أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞

ترجمہ:

اے مسلمانو ! ) بیشک اللہ نے تمہارے لیے قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر فرما دیا ہے، اللہ تمہارا مددگار ہے، اور وہ خوب جاننے والا ہے بےحد حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( اے مسلمانو ! ) بیشک اللہ نے تمہارے لیے قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر فرما دیا ہے، اللہ تمہارا مددگار ہے، اور وہ خوب جاننے والا بےحد حکمت والا ہے ( التحریم : ٢)

قسم کی گرہ کھولنے کا طریقہ

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قسموں کے کھولنے کے طریقہ کا ذکر فرمایا ہے، اس کا بیان اس آیت میں گزر چکا ہے۔

” لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہ ُ بِاللَّغْوِ فِیْ ٓاَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَج فَکَفَّارَتُـہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْ کِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْط وَاحْفَظُوْآ اَیْمَانَکُمْط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہ ُ لَکُمْ اٰیٰـتِـہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ “ (المائدہ : ٨٩)

اللہ تمہاری بےمقصد قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرمائے گا، لیکن تمہاری پختہ قسموں پر تمہاری گرفت فرمائے گا، سو ان کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلانا ہے، جیسا تم اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو، یا ان مسکینوں کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، جو ان میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھائو ( اور توڑ دو ) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو

اس کی تحقیق کہ آیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قسم کا کفارہ دیا تھا یا نہیں

اس آیت میں صراحتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر فرما دیا اور اشارۃً امت کو خطاب ہے اور اس میں جمع کا صیغہ آپ کی تعظیم کو ظاہر کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ جب کسی کام کے کرنے یا کرنے کی قسم کھائی جاتی ہے تو اس کے کرنے یا نہ کرنے پر گرہ باندھ دی جاتی ہے اور جب اس قسم کا کفارہ دے دیا جاتا ہے تو اس گروہ کو کھول دیا جاتا ہے، اسی طرح اگر قسم کھانے کے بعدان شاء اللہ کہہ دیا جائے پھر بھی وہ گرہ کھل جاتی ہے، ہمارے امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب کسی حلال چیز کو حرام کرلیا جائے تو وہ قسم ہے اور جب آپ نے شہد پینے کو یا حضرت ماریہ سے مقاربت کو اپنے اوپر حرام کرلیا تو آپ نے گویا قسم کھائی کہ آپ شہد نہیں پئیں گے یا حضرت ماریہ سے مقاربت نہیں کریں گے، اور بعض روایات میں اس کی تصریح ہے کہ آپ نے اس کی قسم کھائی تھی۔

امام مقاتل بن سلیمان متوفی ١٥٠ ھ بیان کرتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ماریہ سے مقاربت نہ کرنے کی قسم کھائی تھی اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اس کے کفارہ میں ایک غلام کو آزاد کیا۔ ( تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٣٧٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

مفسرین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھائی تھی کہ آپ حضرت ماریہ سے مقاربت نہیں کریں گے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو کفارہ قسم واجب کیا تھا اس کو بیان فرمایا۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٦٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قسم کا کفارہ دیا تھا، اور حسن بصری نے یہ کہا ہے کہ آپ نے کفارہ نہیں دیا، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولیٰ تمام کاموں کی مغفرت کردی گئی ہے، ( یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ کے مغفور ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے افعال پر احکام شرعیہ مرتب نہ ہوں، پس جس طرح جنابت کے بعد آپ کا غسل کرنا آپ کی مغفرت کے منافی نہیں ہے، اسی طرح قسم توڑنے کے بعد اس کا کفارہ دینا بھی آپ کی مغفرت کے منافی نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہٗ ) اور اس سورت میں آپ کی امت کو قسم کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن پہلا قول صحیح ہے۔

علامہ ابو القاسم عبد الکریم بن ھوازن قشیری متوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت فرماتے ہوئے یہ آیت نازل کی، اور ایک قول یہ ہے کہ آپ نے ایک غلام آزاد کر کے کفارہ دیا اور حضرت ماریہ سے دوبارہ مقاربت کی۔

اللہ سبحانہ ٗ نے یہ سنت جاری کی ہے کہ جب اس کا بندہ کسی چیز سے زیادہ محبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور وہ اس کے دل کو اس چیز سے ہٹا دیتا ہے، پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ اس کو اس چیز کی طرف متوجہ کردیتا ہے، اسی طریقہ پر اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کو آپ کی زوجات کی طرف سے ہٹا دیا اور آپ ان سے الگ ہوگئے، اور آپ نے حضرت حفصہ کو ( رجعی) طلاق دی اور انتیس راتوں تک حضرت ماریہ کے ساتھ مقاربت سے رکے رہے، اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی غیرت کی وجہ سے تھا، حتیٰ کہ سب نے دلوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیا۔

( لطائف الاشارات (تفسیر القشری) ج ٣ ص ٣٣٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

یہ ثابت نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہو کہ میں اللہ کے حلال کیے ہوئے کو اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، آپ نے صرف اپنے آپ کو حضرت ماریہ کی مقاربت سے روک لیا تھا اور یہ قسم کھائی کہ میں آج کے بعد ان کے قریب نہیں جائوں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حسن بصری نے کہا : آپ نے اس قسم کا کفارہ نہیں دیا کیونکہ آپ مغفور ہیں اور یہ آیت صرف مومنین کی تعلیم کے لیے نازل ہوئی ہے، اور مقاتل نے بیان کیا ہے کہ آپ نے حضرت ماریہ سے مقاربت نہ کرنے کی جو قسم کھائی تھی اس کا کفارہ دیا تھا، اور یہ آپ کے مغفور ہونے کے منافی نہیں ہے، کیونکہ احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں بہ ظاہر آپ اور امت مساوی ہیں۔ ( روح البیان ج ١٠ ص ٦٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی متوفی ١٢٣٣ ھ لکھتے ہیں :

حسن بصری نے کہا : آپ نے کفارہ نہیں دیا تھا، یہی امام مالک کا قول ہے، اور اصل یہ ہے کہ بغیر دلیل کے خصوصیت ثابت نہیں ہوتی ( اور خصوصیت پر دلیل ہے نہیں، بلکہ دلیل اس کے خلاف ہے کیونکہ مقاتل نے بیان کیا ہے کہ آپ نے اس کے کفارہ میں ایک غلام کو آزاد کیا۔ ) (حاشیۃ الصاوی علی الجلالین ج ٦ ص ٢١٩١، دارالفکر، بیروت، ١٤٢١ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

قتادہ، شعبی اور امام سعید بن منصور نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت ماریہ کی قسم کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ ( الدرالمنثور ج ٨ ص ٢٠١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے ان ہی دلائل کو نقل کر کے اس کو ترجیح دی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قسم کا کفارہ ادا کیا تھا، نیز انہوں نے لکھا ہے :

امام مالک نے ” مدونہ “ میں زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ماریہ سے مقاربت کو حرام قرار دیا تھا اور یہ قسم کھائی تھی کہ آپ ان سے مقاربت نہیں کریں گے، آپ نے اس کا کفارہ ادا کیا تھا، شعبی سے بھی اس کی مثل مروی ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٨ ص ٢٢٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 2