وَلَـقَدۡ زَيَّـنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ وَجَعَلۡنٰهَا رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ السَّعِيۡرِ سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Friday، 5 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَـقَدۡ زَيَّـنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ وَجَعَلۡنٰهَا رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ السَّعِيۡرِ ۞
ترجمہ:
اور بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کردیا اور ان کو شیطان کے مار بھگانے کا ذریعہ بنادیا اور ان کے لیے دہکتی ہوئی دوزخ کا عذاب تیار کردیا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کردیا، اور ان کو شیطانوں کے ماربھگانے کا ذریعہ بنادیا اور ان کے لیے دہکتی ہوئی دوزخ کا عذاب تیار کردیا اور اپنے رب کا کفر کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانہ ہے جب ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو وہ دوزخ کی خوفناک چنگھاڑ سنیں گے اور وہ جوش میں آرہی ہوگی ( الملک : ٧۔ ٥)
ستاروں سے شیاطین کو رجم کرنے کی تحقیق
اس آیت میں ” مصابیح “ کا لفظ ہے اور یہ ” مصباح “ کی جمع ہے اور اس کا معنی چراغ ہے، ستاروں کو ان کے روشنی پہنچانے کی وجہ سے چراغ کہا جاتا ہے۔
اور فرمایا : ان کو شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ بنادیا۔ اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ہم نے آگ کے گولے پیدا کیے جن سے ان شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے جو فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے چوری چھپے آسمانوں پر جاتے ہیں، اس تفسیر کی بناء پر ستارے اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، ان ستاروں سے شیاطین کو رجم نہیں کیا جاتا یعنی مار بھگایا نہیں جاتا۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان ستاروں سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے اور ستارہ بنفسہٖ نہیں مارا جاتا، اس سے کچھ اجزاء جھڑ جاتے ہیں، ان اجزاء سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے اور ستاروں کے کچھ اجزاء جھڑنے سے ان کی صورت اور ان کی روشنی دینے میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو تین کاموں کے لیے پیدا فرمایا ہے : وہ آسمانوں کی زینت ہیں، وہ شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ ہیں، جنگلوں اور سمندروں میں ان کو رونمائی کی علامت بنایا ہے، جس نے ان تین باتوں کے علاوہ ستاروں کے متعلق کوئی اور تاویل کی اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا، قتادہ کی مراد یہ ہے کہ جس نے ستاروں کے متعلق یہ عقیدہ رکھا کہ وہ اس جہان میں تاثیر اور تصرف کرتے ہیں، ان کی وجہ سے بارشیں ہوتی ہیں اور تکوینی امور کا ظہور ہوتا ہے جیسے ہمارے زمانہ میں نجومی کہتے ہیں کہ جب فلاں ستارہ فلاں برج میں ہو تو فلاں کام ہوتا ہے اور وہ تاریخ پیدائش کے حساب سے لوگوں کے ستارے بتاتے ہیں، یہ سب ان کے عقلی ڈھکو سلے اور تک بندیاں ہیں، شریعت اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، نجومی کا غیب کی باتیں بتانا اور اس سے غیب کی باتیں پوچھنا اور اس کی تصدیق کرنا حرام ہے اور اس میں ایمان جانے کا خطرہ ہے۔
محمد بن کعب نے کہا : اللہ کی قسم ! زمین والوں کے لیے آسمان میں کوئی موثر ستارہ نہیں ہے لیکن گم راہ لوگوں نے اس کو کہانت کا ذریعہ بنایا ہے۔
شہاب ثاقب کا لغوی اور اصطلاحی معنی
شہاب، وہ چھوٹے چھوٹے اجرام یا شہاب جن کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے، زمین کی حرکت سے مخالف سمت میں حرکت کرتے ہوئے زمین کے کرہ ہوائی سے متصادم ہوتے ہیں تو ان کی رفتار اتنی تیز ہوجاتی ہے کہ ہوا کی مزاحمت سے جو حرارت پیدا ہوتی ہے، وہ ان کو جلا کر خاک کردیتی ہے۔ نظام شمسی کے جن مختلف ارکان کا اوپر ذکر ہوچکا ہے، ان کے علاوہ بیشمار اور چھوٹے چھوٹے اجرام ہیں، جن کو شہاب ثاقب کہتے ہیں۔ ( علم ہیئت ص ١١٠)
