أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالنُّوۡرِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلۡنَا‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

سو تم اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو تم اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ جس دن وہ تم سب کو جمع ہونے کے دن جمع فرمائے گا وہی دن (کفار کے) نقصان کا دن ہے، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے، اللہ ان کے گناہوں کو ان سے مٹا دے گا اور ان کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اوہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہی دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہین والے ہیں اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ (التغابن : ١٠-٨)

قرآن مجید کو نور فرمانے کی وجہ

التغابن : ٦-٥ میں بتایا تھا کہ جو قومیں اپنے رسولوں پر ایمان نہیں لائیں ان کو دنیا میں عذاب دیا گیا، پس اب اہل مکہ سے فرمایا : تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آئو تاکہ تم پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو پچھلی امتوں پر نازل ہوچکا ہے۔

اور اس آیت میں فرمایا ہے : اور اس نور پر ایمان لائو جو ہم نے نازل کیا ہے، اس نور سے مراد قرآن مجید ہے، کیونکہ جس طرح حسی نور اندھیرے میں ہدایت دیتا ہے، اسی طرح قرآن مجید شکوک اور شبہات کے اندھیروں اور کفر اور گم راہی کی ظلمتوں میں ہدایت دیتا ہے اور فرمایا، اللہ تمہارے تمام کاموں کی خبر رکھنے والا ہے تم خلوت اور جلوت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 8