قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ ۖۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Friday، 5 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ ۖۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ ۞
ترجمہ:
وہ کہیں گے : کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس عذاب سے ڈرانے والا آیا تھا، پس ہم نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا : اللہ نے ( تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی، تم صرف بڑی گمراہی میں ہو.
الملک : ١٠۔ ٩ میں فرمایا : وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! بیشک ہمارے پاس عذاب سے ڈرانے والا آیا تھا، پس ہم نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا : اللہ نے ( تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی، تم صرف بڑی گمراہی میں ہو وہ کہیں گے : کاش ! ہم غور سے سنتے یا عقل سے کامل یتے تو ( آج) ہم دوزخ والوں میں سے نہ ہوتے
رسولوں کی ہدایت کا عقل پر مقدم ہونا
ان آیتوں میں یہ بیان ہے کہ قیامت کے دن مشرکین اس کا اعتراف کریں گے کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیج کر ان کے عذر کو زائل کردیا تھا اور خود انہوں نے ہی رسولوں کی تکذیب کی اور یہ کہہ کر ان کی توہین کی کہ تم صریح گمراہی میں ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محافظ فرشتوں نے کفار سے یہ کہا ہو کہ تم صریح گمراہی میں ہو لیکن یہ احتمال نظم قرآن کے خلاف ہے، اس کے بعد کفار اپنی مذمت کریں گے کہ دراصل قصور ہمارا ہی ہے، ہم نے عقل سے کام نہیں لیا اور رسولوں کو پیغام اور انکی ہدایت اور ان کے وعظ کو غور سے نہیں سنا۔
اس آیت میں سننے کو عقل سے کام لینے پر مقدم کیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ہدایت رسولوں کی تعلیم سے ہوتی ہے، ازخود اپنی عقل سے کام لینے سے نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے کے بغیر از خود اپنے خالق کی معرفت کی کوشش کی وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے، کوئی سورج کی پرستش کرنے لگا، کوئی آگ کی، کوئی درختوں کی، کوئی جانوروں کی اور کوئی دیوتائوں کے مجسمے بنا کر ان کو پوجنے لگا، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سمع کو بصر پر فضلیت حاصل ہے، کیونکہ ہدایت کے حصول کا تعلق رسولوں کی بات سننے سے ہے، دیکھنے سے نہیں ہے۔
علامہ ابو عبد اللہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے : الملک ١٠ سے معلوم ہوا کہ کافروں کو عقل نہیں دی جاتی کیونکہ انہوں نے کہا : کاش ! ہم عقل سے کام لیتے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ١٩٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
میں کہتا ہوں کہ علامہ قرطبی کی یہ تفسیر صحیح نہیں ہے، اگر کفار کو عقل نہ دی جاتی تو ان کو مکلف کرنا صحیح نہ ہوتا اور اس آیت میں یہ نہیں ہے کہ کفار نے کہا : کاش ! ہمارے عقل ہوتی بلکہ یہ کہا ہے کاش ! ہم عقل سے کام لیتے۔
القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 9