اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الطَّيۡرِ فَوۡقَهُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّيَقۡبِضۡنَؕؔ ۘ مَا يُمۡسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَىۡءٍۢ بَصِيۡرٌ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 19
sulemansubhani نے Friday، 12 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الطَّيۡرِ فَوۡقَهُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّيَقۡبِضۡنَؕؔ ۘ مَا يُمۡسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَىۡءٍۢ بَصِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
کیا انہوں نے اپنے اوپر ( کبھی) پر پھیلائے ہوئے اور ( کبھی) پر سمیٹے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا، ان کو ( فضاء میں) رحمن کے سوا کوئی روک نہیں سکتا، بیشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
الملک : ١٩ میں فرمایا : کیا انہوں نے اپنے اوپر ( کبھی) پر پھیلائے ہوئے اور ( کبھی) پر سمیٹے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا، ان کو ( فضاء میں) رحمن کے سوا کوئی روک نہیں سکتا، بیشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے
جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے چلنے کے لیے زمین کو مسخر کردیا ہے اور مچھلیوں کے تیرنے کے لیے پانی کو مسخر کردیا ہے، اسی طرح پرندوں کے اڑنے کے لیے فضاء کو مسخر کردیا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے خوب دیکھنے کا ثبوت ہے اور جب اللہ دیکھتا ہے تو وہ دکھائی بھی دے سکتا ہے، اور یہی اہل سنت کا مذہب ہے، اس کے بر خلاف معتزلہ اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے کے منکر ہیں، دنیا میں صرف ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اور میدان محشر میں اور جنت میں تمام مؤمنین اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور کسی چیز کو دیکھنے سے اس چیز کا احاطہ کرنا لازم نہیں آتا جیسے ہم آسمان کو دیکھتے وقت اس کا احاطہ نہیں کرتے حالانکہ وہ متناہی ہے، تو اللہ تعالیٰ جو غیر متناہی اور لا محدود ہے اس کو دیکھنے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کا احاطہ بھی ہوجائے۔
القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 19