۲۳- حدثنا محمد بن عبيد لله قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح ، عن ابن شهاب، عن أبي أمامة بن سـهـل انه سمع أبا سعيد الخدري يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا۔أنا نائم رأيت الناس يعرضون على وعليهم قمص، منها ما يبلغ الثدي، ومنها ما دون ذلك وعرض على عمر بن الخطاب وعليه قميص يجره قالوا فماأولت ذلك يارسول الله؟ قال الدين.

اطراف الحدیث :3691۔ ۷۰۰۸۔۷۰۰۹ .

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن عبیداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے از صالح از ابن شہاب از ابوامامہ بن سہل، یہ حدیث بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس وقت میں سویا ہوا تھا تو میں نے (خواب میں) دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور سب پر قمیصیں ہیں، بعض کی قمیصیں پستانوں تک ہیں اور بعض کی اس سے کم ہیں اور میرے سامنے عمر بن الخطاب پیش کیے گئے اور ان پر ایسی قمیص تھی، جس کو وہ گھسیٹ رہے تھے،صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے؟ آپ نے فرمایا: دین ۔

( صحیح مسلم :۲۳۹۰ ، سنن ترمذی:2286، سنن نسائی:۵۰۲۶ السنن الکبری للنسائی :۱ ۸۱۲ مسند ابویعلی :۱۲۹۰ شرح السنه : ۳۲۹۴، صحیح ابن حبان 6890،: مسند احمد ج ۳ ص 86 طبع قدیم ،مسند احمد : ۱۱۸۱۴ – ج۱۸ص ۳۳۳)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن عبید للہ بن محمد بن زید القرشی الاموی ،انہوں نے بہت بڑے محدثین سے سماع کیا ہے، اور ان سے امام بخاری اور امام نسائی وغیرہ نے سماع کیا ہے ابوحاتم نے کہا: یہ بہت سچے تھے۔

( ۲ ) ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمان بن عوف، انہوں نے اپنے والد، زہری اور ہشام بن عروہ وغیرہم سے سماع کیا ہے اور ان سے شعبہ عبدالرحمان بن مہدی اور بہت لوگوں نے سماع کیا ہے ۔ امام احمد،یحیی، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے ان کو ثقہ کہا ہے ابوزرعہ نے کہا: یہ بہت احادیث روایت کرتے ہیں اور بعض اوقات خطاء کرتے ہیں ۔ یہ 110 ھ میں پیدا ہوۓ اور بغداد میں ۱۸۳ھ میں فوت ہو گئے ۔

(۳) صالح بن کیسان ابومحمد الغفاری المدنی التابعی ہیں، انہوں نے متعدد صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے ملاقات کی ہے، پھر زہری سے علم حاصل کیا۔ انہوں نے ۹۰ سال کی عمر میں تحصیل علم کی ابتداء کی اور 160ھ میں فوت ہو گئے۔

( ۴ ) ابن شہاب محمد بن مسلم زہری ہیں، ان کا تعارف ہوچکا ہے۔

( ۵ ) ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف، ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے انہوں نے بہت صحابہ سے روایت کی ہے امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یہ ۱۰۰ھ میں فوت ہوۓ اس وقت ان کی عمر ۹۰ سال سے زیادہ تھی۔

(6) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کا تعارف گزرچکا ہے ۔

( عمدة القاری ج۱ ص ۲۷۷)

حدیث مذکور کے مباحث اور مسائل

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں مذکور ہے کہ تمام صحابہ میں حضرت عمر کی قمیص لمبی تھی، اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عمر کی قمیص حضرت ابوبکر سے بھی لمبی تھی، سو ان کا دین بھی حضرت ابوبکر سے زائد ہوا اور اس سے حضرت عمر کی حضرت ابوبکر پر فضیلت لازم آتی ہے، علامہ عینی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ حدیث ان احادیث سے معارض ہے جن میں حضرت ابوبکر کی افضلیت بیان کی گئی ہے علاوہ ازیں حضرت ابوبکر کی افضلیت پر اجماع ہے اور وہ دلیل قطعی ہے اور یہ حدیث دلیل ظنی ہے ۔

( عمدة القاری ج۱ص۲۸۰)

میں کہتا ہوں کہ حضرت عمر کی قمیص کے لمبی ہونے سے یہ لازم آۓ گا کہ ان کے نیک اعمال حضرت ابوبکر سے زیادہ ہیں، لیکن فضیلت میں کمیت اور مقدار کا لحاظ نہیں ہوتا کیفیت کا اعتبار ہوتا ہے، مثلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضیت حج کے بعد ایک بار حج کیا ہے اور کسی شخص نے پچاس حج کیے ہوں تو کیا وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہو جاۓ گا اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر کی تو ایک نیکی عمر کی تمام نیکیوں سے افضل ہے ۔(مشکوۃ : 6068)

اس حدیث سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں :

(۱) اعمال کے اعتبار سے ایمان والے ایک دوسرے سے افضل ہوتے ہیں۔

( ۲ ) اس حدیث میں حضرت عمر کی فضیلت پر دلیل ہے۔

(۳) خواب کی تعبیر عالم سے معلوم کرنی چاہیے۔

(۴) عالم کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے کسی لائق اور فاضل شاگرد کی تحسین کرے تاکہ لوگ اس کی فضیلت پر مطلع ہوں اور اس جیسا بننے کی کوشش کریں ۔

* یہ حدیث شرح صحیح مسلم : 6067 – ج6 ص ۹۰۸ – ۹۰۷ پر مذکور ہے لیکن وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