أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ ‌ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تو صرف آزمائش ہیں اور اللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تو صرف آزمائش ہیں اور اللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے۔ پس تم جتنا ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور (احکام) سنو اور اطاعت کرو، اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور جو لوگ اپنے نفسوں کے بخل سے بچا لئے گئے، تو وہی لوگ اخروی کامیابی پانے والے ہیں۔ اور اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہارے لئے اس (کے اجر) کو دگنا کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ نہایت قدر دان بہت حلم والا ہے۔ وہ ہر غیب اور شہادت (باطن و ظاہر) کو جاننے والا، بہت غالب بےحد حکمت والا ہے۔ (التغابن :15-18)

اہل و عیال کا آزمئاش ہونا اور اجر عظیم کی تفسیر

التغابن : ١٥ میں فرمایا : تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تو صرف آزمائش ہیں۔

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے، اس وقت حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) آئے، وہ دو سرخ قمیضیں پہنے ہوئے تھے اور چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے اترے اور انکو اپنے سامنے بٹھایا، پھر کہا : اللہ عزوجل نے سچ فرمایا ہے : تمہارے اموال اور تمہاری اوالد تو صرف آزمئاش ہے، میں نے ان بچوں کی طرف دیکھا کہ یہ چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا حتیٰ کہ میں نے اپنی بات منقطع کی اور ان کو اٹھایا، اس کے بعد آپ نے خطبہ شروع کیا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٠٩ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٧٧٤ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٠٠ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٠٣٩، مسند احمد ج ٥ ص ٣٥٤ )

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : اور اللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے، اجر عظیم کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابو عسدی خدرضی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزو جل اہل جنت سے ارشاد فرمائے گا، اے جنت والو، وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم تیری اطاعت کے لئے حاضر ہیں، اللہ فرمائے گا : کیا تم راضی ہو ؟ وہ کہیں گے، ہم کیوں راضی نہیں ہوں گے، تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا کی ہیں جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں کیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا میں تم کو اس سے بھی افضل نعمت عطا نہ کروں ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! اس سے افضل اور کون سی نعمت ہوگی ؟ اللہ سبحانہ، فرمائے گا : میں تم پر اپنی رضا حلال کردیتا ہوں، اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٢٩ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٥ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٤٤٠، مسند احمد ج ٣ ص ٨٨)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی رضا ہے لیکن یہ نعمت جنت ملنے کے بعد حاصل ہوگی اس لئے مسلمان جنت کی طلب کریں اور جنت میں اللہ کی رضا کو طلب کریں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 15