أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌ ؕ وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ‌ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَىۡءٍ قَدۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ اسے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک انداز رکھا ہے۔

اس کے بعد فرمایا : اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ اسے کافی ہے۔

توکل کا معنی اور توکل کے متعلق احادیث

تو کل کا معنی اسباب کو ترک کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ کسی چیز کے حصول کے لیے پوری کوشش کی جائے، اس کے تمام اسباب مہیا کئے جائیں اور پھر اس کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، اور یہ ضروری نہیں ہے کہ جو شخص کسی چیز کے لیے اللہ پر توکل کرے، اس کو وہ چیز حاصل ہوجائے کیونکہ کئی متوکلین مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں اور راہ حق میں شہید ہوجاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں کو آخرت میں عظیم ثواب عطاء فرماتا ہے اور ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، تو کل کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص فاقہ میں مبتلا ہو اور وہ لوگوں کے سامنے اپنے فاقہ کو بیان کرے تو اللہ اس کے فائدہ کو دور نہیں کرتا اور جس شخص کو فاقہ ہو اور وہ اللہ سے کہے تو اللہ اس کو جلد یا بہ دیر رزق عطاء فرمائے گا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٤٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٢٦ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے سامنے ( متعدد) امتیں پیش کی گئیں، پس ایک نبی یا دو نبی گزرتے اور ان کے ساتھ ایک جماعت ہوتی، اور ایک نبی گزرتا اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہوتا، پھر میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت ظاہرہوئی، میں نے پوچھا : کیا یہ میری امت ہے ؟ مجھے بتایا گیا یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی امت ہے، پھر مجھ سے کہا گیا کہ آپ آسمان کے کناروں کی طرف دیکھئے، تو وہاں ایک جماعت تھی جس نے تمام آسمان کے کناروں کو بھر لیا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ آپ ادھر اور ادھر آسمان کے کناروں کو دیکھیں وہاں سے بہت بڑی جماعت تھی، جس نے تمام آسمانوں کے کناروں کو بھر لیا تھا، کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان لوگوں میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، پھر آپ گھر چلے گئے اور یہ نہیں بتایا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ مسلمانوں نے اس میں غور و فکر کیا اور کہا : یہ ہم لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے اس کے رسول کی اتباع کی اور یہ ہم ہیں اور ہماری وہ اولاد ہے جو اسلام پر پیدا ہوئی، کیونکہ ہم لوگ تو زمانہ جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے باہر آ کر فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کراتے تھے اور نہ بد شگونی کرتے تھے اور نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے، پھر حضرت عکاشہ بن محصن نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! ایک اور شخص نے پوچھا : کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تم پر عکاشہ نے سبقت کرلی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٠٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٢٠، العجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٥٢، مسند احمد ج ١ ص ٤٠٣)

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تم کو اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر آتے ہیں۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٤، شعب الایمان رقم الحدیث : ١١٨٢)

حضرت مطلب بن حنطب (رض) بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے جن کاموں کا حکم دیا تھا، میں نے تمہیں ان تمام کاموں کا حکم دے دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جن کاموں سے منع کیا تھا میں نے تمہیں ان تمام کاموں سے منع کردیا ہے اور بیشک الروح الامین نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک ہرگز نہیں مرے گا حتیٰ کہ وہ اپنے رزق کو پورا کرلے پس تم اچھی طرح طلب کرو۔ دوسری روایت میں ہے : حلال تو طلب کرو اور حرام کو ترک کردو۔ ( المستدرک ج ٢ ص ٤، شعیب الایمان رقم الحدیث : ١١٨٧، ١١٨٦، السنۃ لابی العاصم ج ١ ص ١٨٣)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رزق بندہ کو اس طرح طلب کرتا ہے جس طرح اس کی موت اس کو طلب کرتی ہے۔

( صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٢٢٧، مسند البزار رقم الحدیث : ١٢٥٤، شعب الایمان رقم الحدیث : ١١٩١، الترغیب و الترہیب ج ٢ ص ٥٣٦)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن حج کرتے تھے اور زادراہ نہیں لے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ توکل کرنے والے ہیں اور جب مکہ پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

(وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی) (البقرہ : ١٩٧) (اور زاد راہ ( سفر خرچ) لیا کرو، بہترین زاد راہ تقویٰ ( اللہ سے ڈرنا اور سوال نہ کرنا) ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٢٣ )

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اسباب کو ترک کرنا توکل نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا : بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔

اللہ کے کام کو پورا کرنے کے محامل

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جو کچھ پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کو پورا کرنے والا ہے۔

مسروق نے کہا : کوئی شخص اللہ پر توکل کرے یا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جو مقدر کیا ہے وہ اس کو پورا کرنے والا ہے، البتہ جو اس پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اس کے اجر کو زیادہ کردیتا ہے۔

ہر چیز کے اندازہ سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت اور اس کا انجام مقرر ہے، اس لئے یہ واجب ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر توکل کے اور تمام معاملات اس کے سپرد کر دے، مقاتل نے کہا : ہر چیز کے لیے سختی اور آسانی اور اس کی مدت مقدر اور مقرر ہے۔

الطلاق : ٣ کے آخر میں فرمایا : بیشک اللہ نے ہر چیز کا اندازہ رکھا ہے۔

تقدیر کے متعلق قرآن مجید کی آیات

اس آیت میں تقدیر کا بیان ہے، تقدیر کے متعلق قرآن مجید کی یہ آیتیں بھی ہیں :

وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا (الفرقان : ٢) ( اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کو مقرر شدہ اندازے پر رکھا )

وَکَانَ اَمْرُ اللہ ِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا (الاحزاب : ٣٨) (اور اللہ کا کام مقرر شدہ اندازے پر ہے )

اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ (القمر : ٤٩) (ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا )

تقدیر کا لغوی اور اصطلاحی معنی

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

تقدیر کا معنی ہے : کسی چیز کی مقدار کو معین کرنا اور اللہ کی تقدیر کا معنی ہے : کسی چیز کو حکمت کے تقاضے سے مخصوص مقدار مخصوص صفت اور مخصوص مدت کے لیے بنانا اور اس کی دو قسمیں ہیں (١) کسی چیز کو دفعۃً اور ابتدائً کامل بنانا بایں طور کہ اس میں بعد میں زیادتی، کمی یا تبدیلی نہ ہو، جیسے سات آسمان (٢) اس چیز کے اصول موجود بالفعل ہوں اور اس کے اجزاء موجود بالقوہ ہوں اور اس کو اس اندازے سے بنایا جائے کہ اس سے وہ چیز موجود نہ ہو کہ کوئی اور چیز جیسے کھجور کی گٹھلی کو اس اندازے سے بنایا کہ اس سے کھجور ہی پیدا ہوگی، سیب پیدا نہیں ہوگا اور انسان کو منی کو اس اندازے سے بنایا کہ اس سے انسان ہی پیدا ہوگا کوئی اور حیوان پیدا نہیں ہوگا۔ ( المفردات : ٢ ص ٥١١، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ) ۔

علامہ مبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

احادیث میں تقدیر کا ذکر بہت زیادہ ہے، اس کا معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کام کو کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کو حکم کردیا۔

(النہایہ ج ٤ ص ٢٠، دارالکتب العلمیہ، ٤١٨ ھ)

دراصل یہ دو لفظ ہیں : قضاء اور قدر، علامہ ابن اثیر الجزری نے جو معنی لکھا ہے وہ قضاء کا ہے، اور قدر یعنی تقدیر کا وہی معنی ہے جو علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے۔

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

تقدیر کے کئی معانی ہیں (١) کسی چیز کو بنانے اور تیار کرنے میں غور و فکر کرنا (٢) کسی چیز کو ختم کرنے کے لیے علامات مقرر کرنا (٣) دل میں کسی چیز کو سوچنا اور قیاس کرنا۔

