جلالی صاحب اور حنیف قریشی کے اختلاف میں اہلسنت عوام کو ایک چیز سمجھنی چاہیے
جلالی صاحب اور حنیف قریشی کے اختلاف میں اہلسنت عوام کو ایک چیز سمجھنی چاہیے۔
کہ ج*لالی صاحب کے الفاظ قابل گرفت ہیں کہ عرف عام میں فقط “خطا” کے الفاظ اگرچہ ائمہ سلف نے مطلقا “خطا” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لیکن دوران تقریر ان الفاظ کو بیان کرنا صحیح نہیں۔
کیونکہ تصانیف میں فقہ کے الفاظ کا مطلب اور ہوتا ہے۔ اور عام عوام میں ان الفاظ جنکا عرفی معنی یا تو با اعتبار زمانی بدنام ہوتا ہے یا رکیک
تو حضرت فاطمہ رضی اللہ کی ذات اتنی اونچی و مقدس ہے کہ انکی ذات کے ساتھ فقط “خطاء” کے الفاظ معیوب ہیں انکو اس مسلہ پر علماء کی نشاندہی پر “الفاظ” مطلقا خطاء واپس لینے چاہیے ۔
لیکن ج*لالی صاحب کا یہ موقف کہ سیدہ فاطمہ کا موقف خطائے اجتہادی پر مبنی تھا یہ موقف صحیح ہے۔
کیونکہ اہلسنت نے حضرت ابو بکر صدیق کے موقف کو ہمیشہ صواب کہا ہے۔
جسکا صاف مطلب ہے کہ بی بی فاطمہ حدیث سے عدم علم کی وجہ سے یا اجتہادی سبب جو بھی ہو کسی بھی بنیاد پر باغ فدک کے مطالبہ پر خطائے اجتہادی پر تھیں۔
کیونکہ حضرت فاطمہ نے حدیث کی روشنی میں جب حضرت ابو بکر صدیق سے صلح فرمائی تو حضرت ابو بکر صدیق کے موقف صلح فرمائی۔
تو حضرت بی بی فاطمہ کا اپنے مطالبے سے رجوع ثابت ہے۔
کچھ عوام جنکا یہ دعوی ہے کہ حضرت فاطمہ پر خطائے اجتہادی کا موقف کا اطلاق غلط ہے کیونکہ انکو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخصیص کا علم نہ تھا۔
تو علم نہ ہونے کی بنیاد پر بھی مطالبہ پر خطائے اجتہادی ہی کا حکم لگتا ہے۔
جب دلائل کا محاسبہ کیا جاتا ہے!
تو ج*لالی صاحب کا یہ موقف کے انکے مطلقا الفاظ “خطاء” کہنا ائمہ سلف سے ثابت ہے تو اسکا انکار نہیں۔
لیکن عرفی زمانی اعتبار سے عورت کے ساتھ مطلقا “خطاء” کے الفاظ منفی معنی میں استعمال ہونے کی وجہ سے با اعتبار زمانی نا جائز ہیں۔
اور اسی موقف کو حضرت امیر معاویہ پر بھی لاگو کیا جائے گا۔
کہ حق مولا علی کے ساتھ تھا اور حضرت امیر معاویہ خطائے اجتہادی پر تھے۔
لیکن اب انکی ذات کے ساتھ “باغی” لفظ استعمال کرنا صلح امام حسن کے بعد ناجائز ہے۔
کیونکہ اہل فقہ و محدثین نے حضرت معاویہ کے ساتھ دوران جنگ مولا علی کے مقابل “باغی” مطلقا الفاظ استعمال کیے ہیں اور یہ جائز بھی ہے۔
آج عرفی با اعتبار زمانی لفظ “باغی” سرکشی کے ساتھ مخصوص ہو چکا ہے۔
تو با اعتبار زمانی ان الفاظ کا اطلاق آج کے دور میں صحابہ کے ساتھ لگانا صحیح نہیں۔
کیونکہ یہ دہرا معیار ہے کہ ایک طرف حضرت بی بی فاطمہ پر لفظ “خطائے اجتہادی” قبول نہیں۔
اور دوسری طرف حضرت معاویہ پر لفظ “خطائے اجتہادی” کی بجائے “باغی باغی” کی رٹ لگانے پر زور دیا جائے۔
جبکہ اعتدال کا راستہ تو یہ ہے کہ حضرت معاویہ کی ذات کے لیے بعض لوگوں کے دل اس بات پر مطمئن نہیں ہوتے کہ خطائے اجتہادی کے الفاظ استعمال کرنے پر انکا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ “باغی باغی” کی رٹ لگاتے ہیں۔
اور دوسری طرف “فقط اجتہادی خطاء” کے الفاظ کا حضرت فاطمہ پر اطلاق پر شور و غل!
خلاصہ کلام!
حضرت بی بی فاطمہ پر لفظ “خطاء” نا جائز ہے با اعتبار زمانی البتہ “خطائے اجتہادی جائز”
ایسے حضرت امیر معاویہ کی ذات کے ساتھ آج کےدور میں لفظ “باغی ” با اعتبار زمانی کہنا بھی ناجائز ہے۔
البتہ “خطائے اجتہادی” کہنا جائز!
اسدالطحاوی ✍