يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَۚ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 1
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَۚ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اے نبی مکرم ! آپ اس چیزکو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال فرما دیا ہے تو آپ اپنی بیویوں کی رضا طلب کرتے ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے
تفسیر:
سورة التحریم مدنی ہے، اس میں بارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نبی مکرم ! آپ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال فرما دیا ہے، آپ اپنی بیویوں کی رضا طلب کرتے ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے (التحریم ١ )
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس چیز کو حرام قرار دیا تھا، یعنی کس چیز سے فائدہ اٹھانے سے اپنے آپ کو روک لیا تھا، اس سلسلہ میں تین روایات ہیں : ایک روایت یہ ہے کہ آپ حضرت زینب بنت حجش (رض) کے پاس جاتے تھے، وہ آپ کو شہد پلاتی تھیں، اس سے آپ نے اپنے آپ کو روک لیا تھا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت حفصہ (رض) نے آپ کو شہد پلایا تھا، سو آپ نے شہد پینے سے اپنے آپ کو روک لیا، تیسری روایت یہ ہے کہ آپ نے حضرت ماریہ قبطیہ سے مقاربت کرنے سے اپنے آپ کو روک لیا۔
پہلی روایت کی تفصیل یہ ہے :
امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت زینب بنت حجش (رض) کے پاس ٹھہر کر شہد پیتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے اور حضرت حفصہ نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں، وہ یہ کہے کہ مجھے آپ سے مغافیر ( ایک قسم کا گوند جس کی بو آپ کو ناپسند تھی) کی بو آرہی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آپ ہم میں سے کسی ایک کے پاس آئے، اور اس نے آپ سے ایسا ہی کہا : آپ نے فرمایا : نہیں ! میں نے زینب بنت حجش کے پاس شہد پیا ہے اور میں دوبارہ اس کو نہیں پیئوں گا، پھر یہ آیت نازل ہوئی :” لم تحرم ما احل اللہ لک ( الی قولہ تعالیٰ ) ان تتوبا “ یہ آیت حضرت عائشہ اور حفصہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ” وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا “ (التحریم : ٣) اس سے مقصود آپ کا یہ فرمانا ہے : نہیں ! میں نے شہدپیا تھا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢٦٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٧١٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٧٩٥، ٣٧٩٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٦١٤)
دوسری روایت کی تفصیل یہ ہے :
امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مٹھاس اور شہد کو پسند فرماتے تھے، عصر کی نماز کے بعد آپ اپنی ازواج (مطہرات) کے پاس جاتے تھے، ایک دن آپ حضرت حفصہ (رض) کے پاس گئے اور ان کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے، میں نے اس کی وجہ پوچھی، مجھے یہ بتلایا گیا کہ حفصہ کی قوم کی ایک عورت نے انہیں شہد بھیجا اور حفصہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہد کا شربت پلایا تھا، میں نے سوچا : خدا کی قسم ! ہم اب کوئی تدبیر کریں گے، میں نے اس بات کا حضرت سودہ سے ذکر کیا اور کہا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے پاس آئیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم کہنا : یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آپ فرمائیں گے نہیں، پھر تم کہنا، یہ بو کیسی ہے ؟ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات سخت نھا پسند تھی کہ آپ سے بو آئے، آپ یہی کہیں گے کہ مجھے حضرت حفصہ نے شہد کا شربت پلایا تھا، تم کہنا کہ شاید ان شہد کی مکھیوں نے درخت عرفطہ کا رس چوشا ہوگا، میں بھی یہی کہوں گی اور اسے صفیہ ! تم بھی یہی کہنا، جب آپ حضرت سودہ کے پاس آئے تو حضرت سودہ کہتی ہیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ( تمہارے ڈر سے) میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں وہی بات کہوں جو تم نے مجھے بتائی تھی، ابھی آپ دروازے پر تھ کہ حضرت سودہ نے کہا : حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا، حضرت سودہ نے کہا : شاید اس شہد کی مکھیوں نے عرفطہ کے درخت کو چوسا ہوگا، پھر جب آپ میرے پاس آئے تو میں نے بھی یہی کہا، پھر جب آپ حضرت صفیہ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب آپ حضرت صفیہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کو شہد نہ پلائوں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ نے کہا : بخدا ! ہم نے آپ پر شہد حرام کردیا ( یعنی اس کے استعمال سے روک دیا) میں نے ان سے کہا : چپکی رہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٧٢، صحیح مسلم کتاب الطلاق : ٢١، رقم المسلسل : ٣٦١٥، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٧١٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٨٣١ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٦١٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٣٢٣ )
