أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عِلۡمًا  ۞

ترجمہ:

اللہ ہی ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور اتنی ہی زمینوں کو پیدا کیا، ان کے درمیان ( تقدیر کے موافق) اس کا حکم ( تکوینی) نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور بیشک اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ہی ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور اتنی ہی زمینوں کو پیدا کیا، ان کے درمیان ( تقدیر کے موافق) اس کا حکم ( تکوینی) نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور بیشک اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے ( الطلاق : ١٢)

سات زمینوں کے متعلق امام رازی کی تحقیق

اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ ہی ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اتنی ہی زمینوں کو پیدا کیا۔

اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں، اسی طرح زمینیں بھی سات ہیں، امام رازی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

مشہور یہ ہے کہ زمین کے تین طبقات ہیں : ایک طبقہ ارضیہ محضہ ہے، دوسرا طبقہ طینیہ محض ہے ( محض مٹی ہے) اور تیسرا طبقہ وہ ہے جس کے بعض حصہ میں سمندر رہے اور بعض حصہ میں آباد علاقے ہیں اور یہ تینوں طبقات ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اتنی ہی زمینوں کو پیدا کیا “ کا مطلب یہ ہو کہ سات آسمانوں کے مطابق سات سیارے ہیں اور یہ زمین ان میں سے ایک سیارہ ہو، اور ان سیاروں میں سے ہر سیارہ کے خواص ہوں اور زمین کی اقالیم میں سے ہر اقلیم میں ان خواص کے آثار ظاہر ہوتے ہوں اور اس اعتبار سے سات زمینیں ہوں، یہ وہ وجوہ ہیں جو خلاف عقل نہیں ہیں، ان کے علاوہ مفسرین نے سات زمینوں کے اور محامل بھی بیان کیے ہیں مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ سات آسمان اس طرح ہیں : (١) موج مکفوف (٢) چٹانیں (٣) لوہا (٤) پیتل یا تانبا (٥) چاندی (٦) سونا (٧) یا قوت اور جس نے یہ کہا کہ ان آسمانوں میں سے ہر آسمان کی دوسرے آسمان تک مسافت پانچ سو سال ہے اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے، پس یہ قول اہل تحقیق کی نزدیک غیر معتبر ہے، اے اللہ ! (اس اشکال کا حل عطا فرما) سو اس کے کہ اس سلسلہ میں کوئی حدیث مواتر ہو، اور ہوسکتا ہے کہ آسمان اس سے زیادہ ہوں، اور آسمانوں کی حقیقت کو اور ان کی صفات کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٦٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

سات زمینوں کے متعلق زمینوں دیگر مفسرین کی آراء

قاضی عبد اللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٢٨٥ ھ لکھتے ہیں :

یعنی زمینوں کے عدد آسمانوں کے عدد کی مثل ہیں۔

اس عبارت کی شرح میں علامہ احمد بن محمد بن خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں :

اس عبارت کا یہ مطلب ہے کہ سات آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات طبقات ہیں، جو ایک دوسرے سے متمیز اور منفصل ہیں اور احادیث صحیحہ میں بھی یہی معروف ہے۔

حضرت خالد بن ولید مخزومی بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دعا میں فرمایا :

اللھم رب السموات السبع وما اظلت ورب الارضین وما اقلت، احدیث

اے اللہ ! سات آسمانوں کے رب اور جن پر ان کا سایہ ہے اور زمینوں کے رب اور جن زمینوں نے اٹھایا ہے۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٥٢٣، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٤٦، الکامل لا بن عدی ج ٢ ص ٦٢٨ )

ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات اقالم ہیں اور یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے نہیں ہے حتیٰ کہ اس کا منکر یا اس میں متردد کافر ہو اور ہمارا اعتقادیہ ہے کہ سات آسمانوں کی طرح زمینوں کے سات طبقات ہیں۔

(عنایۃ القاضی علی البیضاوی ج ٩ ص ٢٠٢، دارالکتب العلیمہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو حیان محمد بن یوسف، اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