القدریہ وہ فرقہ ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے اور اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کا نام ہے، انسان کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کو انسان کا علم تھا، اس کو علم تھا کہ کون انسان کفر کرے گا اور کون انسان ایمان لائے گا، اس نے اپنے اس علم سابق کو لکھ دیا اور جس کے لیے جو لکھا ہے وہ اس پر آسان کردیا۔ ابو منصور ما تریدی نے کہا : اللہ تعالیٰ کو ہر انسان کے متعلق اندازہ ( پیشگی علم) تھا کہ وہ جتنی ہوگا یا دوزخی ہوگا اور اسے انسان کو پیدا کرنے سے پہلے اس کا علم تھا، سو اس نے اپنے اس پیشگی علم کو لکھ دیا اور یہی تقدیر ہے۔ ( لسان العرب ج ١٢ ص ٣٧، دارصادر، بروت، ٢٠٠٣ ء)

تقدیر کی وضاحت اور اس کا کھوج لگانے کی ممانعت

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی الشافی متوفی ٤٢ ھ لکھتے ہیں :

تقدیر ایمان لانا فرض لازم ہے اور وہ یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام افعال کا خالق ہے خواہ وہ خیز ہوں یا شر ہوں، اللہ تعالیٰ نے بندوں کو پیدا کرنے سے پہلے ان کے افعال کو لوح محفوظ میں رکھ دیا تھا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَ اللہ ُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ (الصافات : ٩٦) (اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو )

پس ایمان اور کفر اطاعت اور معصیت سب اللہ کی قضاء اور قدر سے ہے اور اس کے ارادہ اور اس کی مشیت سے ہے، البتہ وہ ایمان سے راضی ہوتا ہے اور کفر سے ناراض ہوتا ہے ( دراصل بندہ جس فعل کا ارادہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں وہی فعل پیدا کردیتا ہے، بندہ کے ارادہ کو کسب کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کو خلق کہتے ہیں اور بندہ جو برے کاموں پر سزا کا مستحق ہوتا ہے اور اچھے کاموں میں جو اس کو جزا دی جاتی ہے وہ اس کے کسب کے اعتبار سے ہے۔ سعیدی غفرلہٗ ) اور اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اطاعت پر ثواب کا وعدہ فرمایا ہے، اور وہ کفر اور معصیت سے راضی ہوتا، اور اس نے کفر اور معصیت پر عذاب کی وعید سنائی ہے اور ثواب عطاء فرمانا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے۔

اور تقدیر اللہ تعالیٰ کے اسرار میں سے ایک سر ( راز) ہے، جس پر اس نے کسی مقرب فرشتہ کو مطلع فرمایا ہے نہ کسی نبی مرسل کو ( ہماری تحقیق یہ ہے کہ انبیاء علہیم السلام کو دنیا میں تقدیر کی حقیقت معلوم ہے اور عام مومنوں کو آخرت میں تقدیر کی حقیقت پر مطلع کیا جائے گا، سعیدی غفرلہٗ ) تقدیر میں غور و خوض کرنا اور عقل سے اس میں بحث کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر اس کے دو فرقے کردیئے، دائیں جانب والوں کو اپنے فضل سے جنت کے لیے پیدا کیا اور بائیں جانب والوں کو اپنے عدل سے دوزخ کے لیے پیدا کیا، ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے لوسوال کیا : اے امیر المومنین ! مجھے تقدیر کے متعلق بتایئے، آپ نے فرمایا : یہ اندھیرا راستہ ہے تم اس میں مت چلو، اس نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کا راز ہے جو تم سے مخفی ہے، تم اس کی تفتیش مت کرو۔

(الکاشف عن حقائق السنن ج ١ ص ٢١٥، ادارۃ القرآن، کراچی، ١٤١٣ ھ)

ملام علی بن سلطان محمد القاری الحنفی نے بھی اس عبارت کو نقل کیا ہے۔ ( مرقاۃ المفاتیح ج ١ ص ٢٥٧، مکتبہ حقانیہ، پشاور)

خلق اور تقدیر کا فرق

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا (الفرقان : ٢) (اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کو مقرر شدہ اندازے پر رکھا )

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا، اس کا معنی ہے کہ انسان کے اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔

پھر فرمایا : اور اس کو مقرر شدہ اندازہ پر رکھا، یعنی وہ ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا اور اس میں وہ خاصیت مہیا کی، جس کی اس میں صلاحیت اور استعداد تھی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اس نے انسان کو اس مقدار اور شکل پر پیدا کیا جس کو تم دیکھ رہے ہو اور اس میں ان کاموں کی طاقت رکھی جن پر دین اور دنیا کی کامیابی موقوف ہے، اسی طرح ہر حیوان میں ان کاموں کی طاقت رکھی جن پر اس کی دنیاوی مصلحت موقوف ہے اور ہر حیوان کو اس کے حال کے مناسب مقدار اور شکل و صورت پر پیدا کیا، اسی طرح تمام جمادات اور نباتات کو ان کے حسب حال مقدار اور صورت پر پیدا کیا۔

اور تقدیر اللہ تعالیٰ کے علم کا نام ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہے کہ فلاں چیز ہوگی تو اس چیز کا ہونا ضروری ہے اور اس کا نہ ہونا محال ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا علم، جہل سے بدل جائے گا۔ اسی طرح جب اس نے کسی چیز کے متعلق خبر دی ہے کہ فلاں چیز ہوگی تو اسکا ہونا ضروری ہے ورنہ اس کے کلام کا صدق، کذب سے بدل جائے گا۔

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٤٣١، ملخصا، داراحیاء الترات العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے الفرقان : ١ کی تفسیر میں لکھا ہے :

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس میں وہ چیزیں رکھیں جو اس کی حکمت کا تقاضا تھیں۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ١٣ ص ٤، دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں دو لفظ ہیں، پہلے فرمایا :” خلق “ پھر فرمایا :’ فقدر “ یہ ظاہر دونوں کا معنی ایک ہے اور یہ تکرار ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ” خلق “ کا معنی ہے : اللہ ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا اور ” فقدر “ کا معنی ہے : اس میں وہ چیزیں مہیا کیں جو اس کی حکمت کا تقاضا ہے، جیسے انسان کو مخصوص مادے سے مخصوص صورت پر پیدا کیا اور اس میں وہ خصائص اور وہ افعال مہیا کیے جو اس کے لائق ہیں، مثلاً اس میں فہم، ادراک، دنیا اور آخرت کے کاموں میں نظر اور تدبر کو پیدا کیا اور مختلف افعال پیدا کیے۔

(روح المعانی جز ١٨ ص ٣٤١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ )

قضاء متعلق اور قضاء مبرم

یَمْحُوا اللہ ُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِتُج وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ (الرعد : ٣٩) (اللہ جس ( لکھے ہوئے کو) چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، اسی کے پاس ام الکتاب ( لوح محفوظ) ہے )

اس آیت کی علماء نے ایک اور تقریر کی ہے اور وہ یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں : ایک تقدیر معلق ہے اور ایک تقدیر مبرم ہے۔ تقدیر معلق میں محو اور اثبات ہوتا رہتا ہے اور تقدیر مبرم اللہ تعالیٰ کے علم سے عبارت ہے، اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا مثلاً ایک شخص کی قسمت میں اولاد نہیں ہے اور تقدیر معلق ہے لیکن کسی مرد خدا کی دعا سے اس کے لیے اولاد مقدر کردی جاتی ہے پہلے اس کی قسمت میں لاولد لکھا تھا، اگر کسی مرد خدا نے دعا کردی تو لا ولد کو مٹا کر صاحب اولاد لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کسی نے دعا نہیں کی تو وہ لا ولد اسی طرح ثابت رہتا ہے اور یہ تقدیر معلق ہے جس کی طرف ” یَمْحُوا اللہ ُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِت) (الرعد : ٣٩) میں اشارہ ہے، اور تقدیر مبرم کا مرتبہ جس کی طرف ” وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ ) (الرعد : ٣٩) سے اشارہ ہے وہ حقیقت اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ وہ لا ولد یا صاحب اولاد ہے اور اسکے علم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسی طرح انسان اگر ماں باپ یا رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرے تو اس کی عمر بڑھ جاتی ہے یا اس کے رزق میں وسعت ہوجاتی ہے اور اگر ان کے ساتھ نیکی کی تو پچاس سال مٹا کر اس کی عمر ساٹھ سال لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ ان کے ساتھ نیکی نہ کرے تو اس کی عمر اسی طرح پچاس سال لکھی رہتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ان کے ساتھ نیکی کرنی ہے یا نہیں کرنی اور انجام کار اس کی عمر پچاس سال ہوگی یا ساٹھ سال اور ام الکتاب میں س کی وہ عمر لکھی ہوئی ہوتی ہے اور یہی تقدیر مبرم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ حسب ذیل احادیث اس تقریر پر دلالت کرتی ہیں :

