أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِىۡ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِهٖ‌ؕ وَاِلَيۡهِ النُّشُوۡرُ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم اور چلنے کے قابل بنادیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو، اور اسی کی طرف سب نے اٹھ کر جانا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے نرم اور چلنے کے قابل بنادیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور اسی کی طرف سب نے اٹھ کر جانا ہے کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے، پھر اچانک وہ زمین لرزنے لگے کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تم پر کنکریاں برسانے والی تیز ہوا بھیج دے، پس عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ( الملک : ١٧۔ ١٥)

زمین کو نرم اور مسخر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی ہر کھلی ہوئی اور چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے، اور اب اس طرح بتارہا ہے کہ جب تم کو معلومہو گیا کہ میں تمہاری ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہوں تو اے کافرو ! تم مجھ سے ڈرو اور وہ کام نہ کرو جن کی وجہ سے میں تم کو عذاب دوں، تم اس زمین کے راستوں میں چلتے ہو اور تم یہ سمجھتے ہو کہ اس زمین میں چلنے سے تمہیں نقصان نہیں ہوگا حالانکہ میں نے ہی تو اس زمین کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے اور اس میں تمہارے نفع کی چیزیں رکھی ہیں، اگر میں چاہوں تو تم کو اس زمین میں دھنسادوں اور آسمان سے تم پر پتھر برسا دوں۔

اس آیت میں ” ذنول “ کا لفظ ہے، یہ ” ذلۃ “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : اطاعت کرنا اور نرم ہونا، اور اس زمین کو نرم اور تابع بنانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) اگر یہ زمین پتھریلی اور بہت سخت ہوتی تو اس پر چلنابہت دشوار ہوجاتا۔

(٢) اگر یہ زمین نرم نہ ہوتی تو اس میں بنیادیں کھودنا اور اس پر عمارتیں بنانا بہت دشوار ہوجاتا۔

(٣) اگر یہ زمین سونے، چاندی، لوہے، پیتل یا کسی اور معدن کی بنی ہوتی تو گرمیوں میں تپ کر سخت گرم اور سردیوں میں سخت ٹھنڈی ہوجاتی اور اس میں کھیتی باڑی کرنا ممکن نہ ہوتا اور اس میں مردوں کو دفن کرنا بھی محال ہوجاتا۔

اور اس میں ” مناکب “ کا لفظ ہے یہ ” منکب “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : کندھے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : زمین کے مناکب اس کے پہاڑ اور ٹیلے ہیں اور پہاڑوں کو مناکب اس لیے فرمایا ہے کہ انسان کے کندھے اس کے جسم میں بلندی پر ہوتے ہیں، اسی طرح پہاڑ بھی زمین سے بلندی پر ہوتے ہیں۔

اور فرمایا : تم اس کے رزق سے کھائو، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین میں جو روزی پیدا کی ہے، اس سے کھائو۔

اور یاد رکھو کہ زمین میں تمہارا چلنا اور زمین سے روزی کھانا ایک وقت معین تک ہے، پھر تم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے، اس سے مراد انسان کو کفر اور شرک سے ڈرانا ہے اور خلوت اور جلوت میں گناہوں سے بچنے کی تلقین کرنا ہے اور یہ بھی جان لو کہ اس زمین میں تمہارا آسانی سے چلنا پھرنا اور زمین کا رزق کھانا محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو یہ نعمت ان سے چھین لے گا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 15