جمہور کا مختار یہ ہے کہ یہ مثلیت عدد ہے یعنی سات آسمانوں کی طرف سات زمینیں ہیں، حدیث میں ہے : اللہ غاصب کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈال دے گا، ایک قول یہ ہے کہ یہ سات طبقات ہیں اور ہر دو طبقوں کے درمیان مسافت ہے اور ان میں اللہ کی مخلوق رہتی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ ان میں جن اور فرشتے رہتے ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سات زمینیں پھیلی ہوئی ہیں، ایک دوسرے کے اوپر نہیں ہیں اور ان کے درمیان سمندر ہے اور ان سب کے اوپر آسمان ہے۔

(البحر المحیط ج ١٠ ص ٢٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٢ ھ)

علامہ عصام الدین اسماعیل بن محمد الحنفی المتوفی ١١٩٥ ھ لکھتے ہیں :

جمہور کا مختار یہ ہے کہ یہ سات زمینیں ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر منطبق ہیں اور ہر دوزمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور زمین کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور دو آسمانوں کی مسافت اور ان کی موٹائی بھی اسی طرح ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق رہتی ہے یا فرشتے اور جن رہتے ہیں، الماوردی نے کہا : اس بناء پر اسلام کی تبلیغ صرف اوپر والی زمین کے ساتھ خاص ہے، ایک قول یہ ہے کہ ان میں بھی ذوی العقول رہتے ہیں اور وہ آسمان کو دیکھتے ہیں اور روشنی سے استفادہ کرتے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ آسمانوں کا مشاہدہ نہیں کرتے، اور اللہ نے اس کے لیے روشنی پیدا کی ہے جس سے وہ استفادہ کرتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ سات زمینوں سے مراد سات اقالیم ہیں لیکن جمہور کا قول صحیح ہے کیونکہ وہ ظاہر آیت اور احادیث کے موافق ہے۔ ( حاشیۃ القونوی علی البیضاوی ج ١٩ ص ١٤٧، دارالکتب العلیمہ، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

سات زمینوں کے متعلق صریح احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کے سروں پر سے ایک بادل گزرا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ بادل یہ اور یہ زمین کے کونے ہیں، اللہ تعالیٰ اس بادل کو اس قوم کی طرف بھیج رہا ہے جو شکر نہیں کرتی اور نہ اس کو پکارتی ہے، پھر فرمایا : کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ پہلا آسمان ہے، یہ محفوظ چھت ہے اور موج مکفوف ہے، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو تمہارے درمیان اور اس آیمان کے درمیان کتنی مسافت ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے اور اس آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، آپ نے پھر فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس آسمان کے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : اس کے اوپردو آسمان ہیں، ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، حتیٰ کہ آپ نے سات آسمانوں کو گنا اور ہر دو آسمانوں کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی آسمان اور زمین کے درمیان مسافت ہے، پھر آپ نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے اوپر عرش ہے، اس کے اور آسمان کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا دو آسمانوں کے درمیان ہے، آپ نے پھر پوچھا : کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ زمین ہے، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : اس کے نیچے ایک اور زمین ہے، ان دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، پھر آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں ( سیدنا) محمد کی جان ہے، اگر تم کسی شخص کو زمین سے باندھ کر سب سے نچلی زمین تک لٹکائو تو وہ اللہ تعالیٰ پر گرے گا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ” ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُج وَہُوَ بِکُلِِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ“ (الحدید : ٣) ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٩٨، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٠، کتاب الاسماء والصفات ص ٣٩٩)

حضرت سعید بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس شخص نے کسی پر ظلم کر کے اس کی زمین چھینی، اس کے گلے میں اتنی زمین کا سات زمینوں تک طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٥٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦١٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٧٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٨٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٤٢١ )

سات زمینوں کے متعلق اثر ابن عباس

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو الضحیٰ نے حضرت ابن عباس (رض) سے وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنّ (الطلاق : ٤) کی تفسیر میں روایت کیا ہے : یہ سات زمینیں ہیں، ہر زمین میں تمہارے نبی کی مثل ایک نبی ہے اور آدم کی مثل ہیں اور نوح کی مثل نوح ہیں اور ابراہیم کی مثل ابراہیم ہیں اور عیسیٰ کی مثل عیسیٰ ہیں۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩١٩، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

امام مقاتل بن سلیمان متوفی ١٥٠ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ ( تفسیر مقاتل بن حیان ج ٣ ص ٣٧٥)

