وَلَـقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 18
sulemansubhani نے Friday، 12 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَـقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ ۞
ترجمہ:
اور بیشک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا تھا تو کیسا ہوا میرا انکار کرنا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا تھا تو کیسا ہوا میرا انکار کرنا کیا انہوں نے اپنے اوپر ( کبھی) پر پھیلائے ہوئے اور ( کبھی) پر سمیٹے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا، ان کو ( فضاء میں) رحمن کے سوا کوئی روک نہیں سکتا، بیشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے بھلا وہ تمہارا کون سا لشکر ہے جو اللہ کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکے، کافر تو صرف دھوکے میں ہیں یا وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے سکے اگر اللہ اپنا رزق دینا بند کردے، بلکہ کافر اپنی سرکشی میں اور نفرت میں راسخ ہوچکے ہیں بھلا جو شخص منہ کے بل اوندھا چلے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا وہ جو صراط مستقیم پر سیدھا چلے (الملک : ٢٢، ١٨)
اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر دلائل اور کفار کے نظریات کا رد اور ابطال
الملک : ١٨ میں سابقہ امتوں کے کافروں کی مثالیں دے کر کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب سے ڈرایا ہے، یعنی اس سے پہلے قوم عاد اور قوم ثمود نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کردیا، اور ان پر جو عذاب بھیجا گیا تھا اس کی نشانیاں کفار مکہ اب بھی شام کے سفر میں مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ ان نشانیوں سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 18