افضل البشر بعد الانبیاء

“فضل جزئی” سے “فضل کلی” لازم نہیں آتا

مثلا صحابہ کرام میں سے “حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ” کی شان یہ ہے کہ آپکی گواہی دو مردوں کے برابر ہے(یہ فضل جزئی ہے)
لیکن کسی اور صحابی کے لیے یہ فضلیت نہیں حتی کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ایسی کوئی روایت نہیں!
تو کیا حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے افضل کہلائینگے؟ ہرگز نہیں!
کیونکہ یہ فضل جزئی ہے
لہذا کسی فضل جزئی (مخصوص فضیلت ) کی وجہ سے ، فضل کلی لازم نہیں آتا۔۔
اسی طرح پوری کائنات میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت ہے کہ آپکے نکاح میں یکے بعد دیگرے نبی کی دو صاحبزادیاں ہیں
یہ انکی جزئی فضلیت ہے اس فضیلت کی وجہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر کلی تفضیل لازم نہیں آتی۔۔
اسی طرح مولی کائنات مولی علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کے نکاح میں نبی پاک کی لخت جگر سیدہ پاک رضی اللہ عنہا ہیں یہ آپ کی جزئی فضلیت ہے
لہذا اس فضل جزئی کی وجہ سے آپ کی تفصیل شیخین رضی اللہ عنہما پر نہیں آتی۔۔۔
وقس علی ھذا۔۔۔۔۔

اس عبارت اور مثالوں سے غرض یہ ہے کہ کسی فضل جزئی کی وجہ سے فضل کلی لازم نہیں آتا
لہذا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضلیت پر جس طرح اجماع ہے یا جمھور ہے
تو ہمیں بھی اسی کی پیروی کا حکم ہے
ہم سے اگر قیامت میں سوال ہوا کہ تم نے حضرت ابوبکر صدیق کو افضل البشر بعد الانبیاء کیوں مانا؟
تو ہم یہی عرض کرینگے کہ امت نے اجماع کیا اور ہم نے اجماع کی پیروی کی
لہذا نجات
لیکن اگر کسی نے مولی پاک کو شیخین پر فضلیت دی اور اس سے سوال ہوا کہ تم نے یہ کیسے کہ دیا؟ تم مجھتد تھے یا بڑے بڑے محدثین و فقہاء سے زیادہ علم رکھنے والے تھےجو تم نے اجماع امت کی مخالفت کی
تو کیا جواب ہوگا؟
حدیث شریف میں ہے
فإذا رايتم اختلافا فعليكم بالسواد الاعظم
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم (یعنی بڑی جماعت) کو لازم پکڑو
لہذا سواد اعظم اھل سنت و جماعت کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیق افضل البشر بعد الانبیاء ہیں
اور ہمیں اسی نظریہ پہ رہنا ہے
یہی نجات کا راستہ ہے
✍️ ذوالقرنین رضوی