نیز امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابوالضحیٰ نے حضرت ابن عباس (رض) سے اَ اللہ ُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُن (الطلاق : ١٢) کی تفسیر میں روایت کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : سات زمینیں ہیں، ہر زمین میں تمہارے نبی کی مثل ایک نبی ہے اور حضرت آدم کی مثل آدم ہیں اور حضرت نوح کی مثل نوح ہیں اور حضرت ابراہیم کی مثل ابراہیم ہیں اور حضرت عیسیٰ کی مثل عیسیٰ ہیں۔

امام حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ حافظ ذہبی نے بھی کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔ ( المستدرک ج ٢ ص ٤٩٣ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٣٨٢٢، المتکبۃ العصریہ، ١٤٢٠ ھ)

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی نے اس حدیث کو دو سندوں سے روایت کیا ہے، ایک سند ہے، از عطاء بن السائب از ابی الضحیٰ از ابن عباس ہے اور دوسری سند ہے : از عمرو بن مرہ، ازبی الضحیٰ از ابن عباس (رض) ۔ امام بیہقی لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند حضرت ابن عباس سے صحیح ہے اور راوی مرہ کے ساتھ شاذ ہے اور میں نہیں جانتا کہ ابو الضحیٰ کا کوئی متابع ہے۔

( کتاب الاسماء والصفات ص ٣٩٠، ٣٨٩ داراحیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ عبد الرحمان بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : اس حدیث کی دو سندیں ہیں، ایک حضرت ابن عباس تک متصل ہے اور دوسری سند ابو الضحیٰ پر موقوف ہے، اور اس کی حدیث کا وہی معنی ہے جو ابو سلیمان و مشقی نے بیان کیا ہے کہ ہر زمین میں اللہ کی مخلوق ہے اور اس مخلوق میں ان کا ایک سردار اور بڑا ہے اور ان پر مقدم ہے جیسے حضرت آدم ہمارے بڑے اور ہم پر مقدم ہیں اور ان کی اولاد میں کسی بڑے کی عمر حضرت نوح جنتی ہے اور اسی طرح باقی ہیں۔

(زاد المسیرج ٨ ص ٣٠٠، مکتب اسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ ( البحر المحیط ج ١٠ ص ٢٠٥)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی توفی ٧٧٤ ھ نے اپنی تفسیر میں سات زمینوں سے متعلق اثر ابن عباس کو امام بیہقی کو ” کتاب الاسماء و الصفات “ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس کی سند پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٢٣ )

اور اپنی تاریخ میں اس پر یہ تبصرہ کیا : امام ابن جریر نے اس کا مختصراً ذکر کیا ہے اور امام بیہقی نے ” کتاب الاسماء والصفات “ میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اور یہ اس پر محمول ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کو اسرائیلیات سے اخذ کیا ہے۔ ( البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٤٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٨ ھ)

اثر ابن عباس کے متعلق محدثین اور مشاہیر علماء کی آراء

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ زمین واحد ہے، ابن التین نے کہا : یہ قول قرآن اور سنت سے مردود ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ہوسکتا ہے ان کی مراد یہ ہو کہ سات زمینیں متصل ہیں ورنہ یہ قول قرآن اور حدیث کے صریح مخالف ہے، سات زمینوں پر دلیل یہ ہے ورنہ یہ قول قرآن اور حدیث کے صریح مخالف ہے، سات زمینوں پر دلیل یہ ہے کہ امام ابن جریر نے از ابو الضحیٰ از ابن عباس ” وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ “ ( الطلاق : ١٢) کی تفسیر میں روایت کیا ہے : ہر زمین میں حضرت ابراہیم کی مثل ہے، جس طرح زمین کے اوپر مخلوق ہے، اور اس کی سند صحیح ہے اور امام حاکم اور امام بیہقی نے اس کو طویل متن سے رویت کیا ہے کہ سات زمینیں ہیں اور ہر زمین میں تمہارے آدمی کی طرح آدم ہیں اور تمہارے نوح کی طرح نوح ہیں اور تمہارے ابراہیم کی طرح ابراہیم ہیں اور تمہارے عیسیٰ کی طرح عیسیٰ ہیں اور تمہارے نبی کی طرح نبی ہیں۔ امام بیہقی نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے، مگر یہ مرہ کے ساتھ شاذ ہے، اور امام ابن ابی حاتم نے از مجاہد از ابن عباس روایت کیا، اگر میں تم سے اس کی تفسیر بیان کروں تو تم کفرو کرو گے اور تمہارا کفر اس روایت کی تکذیب ہے۔ اہل ہیئت یہ کہتے ہیں کہ ہرچند کہ زمینیں اوپر تلے ہیں مگر ان کے درمیان مسافت نہیں ہے اور ساتویں زمین سپاٹ ہے، اس کا کوئی بطن نہیں ہے اور اس کے وسط میں مرکز ہے اور وہ ایک فرضی نقطہ ہے لیکن ان کے ان اقوال پر کوئی دلیل نہیں ہے ” سنن ترمذی “ اور ” مسند احمد “ میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہر دو آسمانوں کے درمیان اکہتر یا بہتر سال کی مسافت ہے لیکن ان حدیثوں میں اس طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ مسافت کا یہ فرق رفتار کی تیزی اور کمی پر مبنی ہے۔