رزق میں وسعت اور عمر میں اضافہ کے متعلق احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی کو اس سے خوشی ہو کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے یا اس کی عمر میں اضافہ کیا جائے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے مل جل کر رہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٩٣، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٤٢٩ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے خاندان کے ان رشتوں کو جانو جن سے تم جل کر رہو، کیونکہ رشتہ داروں سے ملنے کے سبب اہل میں محبت بڑھتی ہے، مال میں زیادتی ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٧٩، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٤ المستدرک ج ٤ ص ١٦١ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : جس شخص کو نرمی اور ملائمت سے اس کا حصہ دیا گیا، اس کو دنیا اور آخرت کی خیر سے حصہ دیا گیا۔ رشتہ داروں سے ملنا اور پڑوسیوں سے حسن سلوک کرنا گھروں کو آباد رکھتا ہے اور عمروں میں اضافہ کرتا ہے۔

ان احادیث کا قرآن مجید سے تعارض

ان احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صلہ رحم سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ احادیث قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہیں :

لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌط اِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَـلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (یونس : ٤٩) (ہر گروہ کا ایک وقت مقرر ہے، جب ان کا مقر وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک ساعت مؤخر ہو سکیں گے اور نہ ایک ساعت مقدم ہو سکیں گے )

ان احادیث کے قرآن مجید سے تعارض کا جواب

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس عمرکا ذکر فرمایا ہے، یہ وہ عمر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور یہ قضاء مبرم ہے، اس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی اور ان احادیث میں جس عمر کے اضافہ کا ذکر ہے یہ عمر قضاء معلق میں ہے، مثلاً اگر کسی شخص نے صلہ رحم کیا تو اس کی عمر سو سال ہے اور اگر قطع رحم کیا تو اس کی عمر ساٹھ سال ہے، پس اگر اس نے صلہ رحم کرلیا تو اس کی عمر ساٹھ سال کو مٹا کر سو سال لکھ دی جائے گی اور اگر قطع رحم کیا تو وہی ساٹھ سال لکھی رہے گی لیکن اللہ تعالیٰ کو قطعی طور پر علم ہوتا ہے کہ اس نے صلہ رحم کرنا ہے یا قطعی رحم کرنا ہے اور اس کی عمر سو سال ہے یا ساٹھ سال اور اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔

تقدیر کے متعلق احادیث اور ان کی تشریحات

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائو اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت پر اور اس پر کہ ہر اچھی اور بری چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے وابستہ ہے۔ ( الحدیث)

( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٥٩٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٠، سنن نسائی الحدیث : ٤٩٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٣ )

علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ فرماتے ہیں : اہل حق کے نزدیک تقدیر ثابت ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ازل میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کا اندازہ کیا اور اللہ سبحانہ کو علم تھا کہ یہ چیزیں مخصوص صفات پر مخصوص اوقات میں واقع ہوگی، سو اسی علم کے موافق یہ چیزیں واقع ہوتی ہیں اور قدریہ نے اس کا انکار کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ کو مخصوص صفات کے ساتھ چیزوں کے وقوع کا پیشگی علم نہیں ہوتا بلکہ چیزوں کے وقوع کے بعد ان کا علم ہوتا ہے۔ ابن قتیبہ اور امام نے کہا : اہل حق تقدیر کو مانتے ہیں اور افعال کی تخلیق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور یہ جاہل قوم افعال کی تخلیق کی نسبت اپنی طرف کرتی ہے۔

