تعارف ہو چکا ہے .

( ۳) عبد الرحمان بن عبد اللہ الانصاری المدنی ہیں، امام ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے امام بخاری امام مسلم امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں یہ ۱۳۹ ھ میں فوت ہو گئے تھے.

(۴) عبدالرحمان کے والد عبداللہ بن عبد الرحمان الانصاری ہیں امام نسائی اور امام ابن حبان نے ان کو ثقہ کہا ہے امام بخاری اور امام ابوداؤد نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.

(۵) حضرت ابوسعید سعد بن مالک بن سنان الخزرجی الانصاری ہیں رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ احد میں ان کو کم سن قرار دے کر شامل نہیں کیا گیا اور اس کے بعد بارہ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے، انہوں نے ۱۷۰ احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ۴۶ پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں ۱۲ احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور ۵۲ احادیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں انہوں نے صحابہ کی ایک جماعت سے بھی احادیث روایت کیں، ان میں خلفاء اربعہ، ان کے والد مالک اور ان کے اخیافی بھائی حضرت قتادہ بن نعمان بھی ہیں ان سے صحابہ کی ایک جماعت نے احادیث روایت کی ہیں، ان میں حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور بہت سے تابعین ہیں، یہ مدینہ میں 46ھ یا 47ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔ ( عمدة القاری ج۱ ص 260)

حضرت ابو سعید کو خدری اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوسعید کے اجداد میں سے ایک خدرہ کے رہنے والے تھے اور خدرہ یمن کا ایک علاقہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انصار اصل میں یمن کے رہنے والے تھے ۔ ( عمدة القاری ج ا ص۲۶۱)

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں فتنہ سے بھاگنے کا ذکر ہے اور یہی اس باب کا عنوان ہے۔

ایام فتنہ میں عزلت نشینی کا استحباب

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فتنوں کے زمانہ میں شہروں اور آباد علاقوں سے نکل کر جنگلوں اور ویرانوں میں چلے جانا چاہیے لیکن یہ اس شخص کے لیے مشروع ہے جس کو فتنہ زائل کر نے پر قدرت نہ ہو اور جس کوازالہ فتنہ پرقدرت ہو کہ وہ فتنہ کے ازالہ کے لیے کوشش کرے اور اس کے لیے یہ فرض عین ہے، اگر وہ منفرد ہو اور اگر ایسے متعد دلوگ ہوں تو پھر فرض کفایہ ہے اور جب فتنہ کے ایام نہ ہوں تو پھر علماء کا عزلت نشینی اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں اختلاف ہے کہ ان میں کیا چیز افضل ہے امام شافعی اور اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا افضل ہے کیونکہ اس سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں شعائر اسلام میں حاضر ہونے کا موقع ملتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کے مواقع ملتے ہیں، ان کی عیادت کی جاتی ہے ان کے جنازہ میں شرکت ہوتی ہے، ان کو کثرت سے سلام کیا جاتا ہے، نیکی کا حکم دیا جاتا ہے، برائی سے روکا جاتا ہے نیکی اور تقوی کے کاموں میں تعاون کیا جاتا ہے اور محتاجوں کی مدد کی جاتی ہے اور یہ وہ کام ہیں، جن کو ہر شخص کر سکتا ہے اور اگر وہ شخص عالم اور زاہد ہوتو مل جل کر رہنا اور زیادہ مؤکد ہوجاتا ہے ۔ دوسرے علماء نے کہا ہے کہ اس صورت میں بھی عزلت نشینی افضل ہے کیونکہ اس میں سلامتی محقق ہے بہ شرطیکہ وہ جن عبادات کا مکلف ہے ان کی ادائیگی کا طریقہ اس کو معلوم ہو اور جس شخص کو یہ خطرہ نہیں ہے کہ وہ گناہوں میں مبتلا ہو جاۓ گا اس کے لیے مل جل کر رہنا افضل ہے علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں سے الگ ویرانوں میں رہنا افضل ہے کیونکہ بہت کم محافل گناہوں سے خالی ہوتی ہیں علامہ عینی فرماتے ہیں : میں بھی ان کا ہم نوا ہوں، کیونکہ اس زمانہ میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں شر اور فساد سے بچنا بہت مشکل ہے ۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فتنوں سے دور رہنا چاہیے سلف صالحین کی ایک جماعت فتنوں کے خطرہ سے بستیوں سے نکل گئی تھی، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے فتنہ کے زمانہ میں ربذہ چلے گئے تھے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ آخر زمانہ میں فتنہ اور فساد برپا ہوگا اور یہ غیب کی خبر ہے اور آپ کا معجزہ ہے ۔

اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ اس حدیث میں عزلت نشینی کو ترجیح دی ہے جب کہ شارع نے اس کو مستحب قرار دیا ہے کہ محلہ کے سب مسلمان مل کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور شہر کے سب لوگ جمع ہو کر جمعہ کی اور عید کی نماز پڑھیں اور تمام ملکوں کے مسلمان حج کے لیے جائیں اور میدان عرفات میں جمع ہوں خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کا حکم شریعت میں معلوم اور مشہور ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کا حکم اس وقت پسندیدہ ہے جب امن ہو اور عزلت شینی اس وقت پسند یدہ ہے جب فتنہ کا زمانہ ہو ۔

( عمدة القاری ج۱ ص 264۔263 دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )