حضور کی چار صاحبزادیاں اور اُن کی اولاد پاک
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی چار صاحبزادیاں اور اُن کی اولاد پاک
اکثر لوگوں کی طرف سے سوال کیا جاتا ہے کہ اگر حضور جان ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار صاحبزادیاں تھیں تو صرف اولاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا ہی کیوں مشہور ہے آئیے ہم اس کی تفصیل جانتے ہیں
مفسر قرآن ، شیخ الحدیث ، شارح صحیحین حضرت علامہ غلام رسول سعیدی نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں
“ حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ ( جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب کے شوہر ہیں ) سے حضرت زینب رضی اللہ عنھا کے دو بچے ہوئے صاحبزادہ کا نام علی تھا وہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے والد کی حیات میں وصال فرماگئےاور صاحبزادی حضرت اُمامہ بنت العاص رضی اللہ عنھا نے کافی عمر پائی سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنھا کے وصال کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے حضرت اُمامہ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کردیا ، حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت علی کے حکم سے حضرت مغیرہ بن نوفل نے حضرت اُمامہ سے نکاح کرلیا اور انھیں کے نکاح میں حضرت اُمامہ کا وصال ہوگیا ۔ حضرت امامہ کی نہ حضرت علی سے کوئی اولاد ہوئی نہ حضرت مغیرہ بن نوفل سے اور اس طرح آج آل زینب سلام اللہ علیھا میں سے کوئی باقی نہیں ہے ( الاصابہ فی تمییز الصحابہ | ابن حجر عسقلانی )
پھر مزید لکھتے ہیں کہ
“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی چار صاحبزادیاں ہوئیں ۔ حضرت زینب ، حضرت رقیہ ، حضرت ام کلثوم ، حضرت فاطمہ۔ رضی اللہ عنھن اجمعین وارضاھن۔ حضرت زینب کا مفصل ذکر آچکا ہے ۔
حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا بعثت سے سات سال پہلے پیدا ہوئیں ، بعثت سے پہلے عتبہ بن ابولہب سے آپ کا نکاح ہوچکا تھا رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد ابو لہب نے اپنے بیٹے کو حضرت رقیہ کو طلاق دینے پر مجبور کردیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے حضرت رقیہ کا نکاح کردیا۔ حضرت عثمان نے حضرت رقیہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی وہاں آپ سے پہلے ناتمام بچہ ہوا اس کے بعد ایک صاحبزادہ ہوا جس کانام عبد اللہ رکھا ۔ اسی وجہ سے حضرت عثمان غنی کی کنیت ابو عبد اللہ ہے ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دنیا کو چھ برس شرف بخشنے کے بعد راہی فردوس ہوگئے اس کے بعد حضرت رقیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ غزوہ بدر کے ایام میں حضرت رقیہ کچھ عرصہ علیل رہ کر جنت نشین ہوگئیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تیسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھا ہیں ۔ ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے آپ کا نکاح بعثت سے پہلے ہوچکا تھا ، رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔اعلان نبوت کے بعد ابو لہب کے اصرار سے آپ کو طلاق دیدی ۔ حضرت رقیہ کے وصال کے بعد تین ہجری میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عثمان سے آپ کا نکاح کردیا آپ چھ سال حضرت عثمان کے عقد میں رہیں اور کوئی اولاد نہیں ہوئی ، نو ہجری میں آپ کا وصال ہوگیا ( الاستیعاب ، حافظ ابن عبد البر )
اس تفصیل سے ظاہر ہوگیا کہ آپ کی تینوں بڑی صاحبزادیوں کی اولاد کا سلسلہ قائم اور جاری نہیں رہا ۔ اللہ کی مشیت یونہی تھی اگر آپ کی ان تین صاحبزادیوں کی اولاد کا سلسلہ بھی جاری ہوتا تو وہ بھی اشراف اور سادات کے القاب سے نوازے جاتے مگر آل رسول کے سلسلہ کا فروغ نسب فاطمی سے مقدر تھا
( شرح صحیح مسلم | جلد ۲ | صفحہ ۱۱۳، ۱۱۲)
حررہ : محمد حسن رضاقادری
امام نوری مسجد پلانو امریکہ