أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِهِمۡ‌ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِيۡرِ ۞

ترجمہ:

پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے، سو دوزخیوں کے لیے اللہ کی رحمت سے دور ہو.

الملک : ١١ میں فرمایا : پس وہ اپے گناہ کا اعتراف کریں گے سو دوزخیوں کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری ہو

” سحق “ کا معنی اور تقویٰ کا بیان

کفار کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب اور توہین کی۔

اس آیت میں ” سحقا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے، ان کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری ہو، رجاج نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا، کفا کی وعید کے بعد اللہ تعالیٰ مؤمنوں کے وعدہ کا ذکر فرما رہا ہے۔