فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَاسۡمَعُوۡا وَاَطِيۡعُوۡا وَاَنۡفِقُوۡا خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡؕ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 16
sulemansubhani نے Saturday، 30 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَاسۡمَعُوۡا وَاَطِيۡعُوۡا وَاَنۡفِقُوۡا خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡؕ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞
ترجمہ:
پس تم جتنا ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور (احکام) سنو اور اطاعت کرو اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے نفسوں کے بخل سے بچا لئے گئے تو وہی لوگ اخروی کامیابی پانے والے ہیں.
بہ قدرت اللہ سے ڈرنے کا حکم
التغابن : 16 میں فرمایا، پس تم جتنا ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہ۔
یعنی مئومن کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق تقویٰ کے حصول کی کوشش کرے۔ قتادہ نے کہا، اس آیت نے درج ذیل آیت کو منسوخ کردیا ،
اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : ١٠٢) اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔
اور دوسرے علماء نے کہا : یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور اس آیت کا یہی محمل ہے کہ تم جس قدر تقویٰ کرسکتے ہو اس قدر تقویٰ کرو اور وہی تمہارے اعتبار سے تقویٰ کرنے کا حق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا اور تم اللہ کے احکام پر عمل کرتے رہو اور اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرتے رہو۔
اس کے بعد اس آیت میں فرمایا : اور جو لوگ اپنے نفس کے بخل سے بچا لئے گئے، تو وہی لوگ اخروی کامیابی پانے والے ہیں۔
اس آیت میں ” الشح “ کا لفظ ہے، اس کا معنی بخل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی ظلم ہے، اس کی مکمل تفسیر الحشر : ٩ میں گزر چکی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 16