امام اعظم ابو حنیفہ کی اپنے اصحاب کو بستر مرگ پر وصیتیں
امام اعظم ابو حنیفہ علیہ رحمہ کی اپنے اصحاب کو بستر مرگ پر وصیتیں!!
محدثین و مورخین نے امام ابو حنیفہ سے انکے اصحاب کاوصیحت کو محفوظ کرنا اور اسکو کتابی شکل میں مرتب کرنا بیان کیا ہے۔
اس کتاب سے امام ملا علی قاری نے شرح فقہ الاکبر میں استفادہ کیا ہے۔
نیز مذکورہ کتاب کو تین نسخاجات کو سامنے رکھ کر شائع کی گئی ہے سلفیہ کی طرف سے دار الابن حزم کی طرف سے! اسکا ایک نسخہ ابو ظہبی، دبئی وغیرہ میں تھے
امام حاجی خلیفہ نے مذکورہ کتاب کو امام اعظم کی تصنیفات میں شمار کیا ہے
انکے ساتھ صاحب معجم المؤلفین نے بھی اس کتاب کو امام ابو حنیفہ کی شمار کی ہے
نیز امام ملا علی قاری کے پاس بھی یہ کتاب موجود تھی جس سے انہوں نے متعدد مقامات پر امام ابو حنیفہ کے عقائد نقل کیے ہیں۔
مذکورہ کتاب میں امام ابو حنیفہ نے اپنے اصحاب کو عقائد اہلسنت پر مشتمل نصحتیں فرمائی تھیں جن میں دو آج کے زمانے کے اعتبار سے ضروری ہیں
■۔اس امت میں سب افضل بعد از انبیاء
حضرت ابو بکر صدیق ہیں ،
پھر حضرت عمر بن خطاب ہیں
پھر حضرت عثمان بن عفان ہیں ،
پھر حضرت علی بن ابو طالب ہیں
■-حضرت خدیجہ کے بعد حضرت عائشہ تمام عورتوں سے افضل ہیں اور مومنین کی ماں ہیں ان پر جو الزام لگایا گیا جنکی طرف سے وہ جھوٹ ہیں وہ پاک و مطھرہ (،یہاں امام ابو حنیفہ نے آیت تطہیر سے استدلال کیا ہے)ہیں اور وہ ان فعل سے بری ہیں جو رواف*ض بکتے ہیں
▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎
اسکے علاوہ اور بھی عقائد اہلسنت کی ترجمانی کی ہے امام ابو حنیفہ نے اس کتاب میں اور ان میں سے بیشتر باتیں فقہ الاکبر میں موجود ہیں
یعنی امام ابو حنیفہ شروع سے آخر تک جن عقائد پر تھے اسی پر پابند رہے۔
اللہ کی لاکھوں نعمتیں ہوں ان پر کہ یہ ہم کو صاف ستھرا عقیدہ بیان کرکے گئے۔
اور جنہوں نے انکے عقائد ع شخصیت کی طرف جو باتیں منسوب کی امت کے ائمہ نے انکی باتوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔
اسد الطحاوی ✍


