وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 12
sulemansubhani نے Thursday، 4 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال ( بھی) جس نے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کی، سو ہم نے اس کے چاک گریبان میں اپنی طرف کی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزاروں میں سے تھی ؏
تفسیر:
حضرت آسیہ، حضرت مریم اور حضرت حلیمہ ( حضرت موسیٰ کی بہن) کا جنت میں حضور کے نکاح میں ہونا
التحریم : ١٢ میں حضرت مریم بنت عمران کا ذکر فرمایا ہے، جن کے چاک گریبان میں حضرت جبریل نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی تھی، انہوں نے اللہ کے کلمات کی تصدیق کی، یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو دین کے عقائد اور احکام شرعیہ بیان کرتے تھے یا حضرت عیسیٰ کے کلمۃ اللہ ہونے کی تصدیق کی، اور اللہ تعالیٰ کے نازل کی ہوئی کتابوں کی تصدیق کی یعنی تورات اور انجیل کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزاروں میں سے تھیں یا نماز میں قیام کرنے والوں میں سے تھیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں میں بہت کامل ہیں اور عورتوں میں صرف چار کاملہ ہیں : آسیہ بنت مزاحم فرعون کی بیوی، مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور عائشہ کی فضلیت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضلیت تمام کھانوں پر ہے۔
(مسند احمد ج ٤ ص ٩٤ قدیم، ج ٣٢ ص ٢٨٨ جدید، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤١١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٣١)
امام ثعلبی اور علامہ قرطبی نے حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ کے پاس گئے، اس وقت ان کی روح قبض ہونے والی تھی، آپ نے فرمایا : اے خدیجہ ! تمہاری تکلیف کو میں ناپسند کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس تکلیف میں بہت بر رکھی ہے، جب تم اپنی سوکنوں کے پاس جائو تو ان کو میرا سلام کہنا، حضرت خدیجہ نے پوچھا : وہ کون ہیں ؟ یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : وہ مریم بنت عمران ہیں، آستہ بنت مزاحم ہیں اور حضرت موسیٰ کی بہن حلیمہ ہیں۔
(الکشف والبیان ج ٩ ص ٣٥٢، الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ١٨٨)
سورۃ التحریم کی تفسیر کا اختتام
الحمد للہ رب العلمین ! آج ٨ محرم ١٤٢٦ ھ /١٠ مارچ ٢٠٠٥ ء بہ روز جمعرات سورة التحریم کی تفسیر مکمل ہوگئی، ٢٨ فروری کو اس کی ابتداء کی تھی، اس طرح دس دن میں اس سورت کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ الٰہ العالمین ! اس کام کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمانا، اور باقی سورتوں کی تفسیر کو بھی مکمل کرا دینا، اور میری اور میرے والدین اور قارئین کی مغفرت فرما دینا۔ آمین یا رب العلمین بجاہ سیدنا محمد سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ عترتہ وامتہ اجمعین۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 12