(فتح الباری ج ٦ ص ٤٣٤، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ )

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٢ ھ نے بھی سات زمینوں کی اسی طرح تحقیق کی ہے۔

(عمدۃ القاری ج ١٥ ص ٥٣، دارالکتب العلیمہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن سخاوی متوفی ٩٠٢ ھ نے امام حاکم اور امام بیہقی کی سند کے حوالوں سے اس حدیث کا ذکر کیا، پھر حافظ ابن کثیر سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر اس کی سند حضرت ابن عباس تک صحیح ہے تو پھر یہ اسرائیلیات سے ہے۔

( المقاصد الحسنہ ص ٧١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے اس اثر کا ذکر امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم، امام حاکم اور ان کی تصحیح کے ساتھ اور امام بیہقی کی ’ ’ شعب الایمان “ اور ” کتاب الاسماء والصفات “ کے حوالوں سے کیا ہے۔

(الدرا المنثورج ٨ ص ٩٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ )

علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

علامہ ابو الحیان اندلسی نے حضرت ابن عباس (رض) کے اس اثر کو موضوع قرار دیا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ اس اثر کے صحیح ہونے میں کوئی عقل اور شرعی مانع نہیں ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک مخلوق ہے جس کی ایک اصل ہے، جیسے ہماری زمین میں ہماری ایک اصل ہے اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور ہر زمین میں ایسے افراد بھی ہیں جو دوسروں سے ممتاز ہیں، جیسے ہماری زمین میں حضرت نوح اور حضرت ابراہیم وغیرہ۔ ( روح العانی جز ٢٨ ص ٢١١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

مولانا عبد الحیٔ لکھنوی متوفی ١٣٠٤ ھ لکھتے ہیں :

ابناء الزمان نے اس حدیث کو قبول کرنے میں بہت مبالغہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی مجروح ہیں اور ملعون ہیں، پھر انہوں نے اس کی تقویت کے لیے امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم، امام حاکم، امام بیہقی اور دوسرے علماء کے نام لیے ہیں۔ جن کا ہم تفصیل سے ذکر کرچکے ہیں۔ ( زجر الناس علی انکار اثر ابن عباس ص ٥ مجموعۃ الرسائل لکھنوی ج ١ ص ٣٩٧ ادارۃ القرآن، کراچی ١٤١٩ ھ)

یہاں تک ہم نے مستند ائمہ اور علماء کی عبارات سے یہ واضح کیا ہے کہ حضرت ابن عباس کے اس اثر کے صحیح ہونے میں کافی اختلاف ہے، سند کے علاوہ اس اثر کے متن پر بھی اشکال ہے اور وہ یہ ہے :

اثر ابن عباس پر اشکال

حضرت ابن عباس کے اس اثر پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ اگر ہر زمین میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور خاتم النبین ہوں اور اگر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ہیں تو آپ خاتم النبین نہ رہے کیونکہ آپ کے بعد ان زمینوں میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اگر ان زمینوں میں سے پہلے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو پھر وہ خاتم النبین نہ رہے کیونکہ ان کے بعد آپ کی نبوت ہے اور جب وہ خاتم النبین نہیں ہیں تو پھر آپ کی مثل نہ ہوئے حالانکہ اس اثر میں یہ ہے کہ ہر زمین میں تمہارے نبی کی مثل نبی ہے۔