صحیحین کی دو روایتوں کے تعارض کا جواب
صحیح مسلم کی پہلی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب بنت حجش کے پاس شہد پیا تھا اور ان کے خلاف حیلہ کرنے والی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ تھیں، یہ حدیث عبید بن عمیر کی روایت ہے اور صحیح بخاری میں بھی ہے، اس کے بر خلاف دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کے پاس شہد پیا تھا اور ان کے خلاف حیلہ کرنے والی حضرت عائشہ، حضرت صفیہ اور حضرت سودہ تھیں، یہ ہشام بن عروہ کی روایت ہے اور بخاری میں بھی ہے۔ عبید بن عمیر اور ہشام بن عروہ کی روایات باہم متعارض ہیں، علامہ بدر الدین عینی، علامہ ابن حجر اور علامہ کرمانی نے کہا ہے : یہ دو الگ الگ واقعات ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ ( عمدۃ القاری ج ٢٠ ص ٢٤٤) اور قاضی عیاض، علامہ قرطبی اور علامہ نووی کی تحقیق یہ ہے کہ عبید بن عمیر اور ہشام بن عروہ کی روایات باہم متعارض ہیں، علامہ بدر الدین عینی، علامہ ابن حجر اور علامہ کرمانی نے کہا ہے : یہ دو الگ الگ واقعات ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ ( عمدۃ القاری ج ٢٠ ص ٢٤٤) اور قاضی عیاض، علامہ قرطبی اور علامہ نووی کی تحقیق یہ ہے کہ عبید بن عمیر کی روایات راحج ہے اور ہشام بن عروہ کی روایت مرجوع ہے، ہماری رائے میں یہی صحیح ہے اور اس پر حسیب ذیل ہیں۔
(١) عبید بن عمیر کی سند زیادہ قوی ہے، اس سند کو امام نسائی، اصیلی، علامہ نووی اور حافظ ابن حجر نے ترجیح دی ہے۔
(ب) عبید کی روایت قرآن مجید کے موافق ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :” ان تظاھرا علیہ “ یعنی دو ازواج نے یہ کارروائی کی تھی اور دو کا ذکر عبید کی روایت میں ہے، ہشام نے تین کا ذکر کیا ہے۔
(ج) امام بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ ازواج مطہرات کے دو گروہ تھے، حضرت عائشہ، حضرت سودہ، حضرت حفصہ اور حضرت صفیہ ایک گروہ میں تھیں اور حضرت زینب بنت حجش اور حضرت ام سلمہ دوسرے گروہ میں تھیں۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپ جن کے پاس شہد پینے کے لیے ٹھہرتے تھے وہ حضرت زینب بنت حجش تھیں، اس لیے حضرت عائشہ کو یہ ناگوار ہوا اور ان کو طبعی غیرت لا حق ہوئی، کیونکہ ان کا تعلق حضرت عائشہ کے مقابل گروہ سے تھا۔
(د) عبید بن عمیر کی روایت کی تائید حضرت عمر اور حضرت ابن عباس کی روایات سے بھی ہوتی ہے، جن میں یہ تصریح ہے کہ کارروائی کرنے والی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ تھیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ پہلی روایت ہی زیادہ صحیح اور زیادہ معتمد ہے۔
تیسری روایت کی تفصیل یہ ہے :
امام علی بن عمر دارقطنی متوفی ٣٨٥ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ام ولد حضرت ماریہ (رض) سے حضرت حفصہ (رض) کے حجرہ میں مقاربت کی، حضرت حفصہ نے آپ کو ان کے ساتھ دیکھ لیا، وہ کہنے لگیں : آپ میرے حجرہ میں ان سے مقاربت کررہے ہیں، آپ نے اپنی ازواج سے صرف میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں ہے، آپ نے فرمایا : تم اس واقعہ کا عائشہ سے ذکر نہ کرنا، اب میرا ان سے مقاربت کرنا حرام ہے۔ حضرت حفصہ نے کہا : یہ آپ پر کس طرح حرام ہوں گی حالانکہ یہ آپ کی کنیز ہیں، آپ نے قسم کھائی کہ آپ ان سے مقاربت نہیں کریں گے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنا، پھر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو یہ بات بتادی، تب آپ نے یہ قسم کھالی کہ آپ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس نہیں جائیں گے، پھر آپ انتیس راتوں تک اپنی ازواج کے پاس نہیں گئے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آت نازل فرمائی :” لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَک “ (التحریم : ١)
( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٤٦، دارالمعرفہ، بیروت، ١٤٣٢ ھ)
حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی و مفتی متوفی ٧٧٤ ھ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قسم کا کفارہ دے دیا اور اپنی کنیز سے مقاربت کرلی، اور حضرت عمر سے روایت ہے کہ آپ نے حضرت ماریہ سے مقاربت نہ کرنے کی قسم کھالی تھی، پھر جب تک حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو اس واقعہ کی خبر نہیں دی، آپ نے حضرت ماریہ سے مقاربت نہیں کی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
قَدْ فَرَضَ اللہ ُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ (التحریم : ٢) ( اے مسلمانو ! ) بیشک اللہ نے تمہارے لیے قسموں کو کھولنے کا طرقہ مقرر فرما دیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور صحابہ ستہ کے مصنفین میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا اور حافظ الضیاء المقدسی نے اپنی کتاب ” مستخرج “ میں اسی روایت کو اختیار کیا ہے۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٢٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)