وہ چمکتا ستارہ جو آسمان سے گرتا یا آتش بازی کی طرح چھوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
شہاب ثاب کا ٹکڑا جو راکھ ہونے سے پہلے زمین تک پہنچ جاتا ہے اور دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے، بعض اوقات ایسے شہابچے زمین پر گرپڑتے ہیں جن کا سائز کافی بڑا ہوتا ہے۔ ( اردو لغت ج ١٦ ص ٧٥٠، مطبوعہ محیط اردو پریس، کراچی، ١٩٩١ ء)
علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
جلتی ہوئی آگ کے چمک دار شعلہ کو شہاب کہتے ہیں۔ (المفردات ج ١ ص ٣٥٢، مطوبہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
علامہ ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
حدیث میں ہے : جب جنات فرشتوں کی باتیں چوری سے سنتے ہیں تو بسا اوقات ان کو شہاب پکڑ لیتا ہے اس سے پہلے کہ وہ یہ باتیں کسی کے دل میں القاء کریں، اور شہاب سے آپ کی مراد ہے : جو رات کو ستارے کی مانند ٹوٹتا ہے اور وہ اصل میں آگ کا ایک شعلہ ہوتا ہے۔ ( النہایہ ج ص ٤٥٨، ٤٥٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)
شہاب ثاقب کے متعلق احادیث
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ایک ستارہ ٹوٹ کر گرا اور فضاء روشن ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : جب تم زمانہ جاہلیت میں یہ منظر دیکھتے تھے تو اس کے متعلق کیا کہتے تھے ؟ صحابہ کرام نے کہا : ہم یہ کہتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی بڑا آدمی مرگیا ہے، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگ کا یہ شعلہ کسی کی موت پر پھینکا جاتا ہے نہ کسی کی حیات پر، لیکن ہمارا رب عزوجل جب کسی چیز کے متعلق کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر آسمان والے سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں وہ سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں وہ سبحان اللہ کہتے ہیں حتیٰ کہ اس آسمان تک تسبیح پہنچ جاتی ہے، پھر چھٹے آسمان والے ساتویں آسمان والوں سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ پھر وہ ان کو خبر دیتے ہیں، پھر ہر نچلے آسمان والا اپنے اوپر آسمان والے سے پوچھتا ہے، حتیٰ کہ آسمان دنیا تک یہ خبر پہنچ جاتی ہے اور شیاطین چوری سے اس خبر کو سن لیتے ہیں، پھر یہ وہ خبر اپنے چیلوں اور دوستوں تک پہنچا دیتے ہیں، پھر اگر وہ اسی خبر کو بیان کریں تو وہ حق ہے لیکن وہ اس میں تحریف کرتے ہیں اور اس میں کچھ اور باتوں کا اضافہ کردیتے ہیں۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٢٤، مسند احمد ج ١ ص ٢١٨، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٨ ص ١٣٨)
سنن ترمذی اور مسند احمد وغیرہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے زمانہ ٔ جاہلیت میں بھی شیاطین فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے آسمانوں پر چڑھتے تھے اور ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے جو اس طرح دکھائی دیتے تھے جیسے ستارے ٹوٹ کر گر رہے ہیں اور بعض احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بعثت سے پہلے یہ عمل نہیں ہوتا تھا اور شیاطین کو آسمان پر چڑھنے اور فرشتوں کی باتیں سننے سے منع نہیں کیا جاتا تھا، حدیث میں ہے :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ( پہلے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات پر قرآن مجید نہیں پڑھا تھا اور نہ ان کو دیکھا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی جو جماعت کے ساتھ عکاظ کے بازار میں گئے اور آسمان کی خبر اور شیاطین کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی تھی اور ان کے اوپر آگ کے شعلے پھینکے جاتے تھے، پس شیاطین اپنی قوم کی طرف گئے اور انہوں نے کہا : ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کیا چیز حائل ہوگئی ہے اور ہم پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے، زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں سفر کرو اور تلاش کرو کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوئی ہے، پھر انہوں نے زمین کے مشارق اور مغارب میں سفر کیا۔ ان کی ایک جماعت تہامہ کی طرف گئی اور وہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عکاظ کے بازار میں اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے قرآن کو سنا تو انہوں نے کہا : یہ ہے وہ چیز جو تمہارے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور کہا : اے ہماری قوم ! بیشک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں قراردیں گے۔
( صحیح بخاری رقم الحدیث : ٤٩٢١، ٧٧٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٢٣، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٦٢٤ )
ایک اور قول یہ ہے کہ شہاب ثاقب کا گرنا پہلے بھی دکھائی دیتا تھا اور معروف تھا لیکن شیاطین کو ان کے ذریعہ دور کرنا اور جلانا یہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد شروع ہوا ہے، اسی لیے جنات نے اپنے دور کیے جانے پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا اور اس کا سبب تلاش کیا۔ ( اکمل العلم بفوائد مسلم ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٤، مطبوعہ دارالوفاء، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی ٦٥٦ ھ اس حدیث کی شرح لکھتے ہیں :
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ دو متعارض اور مختلف حدیثیں ہیں۔ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بھی شہاب ثاقب گرائے جانے کا معمول تھا اور دوسری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر آپ کی بعثت کے بعد شروع ہوا ہے اور ظاہر قرآن میں بھی اس کی تائید ہے۔ اسی وجہ سے علماء میں اختلاف ہوا، جاحظ نے یہ کہا کہ آپ کی بعثت سے پہلے شہاب ثاقب گرانے کا معمول نہیں تھا اور امام غزالی نے یہ کہا کہ آپ سے پہلے بھی یہ معمول تھا لیکن آپ کی بعثت کے بعد یہ بہت زیادہ ہوگیا اور اس طرح ان حدیثوں کا تعارض دور ہوگیا۔ ( المفہم ج ٧ ص ٤٢١، ٤٢٠، مطبوعہ دارابن کثیر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
امام عبد الرزاق نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ زہری سے سوال کیا گیا : زمانہ ٔ جاہلیت میں ستاروں کو شیاطین پر پھینکا جاتا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! لیکن اسلام آنے کے بعد اس میں زیادہ تغلیظ اور تشدید کی گئی اور یہ ان مختلف حدیثوں میں عمدہ تطبق ہے۔ پھر میں نے وہب بن منبہ کی ایسی روایت دیکھی جس سے اشکال دور ہوجاتا ہے اور ان مختلف حدیثوں میں تطبیق ہوجاتی ہے، انہوں نے کہا : پہلے ابلیس تمام آسمانوں پر چڑھا کرتا تھا اور جس جگہ چاہتا تھا پھرتا رہتا تھا، جب سے حضرت آدم جنت سے زمین پر آئے تھے، اس کا یہی معمول تھا اور اس کو منع نہیں کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا گیا، پھر اس کو چوتھے آسمان تک چڑھنے سے روک دیا گیا اور جب ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معبوث ہوئے تو پھر اس کو بقیہ تین آسمانوں پر بھی چڑھنے سے روک دیا گیا، پھر ابلیس اور اس کا لشکر چوری چھپے جا کر فرشتوں کی باتیں سنا کرتے تھے تو ان پر ستارے مارے جاتے تھے۔ ( فتح الباری ج ٨ ص ٦٧٣، ٢٧٢، لاہور، ١٤٠١ ھ)
ستاروں سے شیاطین کو رجم کرنے پر اعتراضات کے جوابات
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : اس مقام پر مفکرین کے چند شبہات ہیں، ہم ان کے جوابات ذکر کر رہے ہیں :
