فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِهِمۡۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِيۡرِ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Friday، 5 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِهِمۡۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِيۡرِ ۞
ترجمہ:
پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے، سو دوزخیوں کے لیے اللہ کی رحمت سے دور ہو.
الملک : ١١ میں فرمایا : پس وہ اپے گناہ کا اعتراف کریں گے سو دوزخیوں کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری ہو
” سحق “ کا معنی اور تقویٰ کا بیان
کفار کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب اور توہین کی۔
اس آیت میں ” سحقا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے، ان کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری ہو، رجاج نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا، کفا کی وعید کے بعد اللہ تعالیٰ مؤمنوں کے وعدہ کا ذکر فرما رہا ہے۔