مذکور الصدر روایت میں حضرت ماریہ قبطیہ (رض) کا ذکر آگیا ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ماریہ کی سوانح ذکر کردی جائے۔
حضرت ماریہ قبطیہ (رض) کی سوانح
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ماریہ قبطیہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ام ولد ہیں، ان کے بطن سے حضرت ابراہیم متولد ہوئے۔ امام محمد بن سعد نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ مقوقس صاحب اسکندریہ نے سات ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت ماریہ اور ان کی بہن سیرین کو بھیجا، ان کے علاوہ ایک ہزار متقال سونا، بیس ملائم کپڑے اور خچر ( دلدل) اور ایک دراز گوش بھیجا جس کا نام عفیریا یعفور تھا، اور اس کے ساتھ خصی شخص بھی تھا جس کا نام مابور تھا، اور ایک بوڑھا شخص بھیجا جو حضرت ماریہ کا بھائی تھا، اور ان سب کو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے ساتھ بھیجا، پھر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے حضرت ماریہ کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور مسلمان ہونے کی ترغب دی، پس وہ بھی مسلمان ہوگئیں اور ان کی بہن بھی مسلمان ہوگئیں اور وہ خصی شخص اپنے دین پر برقرار رہا حتیٰ کہ وہ بعد میں مدینہ پہنچ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا، حضرت ماریہ کا گورا رنگ تھا اور وہ بہت خوبصورت تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک بلند منزل پر ٹھہرا یا، اس کو ام ابراہیم کا بالا خانہ کہا جاتا تھا، آپ ان کے پاس بہت زیادہ آتے جاتے تھے اور ان سے مباشرت کرتے تھے کیونکہ وہ آپ کی باندی تھیں، آپ نے ان کو پردہ میں رکھا، وہ آپ سے حاملہ ہوگئیں اور آٹھ ہجری میں ان کا وضع حمل ہوا۔
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : مجھے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی غیرت مجھے حضرت ماریہ پر آتی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ و بہت خوبصورت اور گھونگریالے بالوں والی تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ بہت پسند تھیں، جب وہ مصر سے آئیں تو آپ نے ان کو حضرت حارث بن النعمان کے گھر میں ٹھہرایا، سو وہ ہماری پڑوسن ہوگئیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وہاں سے بالا خانے میں منتقل کردیا۔
امام بزار نے سند حسن کے ساتھ حضرت بریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ قبط کے امیر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو باندیاں اور ایک خچر پیش کیا تھا، آپ مدینہ میں اس خچر پر سواری کرتے تھے، ان دو باندیوں میں سے ایک باندی کو آپ نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
امام واقدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) تا حیات حضرت ماریہ کو خرچ دیتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے، پھر حضرت عمر ان کو خرچ دیتے رہے حتیٰ کہ ان کے دور خلافت میں حضرت ماریہ (رض) فوت ہوگئیں۔
واقدذی نے بیان کیا ہے کہ محرم ١٦ ہجری میں حضرت ماریہ کی وفات ہوئی، حضرت عمر نے ان کے جنازہ میں بہت لوگوں کو جمع کیا اور بقیع ہیں اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ( الاصابہ ج ٨ ص ٣١١، ٣١٠ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)
مابور پر حضرت ماریہ کی تہمت اور اس کا اس تہمت سے بری ہونا
امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ام ولد حضرت ماریہ پر ایک شخص (مابور) کے ساتھ تہمت لگائی جاتی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ تم جا کر اس کی گردن مار دو ، جس وقت حضرت علی اس کے پاس پہنچے وہ اس وقت ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کر رہام تھا، حضرت علی نے اس سے کہا : نکلو اور اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کو نکالا، تب حضرت علی (رض) نے دیکھا کہ اس کا آلہ تناسل بالکل کٹا ہوا ہے، تب حضرت علی (رض) رک گئے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کا آلہ تو بالکل کٹا ہوا ہے۔
(صحیح مسلم التوبۃ : ٥٩، رقم الحدیث : ٢٧٧١، الرقم المسلسل : ٦٨٩٠)
