أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ‌ؕ كُلَّمَاۤ اُلۡقِىَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَـتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ‏ ۞

ترجمہ:

گویا وہ ابھی شدت غضب سے پھٹ جائے گی، جب بھی اس میں ( کافروں کا) کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے حافظ ان سے پوچھیں گے ! کیا تمہارے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : گویا وہ ابھی شدت غضب سے پھٹ جائے گی، جب بھی اس میں ( کافروں کا) کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! بیشک ہمارے پاس عذاب سے ڈرانے والا آیا تھا، پس ہم نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا : اللہ نے ( تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی، تم صرف بڑی گم راہی میں ہو وہ کہیں گے کاش ! ہم غور سے سنتے یا عقل سے کام لیتے تو ( آج) ہم دوزخ والوں میں سے نہ ہوتے پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے، سو دوزخیوں کے لیے اللہ کی رحمت سے دور ہو بیشک جو لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے اور تم چھپا کر بات کردیا ظاہر کر کے بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے کیا وہی نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ بہت باریک بین اور بہت خبر رکھنے والا ہے ( الملک : ١٤۔ ٨)

دوزخ کے غیظ و غضب میں آنے کی توجیہ اور مرجہ ٔ کا رد

الملک ٨ : میں دوزخ کے متعلق فرمایا ہے : گویا وہ ابھی شدت غضب سے پھٹ جائے گی، جب دل کا خون جوش میں آتا ہے تو اس کو غب کہتے ہیں اور شدت غضب کا معنی یہ ہے، کہ وہ بہت زیادہ جوش میں ہو جیسے کھولتا ہوا پانی ابل رہا ہو، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوزخ زندہ جان داروں میں سے نہیں ہے پس اس کو غیظ سے متضف کرنا کس طرح درست ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک حیات کے لیے حیوانی ڈھانچہ شرط نہیں ہے اور یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آگ میں حیات پیدا کر دے، کیا قرآن مجید میں پہاڑوں اور پتھروں کی حیات کا ذکر نہیں ہے۔

وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہ (البقرہ : ٧٤) ۔ بعض پتھر ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔

یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ (سبا : ١٠) اے پہاڑو ! دائود کے ساتھ تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم ہے۔

اور حدیث میں ہے : کھجور کا تنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فراق میں دھاڑیں مار مار کر رو نے لگا۔

حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے تھے، جب آپ کے لیے منبر رکھ دیا گیا تو ہم نے کھجور کے تنے کی ایسی آواز سنی جیسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی اپنے بچے کے فراق میں روتی ہے، حتیٰ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے اترے اور آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ دیا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩١٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٩٥، مسند احمد ج ٥ ص ٧٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١١٢٤ )

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک پتھر کو پہنچانتا ہوں جو مکہ میں اعلان نبوت سے پہلے مجھ پر سلام پڑھا کرتا تھا، میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں۔

( صحیح مسلم کتاب الفضائل باب : ١ رقم حدیث الباب : ٢۔ رقم الحدیث بلا تکرار : ٢٢٧٧)

سو قرآن مجید کی آیات اور احادیث سے واضح ہوگیا کہ حیات کے لیے حیانی ڈھانچہ ضروری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ جس چیز میں چاہتا ہے حیات پیدا فرما دیتا ہے، اس لیے دوزخ کا غیظ و غضب میں آنا مستبعد نہیں ہے۔

اس کے بعد فرمایا : جب بھی اس میں ( کافروں کا) کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟

مرجئہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ دوزخ میں صرف کافروں کو ڈالا جائے گا اور مومن مرتکب کبیرہ کو دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا، ان کا یہ استدلال اس لیے غلط ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں مؤمنین فساق پر بھی عذاب کی وعید ہے۔

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ (الماعون : ٤۔ ٥)

ان نمازیوں کے لیے دوزخ کی وادی ہے جو اپنی نمازیوں سے غفلت کرتے ہیں

تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 8