اعلی حضرت
اعلی حضرت
” اعلیٰ حضرت ” ارود زبان میں تعظیم کا ایک کلمہ ہے ، جو پاک و ہند کی معزز شخصیات کے ساتھ بولا جاتا ہے ۔
اِس کا معنیٰ اَہلِ زبان نے جو متعین کیا ہے وہ صرف اور صرف تعظیم پر دلالت کرتا ہے ؛ جیسے کسی کو حضور ، جناب ، اور عالی مرتبت کہا جائے ۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی کو اعلیٰ حضرت کہنا اُن سب کے کسرِ شان ہے جنھیں فقط ” حضرت ” کہا جاتا ہے ۔
اگرچہ اِس بات کو بہت ساری مثالوں اور مروج اصطلاحوں سے سمجھایا جاسکتا ہے ، لیکن یہاں صرف ایک مثال سے سمجھیےکہ:
ہمارے پاک و ہند میں سیدنا امام حسین پاک کو ” امام عالی مقام ” اور ” سیدالشھدا ” جیسے معزز القاب سے یاد کیاجاتا ہے ، اور بصد احترام کرنابھی چاہیے ۔
اب اگر کوئی اس پر اعتراض کرے کہ:
آپ مولا علی پاک کو صرف ” امام علی ” کہتے ہیں ، امام حسن پاک کو صرف ” امام حسن ” کہتے ہیں ، جب کہ سیدنا حسین پاک کو ” امام عالی مقام ” کہتے ہیں ؛ نیز “سیدالشھدا ” لقب بھی امام حسین پاک کے دادا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کا ہے ، اس لیے امامحسین کے ساتھ یہ القاب استعمال نہیں ہونے چاہیں ۔۔۔۔۔۔ !
تو ہم اسے کہیں گے کہ:
جس زاویے سے آپ سوچ رہے ہیں یہ علم کی کمی اور زبان کے طور اطوار سے ناواقفیت کی بنا پر ہے ؛ مولا علی پاک فرماتے ہیں :
بندہ جس چیز سے جاہل ہوتا ہے اس کا دشمن بن جاتا ہے ۔
اس لیے آپ ان القاب کے دشمن بننے کے بجائےاپنا مطالعہ وسیع کریں !
پاک و ہند کے بہت سارے نوابوں اور اُمرا کو ” اعلیٰ حضرت ” کَہ کر مخاطب کیا جاتا تھا ، جیسا کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق وغیرہ اُدَبا کی کتابوں میں یہ لفظ مستعمل ہے ۔
پیامِ مشرق میں ڈاکٹر اقبال نے افغانستان کے فرمان روا امیر امان اللہ خان کو بھی ” اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان ” کَہ کر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ۔
( یہ الگ بات ہے کہ جب ہم برصغیر میں لقبِ ” اعلیٰ حضرت ” کی حامل شخصیات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں شیخ الاسلام امام احمد رضا نوراللہ مرقدہ جیسا بلند مرتبہ کوئی نظر نہیں آتا ۔
رب تعالیٰ اُن کے علم و فضل اور عشق رسول کا کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمائے ! )
معروف ناقدِ اردو آل احمد سرور نے ایک مکالمہ لکھا ہے جس میں مفتی صدرالدین آزردہ ، بہادر شاہ ظفر اور غالب وغیرہ کو شامل کیا ہے ؛ جوابِ آزردہ میں لکھتے ہیں:
درباری کے ہلکے ہلکے سُر آہستہ آہستہ بلند ہوجاتے ہیں
نقیب ، نگاہ روبرو ” اعلیٰ حضرت ” خطاب فرماتے ہیں ۔
اردو زبان میں مستعمل کسی لفظ یا اصطلاح پر اعتراض کرنے سے پہلے اردو زبان و ادب کامطالعہ ضرور کرلینا چاہیے !
رب تعالیٰ ہماری غلطیوں سے درگزر فرمائے اور ہمیں علمی ابحاث اور علمی اصطلاحات کو علمی انداز میں دیکھنے کی توفیق بخشے !
خاکِ راہِ حجاز
لقمان شاہد
11.1.2024 م