أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ ؕ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیماری کی مثال بیان فرمائی، جو ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، انہوں نے ان سے خیانت کی تو وہ انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے اور ان سے کہا گیا : تم دونوں دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جائو

تفسیر:

نجات کا مدار قرابت داری پر نہیں، ایمان اور اعمال صالحہ پر ہے

التحریم : ١٠ میں اللہ تعالیٰ نے دو کافر عورتوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو دو نبیوں کی بیویاں تھیں، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والھہ تھا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا نام واقعہ تھا، لیکن وہ دونوں ایمان نہیں لائیں اس لئے نبی ( علیہ السلام) کے نکاح میں ہونے کے باوجود ان کی مغفرت نہیں ہوسکی۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ ان دونوں نے خیانت کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے حضرت نوح کے متعلق یہ کہتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت نہ تھی کہ ان کے گھر جو مہمان آتے تھے وہ لوگوں کو ان کی خبر پہنچا دیتی تھی۔ خیانت سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ بےحیائی کے کام کرتی تھیں، کیونکہ کبھی کسی نبی کی بیوی نے بےحیائی کا کام نہیں کیا۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ١٥٧٤، الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ١٨٦)

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ” ما بغت امرء ۃ نبی قط “ کسی نبی کی بیوی نے کبھی بےحیائی کا کام نہیں کیا۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٦٧١٠)

برطانیہ کے مشہور مسلم اسکالر حافظ عبد المجید نقشبندی زیدحبہ، نے ٹیلی فون پر مجھے اس مبحث میں ملحدین کا ایک اشکال بتایا۔ سطور ذیل میں، میں اس اشکال کا جواب پیش کر رہا ہوں :

حضرت نوح (علیہ السلام) کے اپنے بیٹے کے متعلق سوال اور ان کی بیوی کی خیانت پر ملحدین کے ایک اعتراض کا جواب

اس آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر آگیا ہے، اس مناسبت سے ہم ملحدین کے ایک اعتراض کا جواب لکھنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے عرض کیا کہ بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ ( ھود : ٤٥) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

یتوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح فلا تسلن ما لیس لک بہ علم ( ھود : ٤٦ )

اے نوح ! بیشک وہ تمہارے اہل سے نہیں ہے، اس کا عمل نیک نہیں ہے، تو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کیجئے جس کا آپ کا علم نہیں ہے۔

ملحدین یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ وہ آپ کے اہل سے نہیں ہے اور آپ کو اس کا علم نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا ان کا نسب سے نہیں تھا اور ان کی بیوی نے ان سے خیات کی تھی۔ نوح (علیہ السلام) کا اور کوئی سوال نہیں تھا، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے سوال کا ذکر فرماتا۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت نوح کی بیوی کی خیانت سے نسبت میں خیانت مراد نہیں ہے، کیونکہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی کوئی بےحیائی کا کام نہیں کیا اور اس سے مراد دین میں خیانت کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو اس کی قوم کے سامنے معزز اور پر وقار بنا کر بھیجتا ہے اور جس کی بیوی بدکاری کرے وہ شخص لوگوں کی نگاہوں میں دیوث اور بےغیرت ہوتا ہے اور ایسا شخص کب لوگوں کو اللہ عزوجل کے پیغام پر عمل کرنے کی دعوت دے سکتا ہے، جب کہ کفر و شرک ان لوگوں کے نزدیک کوئی قابل ملامت اور موجب عار چیز نہیں ہوتی، اس لیے اگر نبی کی بیوی کافرہ ہو تو یہ نبی کی تبلیغ کے منافی ہے اور اگر نبی کی بیوی فاحشہ ہو تو اس کی تبلیغ کے منافی ہے، اس لیے نبی کی بیوی فاحشہ نہیں ہوسکتی۔

رہا یہ کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کیا سوال کیا تھا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کیجئے، جس کا آپ کو علم نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کے حضرت نوح (علیہ السلام) نے صراحتہ ًاپنے بیٹے کی مغفرت کا سوال نہیں کیا تھا، لیکن آثار اور قرائن ایسے تھے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) محبت پدری کی وجہ سے اپنے بیٹے کی مغفرت کا سوال کرتے اور اگر بالفرض وہ سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو مسترد فرماتا، کیونکہ مشرکین کی مغفرت اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کے برگزیدہ نبی کی دعا کو مسترد کرنے کی نوبت نہ آئے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! آپ یہ سوال ہی نہ کریں کہ ہمیں آپ کو دعا کو مسترد کرنا پڑے اور لوگوں کی نگاہوں میں نبی کی عزت و وجاہت مجروح ہو۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 10