يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ – سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Thursday، 4 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جس پر سخت مزاج اور طاقت ور فرشتے مقرر ہیں، اللہ انہیں جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
التحریم : ٦ میں فرمایا : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
اپنے ما تحت لوگوں اور اولاد کو ادب سکھانے کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات
یعنی تم خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کروا اور اپنے اہل و عیال سے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرائو اور جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے تم خود بھی ان کاموں سے باز رہو اور اپنے اہل و عیال کو بھی ان کاموں کے کرنے سے منع کرو۔
اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرمایا :
وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا ( طہٰ : ١٣٢) اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر قائم رہیے۔
اہل و اعیال سے احکام شرعیہ پر عمل کرانے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اپنے ما تحت لوگوں کا محافظ ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال ہوگا، سربراہ مملکت اپنے عوام کا محافظ ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق سوال ہوگا، اور ایک شخص اپنی بیوی کا محافظ ہے اور اس سے اس کی بیوی کے متعلق سوال ہوگا، اور ایک عورت اپنے خاوند کے گھر کی محافظ ہے اور اس سے اس کے گھر کے متعلق سوال ہوگا، اور خادم اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس مال کے متعلق سوال ہوگا، اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس مال کے متعلق سوال ہوگا، تم میں سے ہر شخص محافظ ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال ہوگا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٩٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٧٠٥، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٢٠٦٤٩ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو نماز پڑھتے، پس وتر پڑھتے تو فرماتے اے عائشہ ! اٹھو اور وتر پڑھو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥١٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٤٤ )
عمرو بن شعیب اپنے والد ( محمد بن محمد عبد اللہ بن عمرو بن العاص) وہ اپنے دادا حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو ، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو ان کو مار مار کر نماز پڑھائو، اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔
( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩٥، ٤٩٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٠٧)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اس مرد پر رحم فرمائے جو رات کو نماز پڑھنے کے لیے اٹھے اور اپنی بیوی کو بھی ( نماز کے لیے) جگائے، اگر وہ ( اٹھنے سے) انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ اس عورت پر رحم فرمائے، جو رات کو اٹھے، پھر نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو جگائے، پس اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ ( سنن ابودائود، رقم الحدیث : ١٣٠٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٠٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٣٦)
حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص رات کو اپنی بیوی کو جگائے، پھر دونوں نماز پڑھیں یا دو رکعت مل کر نماز پڑھیں تو ان دونوں کو ذکر کرنے والے مردوں کو اور ذکر کرنے والے عورتوں میں لکھا جاتا ہے۔
( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٠٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٣٥)
سعید بن ابی العاص اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں ہیں : جو شخص اپنے بیٹے کو نیک ادب سکھائے، اس سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں ہے۔ ( المستدرک ج ٤ ص ٢٦٣ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٧٦٧٩ طبع جدید)
حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بیٹے کو ادب سکھائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ہر دن دو کلو صدقہ کرے۔
( المستدرک ج ٤ ص ٢٦٣ قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٧٦٨٠ جدید)
اس کے بعد فرمایا : جس پر سخت گیر اور مضبوط فرشتے مقرر ہیں، اللہ انہیں جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے
دوزخ کے محافظ فرشتوں کی صفات
دوزخ پر جو فرشتے ہیں وہ سخت دل ہیں، جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو وہ کسی پر رحم نہیں کرتے، ان کو صفت غضب پر پیدا کیا گیا ہے اور ان کے دلوں میں مخلوق کو عذاب دینے کی محبت اس طرح ڈالی گئی ہے جس طرح بنو آدم کے دلوں میں کھانے پینے کی محبت ڈالی گئی ہے، ان کے ابدان بہت سخت ہیں، ایک قول یہ ہے کہ ان کا کلام بہت درشت ہے اور ان کے کام بہت سخت ہیں، ایک قول یہ ہے کہ وہ دوزخیوں بہت سختی سے پکڑتے ہیں اور ان پر بہت شدت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے اس پر عمل کرنے میں وہ کوئی زیادتی اور کمی نہیں کرتے، نہ اس کے کرنے میں تقدیم یا تاخیر کرتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں ایسی ہی لذت آتی ہے جیسے اہل جنت کو جنت میں سرور حاصل ہوتا ہے۔ یہ انیس فرشتے ہیں جو دوزخ کی حفاظت پر مقرر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ “ (البقرہ : ٢٤) دوزخ کی آگ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ اس آیت میں ایمان والوں کو دوزخ کی آگ سے بچنے کا حکم دیا ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت کا محمل یہ ہے کہ تم ایمان لانے کے بعد کافر نہ ہو جائو ورنہ تم بھی کافروں کی طرح دوزخ کی آگ کا ایندھن بن جائو گے، دوسرا جواب یہ ہے کہ کافروں کو دائمی عذاب دینے کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے اور جو فساق مومنین ہیں، وہ تطہیر کے لیے عارضی طور پر دوزخ میں داخل ہوں گے پھر ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا، لیکن دوزخ کا عارضی عذاب بھی بہت شدید ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 6