(١) قدیم فلاسفہ کی کتابوں میں بھی ستاروں کے ٹوٹنے کا ذکر ہے، انہوں نے کہا ہے کہ جب دھوپ سے زمین گرم ہوجاتی ہے تو اس سے خشک بخارات اوپر چڑھتے ہیں اور جب وہ آسمان کے قریب طبہق ناز میں پہنچتے ہیں تو جل جاتے ہیں اور اسی شعلہ کو شہاب ثاقب کیا جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس کا انکار نہیں کرتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے شہاب ثاقب موجود تھے، اور ان کے دیگر طبعی اسباب تھے، اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد کسی اور سبب سے شہاب ثاقب پائے جائیں اور وہ سبب ہے ان جنات کو مار بھگانا جو فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے آسمانوں کے اوپر چڑھتے ہیں۔ زہری سے پوچھا گیا : کیا زمانہ جاہلیت میں بھی شیطانوں پر آگ کے گولے مارے جاتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی۔
وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا وَّ اَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِط فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا (الجن : ٩۔ ٨)
اور ہم نے آسمان کو چھو کر دیکھا تو اسے سخت محافظوں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا اور ہم پہلے ( فرشتوں کی باتیں) سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے، سو اب جو بھی سننے کے لیے جاتا وہ ایک شعلہ کو اپنی گھات میں پاتا ہے۔
(٢) یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں جنات ہزاروں بار آسمانوں پر فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے جائیں اور ان کو ہزاروں بار جلا دیا جائے، اس کے بعد وہ پھر اوپرجائیں جب کہ عقل والے کو پتا چل جائے کہ فلاں کام کرنے سے وہ ہلاک ہوجاتا ہے تو پھر وہ دوبارہ اس کام کو نہیں کرتا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی ہلاکت کو ان کے لیے مقدر کردیا ہے اور جو کام تقدیر میں ہو وہ پورا ہو کر رہتا ہے، اور جب تقدیر کا لکھا ہوا آتا ہے تو عقل جاتی رہتی ہے۔
(٣) احادیث میں ہے : آسمان کی موٹائی اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی مسافت پانچ سو سال میں طے ہوتی ہے اور ان جنات کا آسمان کے اجسام میں نفوذ کرنا اور آسمانوں کے اتصال کو منقطع کرنا باطل ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے : آسمانوں میں کوئی شگاف نہیں ہے اور جب وہ آسمانوں میں نفوذ نہیں کرسکتے تو اتنی دور سے ان کے لیے فرشتوں کی باتیں سننا کس طرح ممکن ہے اور اگر وہ اتنی دور سے فرشتوں کی باتیں سن سکتے ہیں تو پھر ان کا آسمانوں پر جانا کیا ضروری ہے، وہ زمین سے بھی فرشتوں کی باتیں سن سکتے ہیں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے زمین سے فرشتوں کی باتیں سننے میں جنات کے لیے کوئی طبعی رکاوٹ اور دشواری ہو یا وہ زیادہ تحقیق اور تاکید کے لیے فرشتوں کے قریب پہنچ کر ان کی باتیں سننا چاہتے ہوں۔
(٤) فرشتے مستقل کی باتوں پر لوح محفوظ کے مطالعہ سے مطلع ہوتے ہیں یا اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی فرماتا ہے، ہر دو صورتوں میں فرشتے ان امور پر سکوت کیوں نہیں کرتے اور ان امور کے متعلق آپس میں گفتگو کیوں کرتے ہیں، جس وجہ سے جنات کو ان کی باتیں سننے کا موقع ملتا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا تعلق بھی امر الٰہی سے ہے، تقدیر میں اسی طرح تھا کہ فرشتے مستقبل کے کاموں کے متعلق باتیں کریں گے اور شیاطین ان کو چوری چھپے سننے کے لیے آسمانوں کے اوپر جائیں گے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے پر مانے لگتے ہیں، جیسے زنجیر کو صاف پتھر پر مارا جائے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو حکم نافذ فرما دیتا ہے، جب فرشتوں کے دلوں سے کچھ خوف دور ہوجاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا تھا ؟ وہ کہتے ہیں : اس نے جو کچھ فرمایا، وہ حق ہے اور وہی سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے، پھر فرشتوں کی گفتگو کو چرانے والے شیطان ان باتوں کو چوری سے سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو کشادہ کر کے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر دکھایا اور کہا : شیطان اس طرح ایک دوسرے کے اوپر تلے ہوتے ہیں اور یہ فرشتوں کی گفتگو کو چوری سے سننے والے ہیں، بعض اوقات اس چوری سے سننے والے کو آگ کا ایک شعلہ آ کر لگتا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے ساتھی کو یہ بتائے کہ اس نے کیا سنا تھا وہ شعلہ اس سننے والے کو جلا ڈالتا ہے اور بعض اوقات وہ شعلہ اس کو نہیں لگتا حتیٰ کہ وہ سننے والا اپنے قریب والے کو بتادیتا ہے، پھر وہ اس کو بتادیتا ہے جو اس سے نیچے ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہ ان باتوں کو زمین تک پہنچا دیتے ہیں، پھر وہ یہ باتیں جادوگر کے منہ میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ ان باتوں کے ساتھ سو جھوٹ اور ملا لیتا ہے، پھر اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ کیا اس جادوگر نے ہم کو فلاں دن ایسی ایسی خبر نہیں دی تھی اور ہم نے اس کی خبر کو سچا پایا تھا اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس نے آسمان کی خبر سن لی تھی۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٠١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٢٥۔ ٤٧٢٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٢٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩٤)
(٥) شیاطین آگ سے پیدا کئے گئے ہیں اور آگ پر آگ ماری جائے تو وہ اس کو جلائے گئی نہیں بلکہ اس کی حرارت میں اور تقویت پیدا کرے گی، پس یہ کیسے معقول ہوگا کہ شیاطین پر آگ کے گولے مار کر ان کو بھگایا جاتا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آگ کی ایک قسم دوسری قسم سے زیادہ قوی ہوتی ہے اور جو زیادہ قوی ہوگی وہ کم زور کو نقصان پہنچائے گی۔
(٦) شیاطین کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے رجم کیا جاتا تھا تو آپ کی وفات کے بعد رجم کی کیا ضرورت ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کاہنوں کی خبر کو باطل کرنے کے لیے رجم شیاطین کو برقرار رکھا گیا ہے۔
(٧) رجم شیاطین زمین کے قریب ہوتا ہے، اگر یہ آسمان کے قریب ہوتا تو ہم اس کا مشاہدہ نہ کرسکتے جیسا کہ ستاروں کی حرکات کا مشاہدہ نہیں کرتے اور جب یہ رجم زمین کے قریب ہوتا ہے تو پھر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس رجم کی وجہ سے شیاطین آسمانوں تک نہیں پہنچ سکتے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بعد مسافت سماعت سے مانع نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات میں یہ عادت جاری کردی ہو کہ وہ آسمان دنیا سے فرشتوں کی باتیں سن سکتے ہوں، اس لیے ان کو آسمان دنیا سے دور رکھا جاتا ہے اور وہیں ان کو آگ کے گولے آ کر لگتے ہوں جو زمین سے قرب کی وجہ سے ہمیں نظر آتے ہیں۔
(٨) اگر شیاطین کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ فرشتوں کو دی ہوئی خبریں کاہنوں کی طرف منتقل کردیں تو انکے لیے یہ ممکن کیوں نہیں ہے کہ وہ مؤمنوں کے راز کی باتیں کفار کو پہنچا دیں اور اس کے سبب سے کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کی باتیں سننے پر قادر کردیا ہو اور مسلمانوں کی باتیں سننے اور ان کو کفار تک پہنچانے سے عاجز کردیا ہو۔
(٩) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ابتداء آسمان پر چڑھنا محال کیوں نہ کردیا حتیٰ کہ انہیں بھگانے کے لیے آگ کے گولے مارنے کی ضرورت نہ پیش آتی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء شیطان کو پیدا ہی کیوں کیا حتیٰ کہ پھر اس کا رد کرنے کے لیے نبیوں کو بھیجے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، دراصل اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ حکم دیتا ہے اور وہ اپنے کسی فعل پر جواب دہ نہیں ہے، قرآن مجید میں ہے :
لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ (الانبیاء : ٢٣) وہ اپنے کاموں پر کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے اور سب اس کے سامنے جواب دہ ہیں (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٨٦، ٥٨٤، مخر جاوزائد، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 5
[…] کی تفسیر کے لیے بھی الملک : ٥ کی تفسیر ملاحظہ […]