ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِىۡ السَّمَآءِ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوۡرُۙ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 16
sulemansubhani نے Friday، 5 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِىۡ السَّمَآءِ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوۡرُۙ ۞
ترجمہ:
کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے پھر اچانک وہ زمین لرزنے لگے۔
الملک : ١٦۔ میں فرمایا : کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے پھر اچانک وہ زمین لرزنے لگے
اللہ تعالیٰ پر آسمان والے کے اطلاق کی توجیہ
اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے اور آسمان اللہ تعالیٰ کو تمام جانبوں سے محیط ہے تو پھر اللہ تعالیٰ آسمان کا مظروف ہوگا اور مظروف ظرف میں محدود ہوتا ہے اور اس سے مقدار میں کم ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ مقدار میں آسمان سے کم ہوگا اور آسمان عرش سے کم ہے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ عرش سے بہت کم ہو اور یہ محال ہے، نیز اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ اللہ کی مقدار ہو اور یہ بھی محال ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مقدار اور کیفیت سے پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے پر دوسرا اشکال یہ ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے وہ اللہ کا مملوک ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے :
قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قُلْ ِّ اللہ ِط (الانعام : ١٢)
آپ کہیے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے ؟ آپ کہیے : اللہ کی
پس اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں میں ہو تو لازم آئے گا کہ وہ خود اپنا مملوک ہو اور خود اپنا مالک ہو اور یہ بھی محال ہے، اس لیے الملک : ١٦ میں جو فرمایا ہے : کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو، اس میں تاویل کرنا ضروری ہے اور اس کی مفسرین نے حسب ذیل تاویلات کی ہیں :
(١) اس آیت کا معنی ہے : کیا تم آسمان کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہو ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ یہ ہے کہ کفار اور فساق پر عذاب آسمان کی طرف سے آتا ہے جس طرح اس کی رحمت اور نعمت کا نزول بھی آسمان کی جانب سے ہوتا ہے۔
(٢) اس کا معنی ہے : کیا تم اس ذات سے بےخوف ہوگئے ہو جس کی ملکیت، سلطنت اور قدرت آسمانوں میں ہے، ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت، اس کی ملکیت اور اس کی قدرت زمینوں میں بھی ہے اس کے باوجود آسمانوں کا ذکر فرمایا کیونکہ اعلیٰ پر قدرت ادنیٰ پر قدرت کو مستلزم ہوتی ہے۔
(٣) اس آیت کا معنی اسی طرح ہے : کیا تم عذاب نازل کرنے والے فرشتے جبریل سے بےخوف ہوگئے جو آسمانوں میں ہے ؟
(٤) اور اگر آسمان والے سے اللہ عزوجل ہی کی ذات مراد ہو تو پھر اس کا محمل یہ ہے کہ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کسی سمت اور جہت کے ساتھ مخصوص اور مفید نہیں ہے، لیکن چونکہ آسمان کی سمت اور جہت کو باقی جہات پر فوقیت اور شرف حاصل ہے، اس لیے جب اللہ تعالیٰ کی طرف کسی جہت سے اشارہ کرنا ہو تو آسمان کی جہت سے اشارہ کیا جاتا ہے، اس لیے عرف میں آسمان والے سے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کو مراد لیا جاتا ہے، احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ پر آسمان والے کا اطلاق کیا گیا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩٤١، السنن الکبریٰ ، للبیہقی ج ٩ ص ٤١، نشر السنہ، ملتان، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٢٤، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٠ )
حضرت عمر بن الحکم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری ایک باندی میری بکریوں کو چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اس کے پاس گیا تو میری ایک بکری گم ہوچکی تھی، میں نے اس بکری کے متعلق اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ مجھے اس پر بہت افسوسہوا، میں بھی آخر انسان ہوں، میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا، میرے ذمہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے، کیا میں اس باندی کو آزاد کرسکتا ہوں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باندی سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں، آپ نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ آپ نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا : اس کو آزاد کردو، مومنہ ہے۔
( موطأ امام مالک رقم الحدیث : ١٥٣٤، دارالمعرفہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ، مسند احمد ج ٥ ص ٤٤٩ تا ٤٤٧ )
اس حدیث کا ذکر درج ذیل کتب حدیث بھی ہے :
صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٣٧، سنن ابو دائودرقم الحدیث : ٩٣٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٢١٨، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٤١۔
القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 16