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حرم محترم ( حضرت ماریہ) کو اس سے محفوظ رکھا کہ ان کی طرف سے کوئی تقصیر ہو اور واقعہ یہ تھا کہ مابور قبطعی تھا اور حضرت ماریہ بھی قبطیہ تھیں اور ہم زبان اور ہم علاقہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ کے پاس آتا تھا اور آپ سے باتیں کرتا تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حضرت ماریہ کے ساتھ باتیں کرنے سے منع کردیا تھا اور جب اس نے عمل نہیں کیا تو وہ قتل کا مستحق ہوگیا، یا تو آپ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اور یا اس وجہ سے کہ اس نے آپ کو ایذاء پہنچائی، اس وجہ سے آپ نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ وہ اس کو قتل کردیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس کی ایذاء پہنچائی، اس وجہ سے آپ نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ وہ اس کو قتل کردیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس کی پاک دامنی کا علم ہو اور آپ کو معلوم ہوا کہ اس کا آلہ نہیں ہے، اس کے باوجود آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ حضرت علی (رض) اس کو برہنہ دیکھ لیں اور ان پر حقیقت ِ حال منکشف ہوجائے اور جو لوگ اس کو حضرت ماریہ کے ساتھ تہمت لگاتے ہیں وہ تہمت زائل ہوجائے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف یہ وحی کی ہو کہ آپ اس کو قتل نہ کریں کیونکہ آپ پر اس کا حال منکشف ہوجائے گا کیونکہ وہ کنویں میں برہنہ نہا رہا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس کو حقیقۃً قتل کرنے کا حکم دیاہو حالانکہ آپ کا علم تھا کہ وہ قتل نہیں ہوگا کیونکہ اس کا اس تہمت سے بری ہونا آپ کے نزدیک دلیل سے واضح ہوجائے گا۔
( اکمال العلم بفوائد مسلم : ج ٨ ص ٣٠٤، دارالوفا، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ اور علامہ سنوسی مالکی متوفی ٨٩٥ ھ نے بھی اس جواب کو نقل کیا ہے۔
(اکمال اکمال المعلم و مکمل اکمال الاکمال ج ٩ ص ٢١٧، ٢١٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)
اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کا کفارہ ادا کرنا
امام محمد بن سعد نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ماریہ کے آنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دن اور رات کا اکثر وقت حضرت ماریہ کے ساتھ بسر ہونا تھا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بیٹا پیدا کردیا۔
زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام ابراہیم کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ پر حرام ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی :
قَدْ فَرَضَ اللہ ُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ (التحریم : ٢) اے مسلمانو ! بیشک اللہ نے تمہارے لیے قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر فرما دیا ہے۔
امام محمد بن سعد نے ضحاک سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اوپر اپنی باندی کو حرام کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا انکار کردیا اور وہ باندی آپ پر لوٹا دی اور آپ کی قسم کا کفارہ دے دیا۔
(الطبقات الکبریٰ ج ٨ ص ١٧١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)
التحریم ! کے سبب نزول کی تین روایتوں میں سے کون سی روایت زیادہ صحیح اور معتبر ہے ؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کے نفع سے اپنے آپ کو جو روک لیا تھا، ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس سلسلہ میں تین روایات ہیں لیکن زیادہ صحیح اور معتبر روایت یہ ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو حضرت زینب بنت حجش (رض) کے پاس ٹھہر کر شہد پینے سے روک لیا تھا۔
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ لکھتے ہیں :
ان اقوال میں زیادہ صحیح پہلا قول ہے یعنی حضرت زینب بنت حجش (رض) آپ کو شہد پلاتی تھیں اور حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ (رض) کو ناگوار گزرنے کی وجہ سے آپ نے اپنے آپ کو اس سے روک لیا تھا، اور سب سے کمزور قول متوسط ہے یعنی حضرت حفصہ (رض) آپ کو شہد پلاتی تھیں، جس سے آپ نے اپنے آپ کو روک لیا۔ علامہ ابن العربی نے کہا : اس کے ضعیف کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی عادل نہیں ہیں اور اس کا معنی اس لیے درست نہیں ہے کہ کسی ہبہ شدہ چیز کو واپس کردینا تحریم نہیں ہے، اور رہی تیسری روایت کہ آپ نے حضرت ماریہ قبطیہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا تو اس کے راوی بھی ثقہ ہیں اور اس کا معنی بھی درست ہے لیکن یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں ہے اور یہ مرسل روایت ہے، خلاصہ یہ ہے کہ راجح اور صحیح پہلی روایت ہے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ١٦٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حافظ عماد الدین ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے پہلے یہ روایت ذکر کی کہ حضرت حفصہ آپ کو شہد پلاتیں تھیں، پھر لکھا کہ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت زینت بنت حجش ہی وہ خاتون ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہد پلاتی تھیں، پھر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ دونوں اپنی تجویز پر متفق ہوگئیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دونوں واقعے اس آیت کے نزول کا سبب ہوں، گمر اس پر اعتراض ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک حدیث ذکر کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق حضرت زینب کے شہد پلانے سے ہی تھا۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٢٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تحریم میں اختلاف ہے، حضرت عائشہ کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب حضرت زینب بنت حجش کے ہاں شہد پینا ہے، اور ایک حدیث سے معلومہوتا ہے کہ آپ نے حضرت ماریہ سے مقاربت کو اپنے اوپر حرام قرار دیا تھا، پس یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت ان دونوں سببوں سے نازل ہوئی ہو۔ ( فتح الباری ج ٩ ص ٦٥٥، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد بن الخفاجی المتوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں :
