اصل مجرم، عصر حاضر کے فلاسفرز، علمائے کرام اور قوم
اصل مجرم، عصر حاضر کے فلاسفرز، علمائے کرام اور قوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد ابوبکر صدیق
چیئر پرسن اسکول آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوشل میڈیا پر فلاسفر بننا ہے یا زیادہ مقبول سپیکر تو پھر یہ چار عدد کام کی جئے کہ
1. کسی بھی سیمنار یا کانفرنس میں اپنی قوم کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے انہیں جی بھر کے کوسئے کہ تم میں تو کوئی جوہرِقابل ہی نہیں۔ تم ایک عدد سوئی تو بنا نہیں سکتے۔ تمہارے واش روم تک گورے ڈیزائین کرتے ہیں۔ ایسی تیسی کر کے قوم کو یقین دلوائیں کہ ’’ تمہارے پاس اپنی حرماں نصیبی پر ماتم کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں‘‘۔ بس آپ اُنہیں مایوسی کی دلدل میں اتاردیں۔
2. اس طعن و تشنیع کے لئے اردو ادب کا سہارا لی جئے اور جملوں کو دل کش انداز میں ترتیب دی جئے۔ جیسے ’’ بارہویں صدی کے سوالات کے جوابات ابھی تم سے تراشے نہیں گئے اورتم چلے ہو اکیسویں صدی میں مصنوعی ذہانت ’’Artificial Intelligence‘‘ کو مات دینے‘‘۔
3. اس طعن و تشنیع کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے جواب شکوہ کے اشعار بھی ساتھ ساتھ پڑھیں اور مایوسی میں اضافہ کریں۔ (بھلے حضرت علامہ اقبال کی روح تڑپ جائے کہ اس نے تو وہ اشعار قوم میں امید روشن کرنے کے لئے لکھے تھے)۔ آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔
4. یہ سب کچھ تیکھی، اور جلی کٹی زبان کے ساتھ بولنا ہے ۔ انداز دھیما ہوگا تو زیادہ مؤثر ہوگا لیکن اونچی آواز اور تیز گفتگو ہوگی تو بھی برا نہیں۔
بس جناب آپ کی واہ واہ، بلے بلے ہوگی ۔ آپ ایک مقبول سپیکر بن جائیں گے۔
عوام کی فکر نہ کی جئے وہ بے چاری ویسے ہی نصف صدی سے سہمی ہوئی ہے۔ مقتدرہ قوتوں نے اُن کا بُھرکس نکال دیا ہواہے۔ وہ ایک سہمے ہوئے بچے کی مانند ہے۔ وہ یہ سب کچھ سن لے گی ۔انہیں اب اِس سب کی عادت سی پڑ گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال ہی میں مصنوعی ذہانت ’’Artificial Intelligence‘‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کی ایک پینل ڈسکشن میں مجھے یہ سب کچھ سننے کا بلکہ سہَنے کا موقع ملا۔ میں نے ہاتھ بلند کیا کہ مجھے کچھ کہنا ہے۔ تو میں نے جو گوش گزار کیا چنداں اضافے کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ ادھر ادھر کی تو بات کر یہ بتا قافلہ کیوں لُٹا
مجھے رہزنوں سے غرض نہیں سوال تیری رہبری کا ہے
جناب والا!
اس قوم کے نام نہاد رہبروں کے ساتھ ایک المیہ یہ رہا ہے کہ انہوں نے باری باری آکر اس قوم کو صرف کوسا ہے۔ انہیں ایسے ہی تلخ جملے اور طعنے ہی سنائے ہیں اور ان پر جمی مایوسی کی دھول میں تہہ در تہہ اضافہ ہی کیا ہے۔
جناب والا!
اس قوم کے ساتھ ظلم یہ ہوا ہے کہ ذمہ دار افراد کی ذمہ داریوں کا تعین ہی نہیں کیا گیا۔ ہر ذمہ دار فرد نے اپنی کوتاہی کا سارا ملبہ ’’قوم‘‘ پر ڈالا ہے۔ نہ قوم ملے گی نہ مجرم کا تعین ہوگا نہ سزا ہو گی ۔ ہر قوم میں علمی رہنما و قائد پیدا ہوتے ہیں۔علوم کی مختلف جہات ہوتی ہیں ہر جہت میں ہر زمانے کے نت نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور متعلقہ رہنماؤں نے ان کے جوابات دینے ہوتے ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ بارہویں صدی کے سوالات ابھی تک نہیں تراشے گئے ! تو جناب والا!جوابات تراشنا یہ کس کا کام تھا؟ آپ فلاسفرز کا کام تھا یا طعنے سہتی اس عوام کا؟
جناب والا!
کسی نے بڑک اڑائی اور آپ نے بغیر تحقیق کے اُسے مان لیا کہ ’’ جب ہلاکو خان بغداد پر حملہ آور ہوا تھا تو اس وقت مولوی اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام‘‘۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ہلاکو خان کی پھیلائی گئی تباہی اور قتل عام کا بنیادی و مرکزی سبب یہی تھا! کیا واقعی وہ مولویوں کی اس بحث کی وجہ سے حملہ آور ہوا تھا؟
جناب والا!
