اِنَّ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ كَبِيۡرٌ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 12
sulemansubhani نے Friday، 5 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ كَبِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
بیشک جو لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔
الملک : ١٢ میں فرمایا ل : بیشک جو لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے
اس آیت کے دو محمل ہیں، ایک یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب شیطان انکے دلوں میں شبہات ڈالتا ہے تو وہ دلائل سے ان شہبات کو زائل کرتے ہیں اور جب وہ ان کو معصیت کی ترغیب دیتا ہے تو وہ خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں اور معصیت کی ترغیبات کو قبول نہیں کرتے۔
اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے تو انسان بےحیائی اور برائی کے کام نہیں کرتا لیکن تقویٰ اور خدا خوفی یہ ہے کہ جب وہ تنہائی میں بےحیائی اور گناہ کے کام پر قادر ہو اور اسکے نفس میں گناہ کی ترغیب اور تحریک بھی ہو، اس وقت وہ اللہ کے خوف سے گناہ سے باز رہے اور جو خلوت میں گناہ سے اجتناب کرے گا وہ جلوت میں بہ طریق اولیٰ گناہ سے اجتناب کرے گا، سو اجر عظیم اسی شخص کے لیے ہوگا جو کامل متقی ہو اور جس مؤ من نے گناہ بھی کیے اور وہ بغیر توبہ کیے مرگیا، اس کو دائما عذاب نہیں ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شقاعت سے اس کی مغفرت ہوجائے یا اللہ تعالیٰ اپنے فضل محض سے اس کو معاف کر دے، یا پھر وہ اپنے گناہوں کی سزا پا کر اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں چلا جائے، قرآن مجید میں ہے۔
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (الزلزال : ٨۔ ٧)
سو جس نے ایک ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اس کی جزا پائے گا اور جس نے ایک ذرہ کے برابر برائی کی وہ اس کی سزا پائے گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 12