التحریم : ١ کے سبب نزول میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرت ماریہ کے قصہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ شہد پینے کے قصہ میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ نے صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٤ کی شرح میں لکھا ہے کہ یہ آیت شہد کے قصہ میں نازل ہوئی ہے نہ کہ حضرت ماریہ کے قصہ میں، جو کہ غیر صحاح میں مروی ہے اور صحیح یہی ہے کہ یہ آیت حضرت زینب بنت حجش (رض) کے ہاں شہد پینے کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔
( عنایۃ القاضی ج ٩ ص ٢٠٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ )
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :
صحیح یہ ہے کہ آیت شہد کے قصہ میں نازل ہوئی ہے نہ کہ حضرت ماریہ کے قصہ میں جو کہ غیر صحاح میں مروی ہے۔ ( یہ قصہ المجعم الکبیر رقم الحدیث : ١١٣٠ میں مروی ہے) علامہ ذہبی نے کہا : اس کی سند میں ایک راوی مجہول ہے اور اس سے حدیث ساقط ہے ( کسی سند صحیح سے یہ قصہ مروی نہیں ہے۔ امام نسائی نے کہا کہ شہد کے قصہ میں حضرت عائشہ کی حدیث کی سند جید ہے اور اعلیٰ درجہ کی صحیح ہے۔ ( اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٥ ص ٢٩، دارالوفاء، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ بن خلیفہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔
(اکمال اکمال المعلم ج ٢٠٣٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :
خلاصہ یہ ہے کہ التحریم : ١ کے سبب نزول میں روایات مختلف ہیں لیکن علامہ نووی شافعی اور علامہ نووی کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت ماریہ کے قصہ کی سند صحیح نہیں ہے کہ اس کا سبب نزول حضرت زینب بنت حجش (رض) کے ہاں شہد پینا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٨ ص ٢١٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
مغافیر کے معنی کی تحقیق
صحیح مسلم : ١٤٧٤ میں ہے : حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، سو ہم مغافیر کے معنی کی تحقیق کر رہے ہیں :
علامہ ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
مغافیر کا واحد مغفور ہے، اس کی بو سخت ناگوار اور بری ہوتی ہے۔ ( العنایہ ج ٣ ص ٣٣٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)
نیز علامہ ابن الاثیر لکھتے ہیں : الغرفط ببول کا درخت ہے، اس سے بد بودار گوند نکلتا ہے، جب شہد کی مکھی اس کے پتوں کا رس چوتی ہے تو اس کے شہد سے ناگوار بو آتی ہے۔ ( العنایہ ج ٣ ص ١٩٨، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ محمد طاہر گجراتی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں :
یہ ایک میٹھا گوند ہوتا ہے جس کی بوناگوار ہوتی ہے، علامہ کرمانی نے کہا ہے : یہ گوند کسی درخت سے حاصل ہوتا ہے اور اس کو پانی میں ملا کر پیا جاتا ہے، اس کی بو ناگوار ہوتی ہے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو ناپسند کرتے تھے کہ آپ کے منہ سے اس کی بو آئے۔ (مجمع بحارالانوار ج ٤ ص ٥١، مکتبہ دارالایمان، مدینہ منورہ، ١٤١٥ ھ)
اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغافیر نہیں کھایا تھا پھر ازواج مطہرات نے کیسے کہہ دیا کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں ہے : ازواج نے کہا : شاید اس شہد کی مکھیوں نے عرفط کے درخت کو چوسا ہوگا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٧٢)
ازواج کا مطلب یہ تھا کہ اس وجہ سے جو شہد آپ نے پیا اس سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔
علامہ اسماعیل بن حماد جوہری متوفی ٣٩٨ ھ لکھتے ہیں :
کیکر، ببول، بیروی اور دیگر کانٹے دار درختوں سے پھوٹ کر جو گوند نکلتا ہے اس کو مغفور کہتے ہیں۔
(الصحاح ج ٢ ص ٧٧٢، دارالعلم للملا یین، ١٣٧٦ ھ)
حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کے لیے مغافیر کا حیلہ کرنا آیا گناہ تھا یا نہیں ؟
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ لکھتے ہیں :
ازواج مطہرات نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت زینب کے گھر زیادہ ٹھہرنے سے منع کرنے کے لیے یہ حیلہ کیا تھا کہ آپ سے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، علامہ کرمانی نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے لیے یہ حیلہ کرنا کس طرح جائز ہوگا، پھر اس کا یہ جواب دیا کہ یہ عورتوں کی غیرت طبعیہ کے تقاضوں سے ہے اور ان کا یہ کہنا گناہ صغیرہ ہے جو ان کی دوسری نیکیوں سے معاف ہوگیا۔ ( عمدۃ القاری جز ٢٠ ص ٣٤٧، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
