أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۞

ترجمہ:

اے نبی مکرم ! کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نبی مکرم ! کفار اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانہ ہے اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی جو ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، انہوں نے ان سے خیانت کی تو وہ انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے اور ان سے کہا گیا : تم دونوں دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جائو اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی جب اس نے دعا کی : اے میرے رب ! میرے لیے جنت میں اپنے پاس گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے دے، اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے دے اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال (بھی) جس نے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کی، سو ہم نے اس کے چاک گریبان میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزاروں میں سے تھی ( التحریم : ١٢، ٩)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کی ایک مثال

التحریم : ٩ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار اور منافقین سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر سختی کا حکم دیا ہے، اس کا منشاء یہ ہے کہ دین میں شدت کو اختیار کیجئے، جہاد کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے خلاف تلواروں، نیزوں اور دیگر ہتھیاروں سے جہاد کیجئے اور زبان سے جہاد کیجئے اور اپنے مؤقف کے ثبوت پر دلائل پیش کیجئے اور انہیں اللہ کے دین کی دعوت دیجئے اور منافقین حدود کا ارتکاب کرتے ہیں، سو آپ ان پر اللہ کی حدود قائم کیجئے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تو ضروری ہوا کہ آپ کو علم ہو کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے اور ایمان اور نفاق دل میں ہوتا ہے اور اس کا تعلق علم غیب سے ہے، سو اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم غیب عطا فرمایا ہے :

تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 9