علامہ خطابی نے کہا : اکثر لوگ قضاء اور قدر کا یہ معنی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر اور اپنی قضاء پر عمل کرنے کے لیے بندوں کو مجبور کردیا لیکن قضاء قدر کا یہ معنی نہیں ہے۔ قدر کا معنی اللہ تعالیٰ کا پیشگی اندازہ ہے یعنی ازل میں اللہ تعالیٰ کا علم اور قضاء کا معنی ہے، اپنے علم کے موافق چیزوں کو پیدا کرنا۔

(صحیح مسلم، بشرح النواوی ج ١ ص ٤٤٩، ٤٤٧ ملخصا، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

میں کہتا ہوں کہ ان معترضین نے جبر کا معنی نہیں سمجھا۔ جبر یہ ہے کہ انسان کی خواہش اور اس کے اختیار کے بغیر اس سے کوئی کام کرایا ہے، جیسے کوئی شخص کسی انسان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اس سے کہے کہ اپنی جیب سے رقم نکالو تو یہ چیز ہے اور جب آدمی اپنی خواہش سے کوئی چیز خریدنے کے لیے جیب سے رقم نکالے تو یہ جبر نہیں ہے، سو ہم اچھے یا برے کام جو بھی کرتے ہیں تو اپنے اختیار سے کرتے ہیں اور ہم جس کام کو اختیار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے اندر وہی کام پیدا کردیتا ہے، پھر جبر کہاں سے ہوگیا، سو ہم اپنے افعال میں مختار ہیں، مجبور نہیں ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور آپ سب سے زیادہ سچے ہیں کہ تم میں سے کسی ایک کی تخلیق اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی صورت میں رہتی ہے، پھر چالیس دن جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتی ہے، پھر چالیس دن گوشت کے ٹکڑے کی صورت میں رہتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ کو چار کلمات دے کر بھیجتا ہے، پس وہ اس کا عمل لکھتا ہے اور اس کی مدت حیات لکھتا ہے اور اس کا رزق لکھتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید ہے ( دوزخی ہے یا جنتی) پھر اس میں روح پھونک دیتا ہے، سو اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ ( کا فاصلہ) رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے وہ اہل دوزخ کے سے عمل کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے ایک شخص اہل دوزخ سے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ ( کا فاصلہ) رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت سے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦١٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٢ )

اس حدیث میں اس پر تنبیہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے نیک اعمال پر مغرور نہ ہو اور تکبر نہ کرے اور خوف اور امید کے درمیان رہے اور تقدیر پر شاکر اور اللہ کی رضا پر راضی رہے۔

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ دوزخ میں لکھ دیا گیا ہے یا اس کا ٹھکانہ جنت میں لکھ دیا گیا ہے، صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہم اس لکھے ہوئے پر اعتماد کر کے عمل کرنا چھوڑ دیں ؟ آپ نے فرمایا : عمل کرتے رہو، ہر شخص کے لیے اس چیز کو آسان کردیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے، جو شخص اہل سعادت میں سے ہے اور اس کے لیے اہل سعادت کے عمل آسان کردیئے جائیں گے اور جو شخص اہل شقاوت میں سے ہے اس کے لیے اہل شقاوت کے عمل آسان کردیئے جائیں گے۔ پھر آپ نے یہ آیتیں پڑھیں :

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی وَ اَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی (اللیل : ١٠، ٥)

(رہا وہ شخص جس نے عطاء کیا اور اپنے رب سے ڈرا اور اس نے ہر نیکی کی تصدیق کی تو ہم عنقریب اس کے لیے نیک کاموں کو آسان کردیں گے اور جس نے بخل کیا اور بےپرواہی برتی اور اس نے ہر نیکی کی تکذیب کی تو ہم عنقریب اس کے لیے معصیت کا راستہ آسان کردیں گے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٧ )