غیرت کا معنی
میں کہتا ہوں کہ ایک حدیث میں حضرت عائشہ (رض) نے خود اپنی طرف غیرت کرنے کی نسبت کی ہے :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہد اور مٹھاس سے محبت کرتے تھے، جب آپ عصر کی نماز پڑھ کر لوٹے تو آپ حضرت حفصہہ بنت عمر کے پاس گئے اور وہاں بہت زیادہ دیر ٹھہرے، پس مجھے غیرت آئی۔ الحدیث۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢٦٨ )
علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
غیرت کا معنی ہے، حمیت، عار اور کسی چیز کا ناگوار ہونا یا اس چیز کو ناپسند کرنا، یعنی حضرت عائشہ (رض) کو طبعی طور پر یہ ناپسند تھا کہ آپ کسی اور زوجہ کے پاس زیادہ دیہر ٹھہریں۔ ( العنایہ ج ٣ ص ٣٦٠، دارالکتب العلیمہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)
علامہ محمد طاہر گجراتی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں :
” والغیرۃ کراھۃ المشارکۃ فی محبوب “ محبوب میں کسی اور کی شرکت کے ناپسند کرنے کو غیرت کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ شرک کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے شرک کرنے سے منع کردیا ہے۔ اسی طرح وہ بےحیائی کے کاموں کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے بےحیائی کے کاموں سے منع فرما دیا ہے۔ حدیث میں ہے : اللہ سے زیادہ کوئی اس چیز پر غیرت کرنے والا نہیں ہے کہ اس کا بندہ زنا کرے۔ (البخاری : ٧٤٠٣) (مجمع بحار الانوار جز ٤ ص ٨٥، مکتبہ دارالایمان، المدینۃ المنورۃ)
اس معنی کے اعتبار سے غیرت کا معنی یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کسی اور کی شرکت کو ناپسند کرتی تھی اور وہ یہ چاہتی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زیادہ سے زیادہ قرب صرف ان کو حاصل رہے اور حضرت زینب بنت حجش (رض) کے پاس آپ کا زیادہ ٹھہرنا آپ سے شدید محبت کی وجہ سے ناپسند تھا اور میں علامہ کرمانی کی اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ یہ آپ کا گناہ صغیرہ تھا، کیونکہ آپ نے جو کہا تھا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے یہ کچھ غلط اور جھوٹ نہ تھا کیونکہ حضرت عائشہ کے خیال میں آپ نے جو شہد پیا تھا تو شہد کی مکھیوں نے مغافیر کے درخت سے اس کا رس چوسا تھا اور اس میں مغافیر کی بو آگئی تھی، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ حیلہ کرنا خلاف اولیٰ ہو اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں اس قدر ڈوب گئیں تھیں کہ اس کے خلاف اولیٰ ہونے کی طرف ان کی توجہ مبذول نہیں ہوئی، اور ان کے بلند مقام کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پر بھی توجہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا :
اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللہ ِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا (التحریم : ٤) اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو ( تو اچھا ہے) کیونکہ تمہارے دل اعتدال سے کچھ ہٹ چکے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہد سے امتناع کو حرام سے تعبیر کرنے کی تحقیق
صحیح مسلم : ١٤٧٤ میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے شہد نہیں پیوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر یوں کیا۔ ” آپ اس چیز کو حرام کیوں کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے “۔ ” لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَک “ (التحریم : ١)
امام رازی فرماتے ہیں : جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو اس کو حلال کرنا غیر ممکن ہے، کیونکہ حلال کرنے میں حلت کو ترجیح ہے اور حرام کرنے میں حرمت کو ترجیح ہے اور دونوں ترجیحیں جمع نہیں ہوسکتیں، پس قرآن مجید میں ” لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَک “ (التحریم : ١) آپ اس چیز کو کیوں حرام کر رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے، کا کیا محمل ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں حلال چیز کے نفع سے اپنے آپ کو روکنا مراد ہے، اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ کو شرعاً حرام کرنا مراد نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام قرار دینا یا اس کے حرام ہونے کا اعتقاد کرنا کفر ہے، لہٰذا اس کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کیسے جائز ہوسکتی ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٦٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : آپ اللہ کے حلال کردہ کو حرام کیوں کرتے ہیں، اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی چیز کے حلال یا حرام کرنے کا اختیار نہیں ہے، یہ قول باطل ہے، آپ نے اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ کو حرام نہیں کیا جیسا کہ امام