ہلاکو خان کوئی آسمان سے تو اترا نہیں تھا کہ ایک دم سے اُس کی ساری فوج ژالہ باری کی مانند آپڑی ہوگی۔ آخر بغداد کی سرحدیں ہوں گیں۔ بغداد ایک قلعہ بند شہر تھا اس کی فصیلیں تھیں اس کے بڑے پُرشکوہ دروازے تھے۔ کیا کسی نے آج تک یہ پوچھنے کی ہمت کی سرحدوں کے محافظ اُس وقت کیا کر رہے تھے؟ فوج کا سپہ سالار اُس وقت کہاں گُم تھا؟ کیادشمن کی فوج سے مولوی نے لڑنا تھا! یا للعجب
کوئی ہمت کرتے ہوئے پوچھے گا ایوان اقتدار بھی تھا اور اُس وقت شاہی دربار میں کیا چل رہا تھا۔ کوئی حکمران کے کردار پر بھی روشنی ڈالے گا!۔کیا سیاسی و جنگی اقدامات بھی مولوی نے اٹھانے تھے!
فلسطین جل رہا ہے بائیس ہزار مسلمان قتل کئے جاچکے ہیں۔ اِن حاضرین محفل سے پوچھ لی جئے ہر ایک فرد کی یہ خواہش ہے کہ اِن کی ایٹمی طاقت فلسطین کی مدد کو فورا پہنچے ۔ کیا یہ کچھ کرنا بھی مولوی کا کام ہے۔ لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پچاس سال بعد ایک اور جملہ مشہور ہوگا’’ جب فلسطین جل رہا تھا تو مولوی اُس وقت دیوبندی بریلوی وہابی شیعہ کھیل رہے تھے‘‘۔ کیا واقعی فلسطین کی مدد اس وجہ سے نہیں کی جارہی؟
آپ نے تو چٹ پٹے جملے بول دئے کہ ہلاکو خان کے حملے کے وقت مولوی یہ کر رہے تھے۔ کیا کبھی ان جملوں کی فلسفیانہ غلطیوں کی جانب بھی توجہ دی۔یہ تسلیم ہے کہ اہل علم و دانش کا لایعنی مباحث میں الجھنا آفات کا ایک سبب ہوتا ہے لیکن یہاں تو سارا وبال ہی علمائے عظام کے کندھوں پر ڈال کر اصلی مجرموں کو راہ فرار دے دی گئی۔
جناب والا!
میری یہ قوم دنیا کی بہترین قوم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صرف اس کے مقتدر طبقے میں قوم کا احساس پیدا کردی جئے۔ انہیں طعنے دینے بند کریں اور اِن میں امید کی شمع روشن کرنا شروع کردیں۔ آپ کہتے ہیں ’’ ایک سوئی تک تم اپنے ملک میں بنا نہیں سکتے ‘‘۔ میں کہتا ہو کہ ’’ سوئی ہم خود بنائیں ‘‘ یہ زندگی کا مقصود ہے؟ سعودی عرب کچھ بھی نہیں بناتا لیکن دنیا کا واحد عجیب و غریب نیوم شہر بنانے جارہا ہے اور دنیا کی جدید ٹیکنالوجی وہاں پہنچی ہوئی ہے۔کیونکہ اس کے پاس وسائل ہیں۔ اس لئے یہ لازمی نہیں کہ سب کچھ آپ ہی پیدا کر رہے ہوں۔ جدید اکنامکس کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ امریکہ بھی بہت کچھ درآمد کرتا ہے۔ وسائل ہمارے پاس بھی ہیں لیکن چند لوگ لوٹ رہے ہیں جو قوم کی محرومی کا سبب ہیں ۔ ویسے آپ کو بتاتا چلوں آپ سوئی کی بات کرتے ہیں ’’ ہم JF-17 تھنڈر طیارے خود بناتے ہیں اور اس کے سارے پُرزے اسی ملک میں تیار ہوتے ہیں اور دنیا ہمارے طیارے خرید رہی ہے‘‘۔
جناب والا!
میری قوم کی مٹی بڑی زرخیز ہے۔ اس میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا موجود ہے۔ بس یاس و قنوط کی جمی ہوئی دھول پر امید کے پانی کا چھڑکاؤ کی جئے پھر دیکھئے کہ ان کی چمک دمک حرماں نصیبی کی تاریک چادر کو کیسے تار تار کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت ’’Artificial Intelligence‘‘ کے شُتر بے مہار کو کیسے نکیل ڈالتی ہے۔ یہ سب آپ دیکھیں گے۔ بس آپ انہیں امید دلانے والے بنیں کیونکہ ہمارا قران بھی ہمیں یہی تلقین کرتا ہے: لاتقنطوا من رّحمۃ اللہ
بہت شکریہ