اشکال مذکور کا جواب مولانا قصوری سے

مولانا غلام دستگیر قصوری نے اس اشکال کے جواب میں لکھا ہے کہ ہر ایک خاتمیت اضافی ہے، یعنی ان زمینوں میں جو نبی ہیں ان کی خاتمیت ان زمینوں کے اعتبار سے ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاتمیت اس زمین میں مبعوث ہونے والے انبیاء کے اعتبار سے ہے۔

مولانا قصوری کا یہ جواب اس لیے صحیح نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاتمیت اضافی نہیں ہے بلکہ استغراقی ہے اور آپ کی خاتمیت قرآن مجید سے ثابت ہے اور قطعی اور یقینی ہے جبکہ اس اثر کی صحت ظنی ہے۔ اس ظنی اثر کی وجہ سے قرآن مجید میں النبین کے عموم اور استغراق کو کم کرنا صحیح نہیں ہے۔

اشکال مذکور کا جواب شیخ نانوتوی سے

شیخ قاسم ناتوی نے اس اشکال کے جواب میں لکھا ہے :

سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں، مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضلیت نہیں پھر مقام مدح میں ” ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ فرمانا اس صورت میں کیونکہ صحیح ہوسکتا ہے۔ ( تحذیر الناس ص ٣، مطبوعہ دیوبند، ١٣٩٥ ھ)

نیز لکھتے ہیں : غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جاوے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔

( تحذیر الناس ص ١٣، دیو بند، ١٣٩٥ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بایں معنی خاتم النبین ہونا کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں، قطعی اور متواتر ہے، لیکن شیخ نانوتوی نے اس عبارت میں اس معنی کو عوام کا خیال کہا ہے، نیز آپ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کو اپنے اختراعی کے اعتبار سے جائز کہا ہے اور اس کو خاتم النبین کے منافی نہیں قرار دیا، ان وجوہات کی بناء پر اعلی حضرت فاضل بریلوی (رح) نے شیخ نانوتوی کی تکفیر کردی۔ اس کی تفصیل ” حسام الحرمین “ اور ” التبشیر بردالتحذیر “ میں ملاحظہ کریں۔

” تحذیر الناس “ کی اشاعت کے بعد یہ اعتراض کیا گیا کہ مولانا قاسم نانوتوی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاتمیت زمانی کا انکار کردیا ہے، چناچہ شیخ نانوتوی نے اپنے دفاع میں متعدد بار یہ لکھا کہ :

(١) خاتمیت زمانی اپنی دین و ایمان ہے، ناحق کی نہمت زمانی تو سب کے نزدیک مسلمہ ہے۔ ( مناظرہ عجیبہ ص ٣)

(٢) حضرت خاتم المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلمہ ہے۔ (مناظرہ عجیبہ ص ٣)

(٣) ہاں یہ مسلمہ ہے کہ خاتمیت زمانی اجتماع عقیدہ ہے۔ (مناظرہ عجیبہ ص ٦٩ )

(٤) حاصل مطلب یہ ہے کہ خاتمیت زمانی سے مجھ کو انکار نہیں۔ ( مناظرہ عجیبہ ص ٥٠ )

(٥) مولانا خاتمیت زمانی کی میں نے تو توجیہ اور تائید کی ہے تغلیط نہیں کی۔ ہاں ! آپ گوشہ عنایت سے دیکھتے ہی نہیں تو میں کیا کروں ( الیٰ قولہ) اوروں نے فقط خاتمیت زمانی اگر بیان کی تھی تو میں نے اس کی علت یعنی خاتمیت مرتبی ذکر کی اور شروع تحذیر ہی میں اقتضاء خاتمیت مرتبی کی بہ نسبت خاتمیت زمانی کو ذکر کردیا، یہ تو اس صورت میں ہے کہ خاتم سے خاتم المراتب ہی مراد لیجئے اور خاتم کو مطلق رکھیے تو پھر خاتمیت زمانی کو ذکر کردیا، یہ تو اس صورت میں ہے کہ خاتم سے خاتم المراتب ہی مراد لیجئے اور خاتم کو مطلق رکھیے تو پھر خاصیت مرتبی اور خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی تینوں اس سے اسی طرح ثابت ہوجائیں گے۔ جس طرح آیت :“ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ “ (المائدہ : ٩٠) میں لفظ جس سے نجاست معنوی اور نجاست ظاہری دونوں ثابت ہوئی ہیں۔ ( مناظرہ عجیبہ ص ٣٧)