رازی کی عبارت سے واضح ہوچکا ہے اور آپ کا کسی چیز کو حلال کرنا یا حرام کرنا قرآن مجید سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ “ ( الاعراف : ١٥٧) ( وہ نبی) مسلمانوں کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور نا پاک چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ البتہ یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کسی چیز کو حلال یا حرام کرنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی جلی یا وحی خفی کے کسی اشارہ سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جان کر کسی چیز کو حلال یا حرام کرتے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہد نہ پینے کے عزم کو سید مودودی کا ناپسندیدہ عمل کہنا
سید ابوالاعلیٰ مودودی ” لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَکَ “ (التحریم : ١) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
یہ دراصل استفہام نہیں ہے بلکہ نا پسندیدگی کا اظہار ہے یعنی مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ دریافت کرنا نہیں ہے کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے بلکہ آپ کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا جو فعل آپ سے صادر ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ ( الیٰ قولہ) اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فعال پر گرفت فرمائی اور آپ کو اس تحریم سے باز رہنے کا حکم دیا۔ ( تفہیم القرآن ج ٦ ص ١٥)
سید ابو الاعلیٰ مودودی نے جس طرح بار با حلال کو حرام کرنے کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی ہے اور آپ کے اس فعل کی جس طرح تصویر کھینچی ہے وہ اہل ایمان کے لیے یقینا دل آزار ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اوپر شہد کو حرام نہیں کیا تھا بلکہ اپنے آپ کو اس کے استعمال سے روک لیا تھا جیسا کہ امام رازق کی تحقیق سے ظاہر ہوچکا ہے اور حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں :” لن اعودلہ “ میں دوبارہ ہرگز شہد نہیں پیوں گا اور جن چیزوں کا کھانا پینا اللہ تعالیٰ نے مباح کردیا ہے ان میں مباح کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ ان کو کھانا اور نہ کھانا دونوں جائز ہیں، آپ کے لیے جس طرح شہد کو پینا جائز تھا اسی طرح اس کو نہ پینا بھی جائز تھا، پھر ایک مباح کا کام کرنا کس طرح ناپسندیدہ ہوسکتا ہے، دراصل اس آیت میں نہ آپ کے کسی فعل کے ناپسندیدہ ہونے پر تنبیہ کرنا مقصود ہے نہ آپ کے کسی فعل پر گرفت کی گئی ہے بلکہ آپ کی تعظیم و تکریم اور مقام نبوت کا اظہار کرنا مقصود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ آپ ازواج کو راضی کرنے کے لیے شہد کو کیوں ترک کر رہے ہیں، آپ کا یہ مقام نہیں کہ آپ ازواج کو رای کریں، آپ کا مقام یہ ہے کہ ازواج آپ کو راضی کریں، جن کی رضا خود خالق کائنات کو مطلوب ہے نہیں مخلوق میں سے کسی کو راضی کرنے کی کیا ضرورت ہے، اسی سیاق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” وَاِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللہ ہُوَ مَوْلٰـہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ ”) (التحریم : ٤) اگر نبی کے خلاف تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہیں تو بیشک اللہ نبی کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک مسلمان اور اس کے بعد سب فرشتے بھی ( ان کے) مددگار ہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ پر واضح کیا کہ اگر تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر نہیں چلیں تو انہیں کیا کمی ہوگی، جن کا اللہ محبت ہے، جبرائیل ان کا موافق ہے، نیک مسلمان اور سارے فرشتے ان کے مددگار ہیں، اگر ان آیات میں اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کو ناپسندیدہ قرار دے کر اس کی گرفت فرما رہا ہوتا تو کیا اس کا یہی اندازہ ہوتا !
بلا شبہ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک اور مولیٰ ہے اور جس کی گرفت کرنا چاہے اس پر قادر ہے، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور سلطنت سے محمد ( بےحد تعریف کیے ہوئے) مصطفیٰ اور مجتبیٰ (پسندیدہ اور برگزیدہ) بنایا ہے، آپ کو علی الاطلاق ہدایت کا منبع بنایا ہے، بغیر کسی استثناء کے آپ کے تمام افعال کو مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے، ہر مسلمان کی اخروی فوز و فلاح کے لیے آپ کی اتباع کو مطلقاً لازم کیا ہے، ہر مسلمان پر آپ کی اطاعت مطلقاً فرض کردی ہے۔ آپ کا کوئی فعل ناپسندیدہ اور گرفت کا موجب نہیں ہے۔ یقینا سید مودودی کی یہ تفسیر ہی ناپسندیدہ اور گرفت کی موجب ہے۔
بیوی کو حرام کہنے میں مذاہب فقہاء
صحیح مسلم : ١٤٧٣ میں حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے اپنی بیوی کو حرام کہنا قسم ہے اور اس پر کفارہ لازم ہے، اس مسئلہ میں فقہاء کے مسالک حسب ذیل ہیں :
علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : جس شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ ” تو مجھ پر حرام ہے “ اس کے بارے میں امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق ہوگی اور اگر اس نے بغیر طلاق اور اظہار کی نیت کے بعینہٖ اس عورت کی تحریم کی نیت کی ہے تو ان الفاظ کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا لیکن یہ قسم نہیں ہے اور اگر اس نے بغیر کسی نیت کے یہ الفاظ کہے ہیں تو اس میں امام شافعی کے دو قول ہیں، زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا، دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا یہ قول غو ہے اور اس پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوگا۔ ( صحیح مسلم ج ١ ص ٤٧٨، کراچی)
علامہ نووی شافعی نے لکھا کہ امام مالک کا مذہب مشہور یہ ہے کہ ان کلمات سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، خواہ بیوی مدخولہ ہو یا غیرمدخولہ، لیکن اگر اس نے تین سے کم کی نیت کی ہے تو غیر مدخولہ میں اس کی نیت قبول کرلی جائے گی۔ علامہ وشتانی مالکی کی عبارت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ( اکمال اکمال المعلم ج ٤ ص ١١١ طبع قدیم، بیروت)
علامہ علی بن سلیمان مرادی حنبلی لکھتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : ” تو مجھ پر حرام ہے “ اس کے بارے میں فقہاء حنبلیہ کے تین قول ہیں : (١) یہ ظہار ہے اور یہی فی الجملہ مذہب ہے، مستوعب، خلاصہ، محرر، عایتین، حاوی صغیر اور فروع میں اس کو مقدم کیا گیا ہے۔ (ب) یہ کنایہ ظاہرہ ہے اور اس سے تین طلاقیں پڑجاتی ہیں، حنبل اور اثرم سے روایت ہے : حرام تین طلاقیں ہیں (ج) یہ قسم ہے، علامہ زرکشی نے کہا ہے کہ یہ لفظ قسم میں ظاہر ہے، اگر اس نے یہ لفظ بغیر کسی نیت کے کہا ہے تو یہ قسم ہے اور اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق ہے اور ظہار کی نیت کی تو ظہار ہے، ہدایہ، مذہب، مسبوک الذہب اور مستوعب وغیرہ میں لکھا ہے کہ مشہور فی المذہب یہی قول ہے۔ ( الانصاف ج ٨ ص ٤٨٦)
علامہ ابو الحسن مرغینانی حنفی لکھتے ہیں : جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : ” جو مجھ پر حرام ہے “ اس کی نیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اگر اس نے کہا : میں نے جھوٹ کا ارادہ کیا تھا تو اسی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ یہ اس کے کلام کی حقیقت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ قضاء تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ قول بظاہر قسم ہے، اور اگر اس نے یہ کہا کہ میں نے طلاق کا ارادہ کیا ہے تو ان کلمات سے طلاق بائنہ ہوگی، الایہ کی اس نے تین طلاقوں کا ارادہ کیا ہو، اور اگر اس نے کہا : میں نے ظہار کا ارادہ کیا ہے تو یہ ظہار ہے، یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کا نظریہ ہے۔ امام محمدیہ کہتے ہیں کہ ان کلمات سے ظہار نہیں ہوسکتا کیونکہ ان میں تشبیہ نہیں ہے، اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ اس نے حرمت کا اطلاق کیا ہے اور اظہار میں بھی حرمت ہوتی ہے، اور اگر وہ کہے کہ میں نے تحریم کا ارادہ کیا ہے یا بلا ارادہ یہ الفاظ کہے ہیں تو یہ ایلاء ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے اور بعض مشائخ نے کہا ہے کہ جب کسی شخص نے بلا نیت یہ الفاظ کہے تو عرف کی بناء پر اس کو طلاق ( بائنہ پر محمول کیا جائے گا۔
(ہدایہ مع فتح القدیر ج ٤ ص ٥٥، سکھر)
علامہ بابرتی حنفی نے لکھا ہے کہ : ابوبکر اسعاف، ابو جعفر ہندوانی اور ابوبکر سعید نے لکھا ہے کہ فقیہ ابو اللیث نے کہا ہے ہم اسی قول پر عمل کرتے ہیں کیونکہ ہمارے زمانے میں لوگوں کی یہ عام عادت ہے کہ وہ ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ کرتے ہیں۔
( الغایہ علیٰ ھامش فتح القدیر ج ٤ ص ٥٦، سکھر)
علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں : یہ مشائخ متأخرین کا اپنے زمانے کے عرف کی بناء پر فتویٰ ہے، یہی وجہ ہے کہ مرد یہ الفاظ کہتے ہیں اور اگر عورت خاوند سے کہے :” تم پر حرام ہوں “ تو یہ قسم ہے اور اس کے بعد اس نے خاوند کو مقاربت کا موقع دیا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفارہ لازم ہوگا، یہ کلمہ ایسے ہے جیسے مرد نے بغیر نیت کے طلاق کے الفاظ کہے تو صریح الفاظ کی وجہ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور یہاں پر صراحت کا موجب عرف ہے، اس بناء پر فقہاء نے کہا ہے کہ کسی شخص نے یہ کلمات کہے اور کہا : میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو قضاء : اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ (فتح القدیر ج ٤ ص ٥٦، سکھر)
علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں : جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : ” تو مجھ پر حرام ہے “ فقہاء متأخرین کہتے ہیں، ان الفاظ سے بغیر نیت کے طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی اور فتویٰ متاخرین کے قول پر ہے۔
( ردالمحتار ج ٤ ص ٣٤٣، دار احیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 1