حضرت عمران بن حصین بن (رض) بیان کرتے ہیں : مزینہ کے دو شخصوں نے آ کر کہا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیں کہ آج جو شخص عمل کرتے ہیں، اور اس میں مشقت اٹھاتے ہیں یہ وہ چیز ہے جو پہلے سے ان کے لیے مقدر کردی گئی ہے یا جو کچھ ان کو ان کے نبی نے بتایا ہے یہ اس پر از خود عمل کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، یہ وہ چیز ہے جو پہلے سے ان پر مقدر کردی گئی ہے اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے :

وَنَفْسٍِ وَّمَا سَوّٰہَا فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا (الشمس : ٨، ٧) (نفس کی قسم اور اس کو درست بنانے کی پھر اس کو بدکاری کی سمجھ دی اور اسے بچنے کی )

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٠ )

یعنی ہر انسان کو انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ خیر اور شر، نیکی اور بدی کی پہچان کرا دی اور اس کی عقل میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ صحیح اور غلط اور حق اور باطل میں تمیز کرسکے، پس جس نے کتاب اور سنت اور عقل سلیم کی ہدایت پر عمل کیا وہ کامیاب ہے اور جس نے اس سے انحراف کیا وہ ناکام ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس آیت سے استدلال کا یہ منشاء ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازل میں نفس انسان کو بھلائی اور برائی سمجھا دی تھی اور اس کو ازل میں علم تھا کہ دنیا میں آ کر انسان اس ہدایت پر عمل کرے گا یا نہیں، سو اسی علم کے موافق اللہ نے لکھ دیا اور اسی کا نام تقدیر ہے :

وَکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ (القمر : ٥٢) (انہوں نے جو کچھ عمل کیے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ ہوئے تھے )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے نوجوان شخص ہوں اور مجھے اپنے اوپر زنا کا خطرہ ہے اور میرے پاس اتنا مال نہیں جس سے میں عورتوں سے شادی کروں، گویا کہ وہ خصی ہونے کی اجازت طلب کر رہے تھے، آپ خاروش رہے، میں نے دوبارہ کہا، آپ پھر خاموش رہے، میں نے سہ بارہ کہا، آپ پھر خاموش رہے، میں نے چوتھی بار کہا تو آپ نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! جو کچھ تم نے کرنا ہے اس کو قلم ( تقدیر) لکھ کر خشک ہوچکا ہے، سو تم خصی ہو یا اس عمل کو چھوڑ دو ۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٠٧٦)

یعنی ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ تم نے اپنے اختیار سے زند کرنا ہے یا نہیں کرنا اور اسی کے موافق لکھ دیا گیا ہے، سو اب خصی ہونے کا کیا فائدہ ہے۔

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا : لکھ اس نے پوچھا : کیا لکھوں ؟ فرمایا : تقدیر لکھ، تو اس نے لکھ دیا جو کچھ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ابد تک ہونے والا ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٥٥ )

حضرت ابو خزامہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم دم کراتے ہیں اور دوا سے علاج کراتے ہیں اور ڈھال وغیرہ کے ذریعہ حملوں سے بچتے ہیں، کیا یہ چیزیں تقدیر کو ٹال دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ چیزیں بھی اللہ یکت قدیر سے ہیں۔ ( مسند احمد ج ٣ ص ٤٢١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٣٧)

یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے بیماری کو مقدر کیا ہے، اسی طرح بیماری کے ازالہ کے لیے دواکو مقدمہ کیا ہے، پس جو آدمی دوا کو استعمال کرے اور اس کو فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ اللہ نے اس کے لیے شفاء کو مقدر نہیں کیا، لیکن وہ صرف ایک بار دوا کو استعمال کرکے مایوس نہ ہو بلکہ مختلف معالجوں سے علاج کرائے اور شفاء کا ہر طریقہ آزمائے اور تا حیات حصول شفاء کی کوشش کرتا رہے، بعض احادیث میں دم کرانے کی ترغیب ہے اور بعض احادیث میں اس کو توکل کے خلاف فرمایا ہے، ان میں تطبیق اس طرح ہے کیہ آیات قرآن اور احایث میں بیان کیے گئے کلمات سے دم کیا جائے یا تعویذ لکھا جائے تو جائز ہے اور اگر شرکیہ کلمات سے دم کیا جائے یا کرایا جائے تو وہ ناجائز ہے اور توکل کے خلاف ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بہت زیادہ کرتے تھے : اے دلوں کو بدلنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لائے، کیا آپ کو ہم پر کوئی خطرہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! بیشک تمام دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ان دلوں کو پلٹتا رہتا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٠، مسند احمد ج ٣ ص ٢٥٧۔ ١١٢)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے، المرجتہ اور القدریۃ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٢، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ )

المرجتہ وہ فرق ہے جو کہتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کی کوئی ضرورت نہیں اور مومن کو گناہوں سے کوئی ضرر نہیں ہوگا اور القدریۃ وہ فرق ہے جو تقدیر کا منکر ہے اور انسان کو اپنے افعال کا خالق مانتا ہے اور کہتا ہے کہ مومن مرتکب کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : القدیرۃ اس امت کے مجوس ہیں اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائے تو انکے جنازہ پر نہ جائو۔

( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٩١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٩٢، مسند احمد ج ٢ ص ٨٦، ٢٥ المستدرک ج ١ ص ٨٥)

مجوس دو خالق مانتے تھے، ایک یزداں جو خالق خیر ہے اور ایک اھرمن جو خالق شر ہے، آپ نے القدریۃ کو اس امت کا مجوس اس لیے فرمایا کہ وہ انسان کو اپنے افعال کا خالق مانتے ہیں اور مجوس کی طرح شرک کرتے ہیں۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل قدر ( منکرین تقدیر) کی مجلس میں نہ بیٹھو اور نہ ان سے ( سلام کی) ابتداء کرو۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٢٠، ٤٧١٠، مسند احمد ج ١ ص ٣٠)

ان سے ابتداء کی ممانعت کا معنی یہ ہے کہ ان سے ابتداء سلام اور کلام نہ کرو، مؤخر الذکر دونوں حدیثیں بد مذہبوں اور گمراہ فرقوں سے میل جول اور اسلام و کلام کی ممانعت کی اصل ہیں۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھ شخصوں پر میں نے لعنت کی اور ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور ہر نبی مستجاب الدعا ہوتا ہے۔ (١) کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا (٢) اللہ کی تقدیر کی تکذیب کرنے والا (٣) قوت کے بل پر غلبہ پا کر حکومت اور اقتدار حاصل کرنے والا تاکہ عزت والوں کو ذلیل کرے اور ذلت والوں کو عزت دے۔ (٤) اللہ کے حرام کردہ کاموں کو حلال کرنے والا۔ (٥) میری عترت ( اہل بیت) میں ان کاموں کو حلال کرنے والا جن کو اللہ نے حرام کیا ہے۔ (٦) میری سنت کو ( بہ طور تخفیف اور اہانت) ترک کرنے والا۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦١٥٤، المستدرک ج ١ ص ٣٦، السنۃ لابی العاصم رقم الحدیث : ٤٤، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٢٤٨ )

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے مستقبل میں پیش آنے والے امور کا ذکر کر رہے تھے، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم یہ سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو اس کی تصدیق کردینا، اور جب تم یہ سنو کہ کسی شخص کی پیدائشی عادت بدل گئی ہے تو اس کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ وہ اپنی فطرت پر ہی لوٹ جائے گا۔ ( مسند احمد ج ٦ ص ٤٤٣ )

بہادری اور بزدلی، سخاوت اور بخل، اسی طرح حلیم اور بد مزاج یا غصہ وریہ، فطری اور جبلی صفات ہیں، اگر کوئی شخص یہ خبردے کہ فلاں شخص جو بہادر تھا اب بزدل ہوگیا ہے، یا جو سخی تھا وہ بخیل ہوگیا، یا جو حلیم اور برد بار تھا وہ جلد غصہ میں آنے والا بن گیا ہے، تو اس خبر کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ ان صفات کا تعلق قضاء و قدر سے ہے، اور کسی صفات بدل سکتی ہے جیسے کوئی جاہل عالم بن جائے۔

القرآن – سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 3