فَلَمَّا رَاَوۡهُ زُلۡفَةً سِیْٓـئَتۡ وُجُوۡهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَقِيۡلَ هٰذَا الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَدَّعُوۡنَ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 27
sulemansubhani نے Saturday، 13 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلَمَّا رَاَوۡهُ زُلۡفَةً سِیْٓـئَتۡ وُجُوۡهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَقِيۡلَ هٰذَا الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَدَّعُوۡنَ ۞
ترجمہ:
پھر جب وہ ( عذاب کو) قریب آتا دیکھیں گے تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا : یہی ہے وہ جس کو تم بار بار طلب کرتے تھے۔
الملک : ٢٧ میں فرمایا : پھر جب وہ ( عذاب کو) قریب آتا دیکھیں گے تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا، یہی ہے وہ جس کو تم بار بار طلب کرتے تھے
اس کا معنی ہے : جب وہ عذاب کو آتا ہوا قریب دیکھ لیں گے یا عذاب کو اپنے قریب پائیں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس وقت ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے اور اس کی علت پشیمانی اور پچھتاوا ہوگا، اس آیت میں ” سینت “ کا لفظ ہے یہ ” سئو “ سے بنا ہے اور اس کا معنی ہے : فتح اور برائی اور ” سینۃ “ ” حسنۃ “ کی ضد ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے کرتوتوں پر پچھتانے کی وجہ سے ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے جیسے کسی شخص کو گھسیٹ کر اس کے مقتل کی طرف لے جایا جا رہا ہو۔
اگر اس آیت کو مطلق عذاب پر محمول کیا جائے تو اس کی تفسیر آسان ہے، یعنی جب ان کے پاس وہ عذاب آئے جو ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر ہلاک کرنے والا جیسے قوم عاد اور قوم ثمود پر عذاب آیا تھا تو اس عذاب کے آثار دیکھ کر اور اس کو اپنے قریب پا کر ان کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے، پھر فرمایا : یہی ہے وہ جس کو تم بار بار طلب کرتے تھے۔
ایک سوال یہ ہے کہ اس قول کا قائل کون ہے، بعض مفسرین نے کہا : وہ ” الزبانیہ “ ہیں یعنی جہنم کے رفتے اور بعض مفسرین نے کہا : بلکہ کفار ایک دوسرے سے کہیں گے۔
اس آیت میں ایک لفظ ” تدعون “ اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ ” تدعون “ کی طرح ہے، اس کا معنی ہے، تم طلب کرتے تھے، دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ ” دعویٰ “ سے بنا ہے یعنی وہ عذاب ہے جس کے متعلق تم دعویٰ کرتے تھے کہ تم کو یہ عذاب نہیں ہوگا، اور اسی عذاب کا انکار کرنے کے لیے تم یہ کہتے تھے کہ تم کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کیا جائے گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 27