افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

📝: حافظ غلام مصطفی قادری صدیقی

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-

بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔

اللہ عزوجل کے نزدیک معیار عزت و اکرم فقط تقوی ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کئ خاصیات ہیں، آسان الفاظ میں کہیں تو یوں کہیں گے جماعت صحابہ میں بہت سی ایسی خوبیاں اور کمال آپ کی ذات کو حاصل ہیں جس میں کوئی آپ کا ہم پلہ نہیں ہے۔ انہیں میں سے ایک “تقوی” ہے۔ مفسرین کرام نے اس آیت کے تحت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے آپ کو “اتقٰی” (یعنی سب سے بڑا متقی) کہا ہے اور یہی آپ کی افضلیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس کا مخالف اہل سنت کی صفوں سے نکل تفضیل کے بیابان میں بھٹکنے لگتا ہے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ایک مختصر تحریر تو کیا مکمل کتاب بھی ناکافی محسوس ہوتی ہے لیکن آئیے حصول برکت کے لیے آپ کی چند خصوصیات اور کمالات کا ذکر کرتے ہیں:

*رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سب سے زیادہ رفاقت اور صحبت پانے والے آپ ہیں۔ قرآن نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھی اور ثانی فرمایا ہے۔ آپ شب ہجرت میں بھی رسول کے ساتھ تھے، غار ثور میں بھی ساتھی رہے، ساری عمر ساتھ رہے اور مزار میں بھی ساتھ موجود ہیں اور میدان محشر میں بھی ساتھ اٹھیں گے۔

*آپ کی شہزادی کو سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آنے کا شرف ملا اور سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کے گھر دولہا بن کر تشریف لائے۔

*سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم جن کے مال میں اپنے مال کی طرح تصرف کریں اور فرمائیں کہ کسی کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابو بکر کے مال نے، اور جن کے لیے یہاں تک فرمادیں کہ ابوکر کے اسلام پر احسانات کا بدلہ اللہ پاک روز قیامت خود ادا فرمائے گا۔۔۔۔ وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔

* جن میں خیر کے تین سو ساٹھ خصائل جمع ہوجائیں وہ صدیق اکبر ہیں۔

*جنہیں جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا وہ صدیق اکبر ہیں۔

* جن کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی معرفت کی باتیں کریں وہ صدیق اکبر ہیں۔

* جن کے بارے میں حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ فرمائیں کہ “کائنات میں نہ کوئی پیر رسول اللہ جیسا ہے نہ کوئی مرید حضرت ابو بکر صدیق جیسا ہے۔

اللہ اللہ کہا تک لکھا جائے بس حق تو یہ ہے کہ

بعد از انبیاء حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مرتبہ ہے۔ جو اس کا اقرار کرے وہ سنی ہے ورنہ بد مذہب ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں:

دمادم مست قلندر
صدیق کا پہلا نمبر

اللہ کریم حضرت صدیق اکبر کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کا فیضان خاص نصیب ہو۔ اٰمین