اب بجا طور پر یہ یہ سوال ہوتا ہے جب شیخ نانوتوی نے اتنی صراحت کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاتمیت زمانی کو تسلیم ہے، پھر فاضل بریلوی نے ان کی تکفیر کیوں کی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ” تحذیر الناس “ کی جن عبارات سے خاتمیت زمانی کا انکار لازم آتا ہے ( مثلاً یہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ ص ٣) چونکہ شیخ ناتوی نے ان عبارات سے رجوع نہیں کیا اور ان کو بجا لہا قائم رکھا، اس وجہ سے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے ان کی تکفیر کردی۔ ( واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب)

سات زمینوں کے متعلق میں نے زیادہ تفصیل اور تحقیق اس لیے کی کہ یہ اثر ہر دور میں علماء کے درمیان معرکۃ الآراء رہا ہے، حتیٰ کہ اس ڈور کی گتھی سلجھاتے سلجھاتے بعض علماء تکفیر میں زد میں آگئے۔

اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر دلیل

اس کے بعد فرمایا : ان کے درمیان ( تقدیر کے موافق) اس کا حکم ( تکوینی) نازل ہوتا ہے تاکہ جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور بیشک اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

عطاء نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ ان زمینوں کے درمیان اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف وحی نازل فرماتا ہے، ہر زمین میں اور ہر آسمان میں مقاتل نے کہا : وہ سب سے اوپر والے آسمان سے سب سے نچلی زمین کی طرف وحی نازل فرماتا ہے، مجاہد نے کہا وہ کسی کی حیات کا حکم نازل فرماتا ہے اور کسی کی موت کا، کسی کی سلامتی کا حکم نازل فرماتا ہے اور کسی کی ہلاکت کا۔

قتادہ نے کہا : آسمانوں میں سے ہر آسمان میں زمینوں میں سے ہر زمین میں اس کی مخلوقات میں سے مخلوق ہے اور اس کے احکام شرعیہ ہیں اور اس کی تقدیر کے موافق نازل ہونے والے احکام ہیں۔

اور جب تم آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق ہیں اور ان کے مدبر انہ نظام میں غور و فکر کرو گے تو تم پر منکشف ہوجائے گا کہ یہ عظیم الشان تخلیق ہے اور بےمثال تدبر وہی شخص کرسکتا ہے، جس کی قدرت ذاتی ہو کسی سے مستعار نہ ہو اور جب کا علم محیط اور کامل ہو، جو غیر حادث اور غیر قانونی ہو، جو قدیم اور واجب ہو وہی رب کائنات ہے اور وہی سب کی عبادتوں کا مستحق ہے اور وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی تعظیم بجا لائی جائے۔

سورۃ الطلاق کا اختتام

الحمد للہ علی احسانہ آج سولہ محرم ١٤٢٦ ھ /٢٦ فروری ٢٠٠٥ ء بہ روز ہفتہ بعد نماز ظہر سورة الطلاق کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ ٢ فروری کو اس سورت کی ابتداء کی تھی اور ٢٦ فروری کو یہ مکمل ہوگئی، اس طرح اس کی تکمیل میں ٢٤ دن لگ گئے۔ ہرچند کہ اس میں صرف بارہ آیات ہیں لیکن ان میں کافی دقیق اور تفصیل طلب مباحث تھے، ہفتہ ١٩ فروری سے اس ہفتہ تک میں بخار اور اس کے عوارض میں مبتلا رہا اور کام بالکل نہیں کرسکا، بہر حال اللہ تعالیٰ نے شفاء عطاء فرمائی اور آج میں اس سورت کو مکمل کرنے پر قادر ہوا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس طرح اس نے اس سورت کی تفسیر کو مکمل کرا دیا، باقی سورتوں کی تفسیر کو بھی اپنے فضل و کرم سے مکمل کرا دے اور قیامت تک کے لیے اس تفسیر کو قائم اور فیض آفریں رکھے اور میری اور میرے والدین کی اور سب مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔

والحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد خاتم النبین افضل المرسلین شفیع المذنبین و علیٰ آلہ الطیبین و اصحابہ الراشدین وازواجہ امھات المومنین و جمیع المسلمین۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 12