أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَبٰرَكَ الَّذِىۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرُۙ‏ ۞

ترجمہ:

وہ ذات نہایت بابرکت ہے جس کے ہاتھ میں ( تمام دنیا کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ ذات نہایت بابرکت ہے جس کے ہاتھ میں ( تمام دنیا) کی سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قاد رہے جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے، اور وہ بےحد غالب بہت بخشنے والا ہے جس نے ایک دوسرے کے اوپر سات آسمان بنائے ( اے مخاطب ! ) تو رحمان کے نظم تخلیق میں کوئی خلل نہیں دیکھے گا، پس دوبارہ دیکھ کیا تو ( ان میں) کوئی شگاف دیکھتا ہے ؟ پھر بار بار نظر اٹھا کر دیکھ تیری نظر تھک کر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی (الملک : ٤۔ ١)

” تبارک “ کا صیغہ اور معنی اور اس لفظ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا

الملک : ا میں ” تبا رک “ کا لفظ ہے، اس کا مادہ ” برکت “ ہے علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

” تبرک “ کا اصل معنی اونٹ کا سینہ ہے اگرچہ یہ دوسرے معنی میں استعمال ہونا ہے، اونٹ چونکہ سینہ ٹیک کر بیٹھتا ہے، اس لیے اس کا معنی ٹھہرنا اور ثابت رہنا ہے، حوض میں جہاں پانی رک جائے اس کو بر کہ کہتے ہیں۔ اسی طرح کسی چیز میں خیر اور خوبی کے جمع ہونے کی بھی برکت کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو غیر محسوس طریقہ سے خیر اور بھلائی حاصل ہوتی ہے اس کو بھی برکت کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (الاعراف : ٩٦)

توہم ان پر آسمانوں اور زمینوں کی برکتیں کھول دیتے۔ (المفردات ج ١ ص ٥٦، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ مجدالدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی ٨١٦ ھ نے لکھا ہے : ” تبارک اللہ “ کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ برائیوں سے مقدس اور منزہ ہے، یہ صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اللہ تعالیٰ کے غیر کے لیے تبارک نہیں کہا جاتا۔

( القاموس ص ٩٣٢، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

علامہ محمد مرتضیٰ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

ابو العباس سے ” تبارک اللہ “ کی تفسیر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ بلند ہے، زجاج نے کہا : یہ برکت سے بنا ہے اور باب تفاعل پر ہے، ابن الانباری نے کہا : ” تبارک اللہ “ کا معنی ہے : ہر کام میں اللہ کے نام سے برکت حاصل کی جائے، اللیث نے کہا :” تبارک اللہ “ میں اللہ تعالیٰ کی تمجید اور تعظیم ہے، الجوہری نے کہا : ” تبارک اللہ “ کا معنی ہے : اللہ برکت والا ہے۔ ( تاج العروس القاموس ج ٧ ص ١٠٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

امام رازی نے کہا ہے : برکت کی دو تفسیر ہیں۔ (١) بقاء اور اثات (٢) فضلیت والے آثار اور علامات کی کثرت، پہلے معنی کے لحاظ سے ” تبارک اللہ “ کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ دائم اور ثابت ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے ” تبارک اللہ “ کا معنی ہے : تمام خیرات اور کمالات کا منبع اور مصدر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، پس تبارک کے لفظ میں جو ثناء اور حمد ہے وہ صرف اللہ عزوجل کی شان کے لائق ہے، زجاج کا مختار ہے، ہر خیر کی کثرت، تبارک کے لفظ سے مضارع، امر، اسم، فاعل وغیرہ نہیں آتے اور نہ اس کی گردن آتی ہے، قاضی بیضاوی نے کہا : اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ وحدانیت، الوہیت اور ربوبیت کے ساتھ متفرد ہے۔

(روح المعانی جز ٨ ص ٢٠٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

اس کے بعد فرمایا : جس کے ہاتھ میں ( تمام دنیا کی) سلطنت ہے۔

اس آیت میں ہاتھ سے مراد جسمانی عضو نہیں ہے، بلکہ وہ ہاتھ مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے یا اس سے مجازاً قبضہ اور قدرت اور تصرف مراد ہے جیسے ہمارے محاورہ میں بھی کہا جاتا ہے : فلاں چیز یا فلاں کام میرے ہاتھ میں ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 1