أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ‏ ۞

ترجمہ:

جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے اور وہ بےحد غالب بہت بخشنے والا ہے۔

الملک : ٢ میں فرمایا : جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے

موت اور حیات کے معانی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس نے موت اور حیات کو پیدا کیا اور پیدا کرنے کا معنی ہے : کسی چیز کو وجود عطاء کرنا، اس سے معلوم ہوا کہ موت بھی حیات کی طرح وجودی چیز ہے، عدمی نہیں ہے۔

موت حیات کے مقابل ہے، اس لیے اس کا معنی حیات کے اعتبار سے ہے۔ (١) انسان، حیوان اور نباتات میں نشو و نما کی قوت کو زائل کرنا، جیسے قرآن مجید میں ہے :

وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا (الروم : ١٩) وہ زمین کو اس کی موت کے بعد زند کرتا ہے۔

یعنی زمین میں اگانے کی صلاحیت کو زائل کرنے کے بعد اس میں پھر اگانے کی صلاحیت پیدا کردیتا ہے۔

(٢) حواس کی قوتوں کو زائل کردینا جس طرح حضرت مریم نے دعا کی :

یٰـلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا (مریم : ٢٣) اے کاش ! میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی۔

(٣) قوت عاقلہ کو زائل کرنا اور اس کو جہالت سے تعبیر کرتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

انک لا تسمع الموتی (النمل : ٨٠) بیشک آپ مردوں ( بےعقل لوگوں) کو نہیں سناتے۔

(٤) ایسا رنج اور غم جو زندگی سے مایوس کر دے اور حواس کو معطل کر دے۔

وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّت (ابراہیم : ١٧) دوزخی کو ہر جگہ سے موت آتی دکھائی دے گی اور وہ مرنے والا نہیں ہے۔

(٥) نیند، جس سے حواس اور مشاعر عارضی طور پر معطل ہوجاتے ہیں، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نیند خفیف موت ہے اور موت ثقیل نیند ہے، اساعتبار سے اللہ تعالیٰ نے نیند کو وفات فرمایا ہے :

وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰـکُمْ بِالَّیْلِ (الانعام : ٦٠) اور وہی ہے جو رات میں تم پر موت (نیند) طاری کرتا ہے۔

(٦) قوت حیوانیہ کا زوال اور روح کا جسم سے الگ ہونا، قرآن مجید میں ہے :

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ (الزمر : ٣٠) بیشک آپ پر موت آنی ہے اور یقینا انہیں بھی مرنا ہے

(جب نکرہ مکرر ہو تو ثانی اول کا غیر ہونا ہے، پس آپ کی موت کفار کی موت کے مغائر ہے، آپ کی روح آپ کے جسم مبارک سے ایک آن کے لیے الگ ہوئی اور ان کی روح قیامت تک کے لیے ان کے جسم سے الگ ہوگئی۔ )

(المفردات ج ٢ ص ٦١٧، ٦١٦، مکتبہ نزارمصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

اسی طرح حیات کے بھی متعدد معانی ہیں :

(١) نشو و نما کی وہ قوت جو حیوانات اور نباتات میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ (الانبیاء : ٣٠) اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔

(٢) حواس خمسہ ظاہرہ اور حواس خمسہ باطنہ کی قوتوں کو بھی حیات کہا جاتا ہے، اللہ عزوجل نے فرمایا :

وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآئُ وَلَا الْاَمْوَات (فاطر : ٢٢) اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہیں۔

(٣) قوت عاملہ اور قوت عاقلہ کو بھی حیات کہا جاتا ہے، قرآن مجید میں ہے :

اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰـہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ (الانعام : ١٢٢) جو شخص پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کے لیے ایسا نور بنادیا جس کے سبب سے وہ آدمیوں میں چلتا ہے۔

(٤) دنیاوی تفکرات اور رنج و غم کے اٹھ جانے کو بھی حیات کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ اَمْوَاتًاط بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَرَبِّھِمْ ( آل عمران : ١٦٩) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردیئے گئے ان کو مردہ گمان مت کرو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔

جیسا کہ بہ کثرت احادیث میں ہے : شہداء کی روحیں لذت حاصل کر رہی ہیں۔

(٥) حیات اخرویہ ابدیہ جیسا کہ قرآن مجید ہے :rnَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُم لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (العنکبوت : ٦٤) بیشک آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے

یعنی حقیقی اور سرمدی زندگی ہے جس پر فنا نہ آئے، نہ کہ وہ زندگی جو کہ ایک مدت تک رہتی ہے پھر فنا ہوجاتی ہے۔

(٦) وہ حیات جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ متصف ہے، یعنی وہ حیات جس پر موت کا آنا ممکن ہی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

اَ اللہ ُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَج الْحَیُّ الْقَیُّوْمُج لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْم (البقرہ : ٢٥٥) اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، جو ہمیشہ زندہ ہے اور سب کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔

(المفردات ج ١ ص ١٨٣، ١٨٢ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

اللہ تعالیٰ کے امتحان لینے اور آزمانے کی توجیہ

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے۔

یعنی تم میں سے کون زیادہ حرام اور مکروہ کاموں سے بچنے والا ہے اور کون اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت زیادہ ولولہ اور سرگرمی سے کرنے والا ہے۔ اس نے موت کو جزاء اور سزا دینے کے لیے پیدا کیا ہے اور حیات کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ابتلاء کا معنی تجربہ اور امتحان ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ بندے اس کی اطاعت کر رہے ہیں یا اس کی نافرمانی کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو تواز لاً ابداً تمام معلومات کا علم ہے تو اس کے حق میں امتحان لینے کا معنی کس طرح مقصود ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حقیقۃً امتحان نہیں لینا کیونکہ اس کو پہلے سے ہی نتائج کا علم ہے بلکہ وہ بندوں کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرتا ہے جس طرح ممتحن طلبہ کے ساتھ کرتا ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے دن نیکی کرنے والوں کو انعامات سے نوازے اور بدکاروں کو سزا دے تو کوئی یہ اعتراض نہ کرسکے کہ اس نے نیکوں کو فضول انعام دیئے اور بدوں کو بلاوجہ سزا دی، اس امتحان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ محلوق پر اپنی حجت پوری کرے گا اور آخرت میں یہ بتانا ہے کہ نیکوں کو انعام سے اس لیے نوازا کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوگئے اور بدوں کو اس لیے سزا دی کہ وہ امتحان میں ناکام ہوگئے، دراصل یہ ساری دنیا اور اس کی زندگی امتحان گاہ ہے اور روز آخرت دارالجزاء ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 2