أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : بھلا یہ بتائو کہ اگر صبح کو تمہاری پانی زمین میں اتر جائے تو تمہارے پاس بہتا ہوا پانی کون لا کر دے گا ؏

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا

الملک : ٣٠ میں فرمایا : آپ کہیے : بھلا یہ بتائو کہ اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں اتر جائے تو تمہارے پاس بہتا ہوا پانی کون لاکر دے گا

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ کفار سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرایا جائے تاکہ وہ اندازہ کریں اور دل میں سوچیں کہ اتنے زبردست منعم کا شکر ادا نہ کرنا اور اس کی نعمتوں کے احسانات کو نہ ماننا اور اس کو چھوڑکر بتوں کی عبادت کرنا کتنی بری بات ہے۔ کافروں کو چاہیے تھا کہ یہ اعتراف کرتے کہ اگر زمین میں پانی دھنس جائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بہتر ہوا پانی نہیں لاسکتا، اسی نہج پر یہ آیت ہے :

اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ئَ اَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (الواقعہ : ٦٩۔ ٦٨ )

بھلا یہ بتائو کہ جس پانی کو تم پیتے ہو کیا تم نے اس کو بادلوں سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرنے والے ہیں

مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ سورة تبارک الذی کی آخری آیت پڑھیں تو اس کے بعد یہ کہا کریں :

لا باتینا بہ الا اللہ۔ اللہ کے سوا اس پانی کو کوئی نہیں لاسکتا۔

سورت تبارک الذی کا اختتام

الحمد للہ رب العلمین ! آج ٦ صفر ١٤٢٦ ھ/ ١٧ مارچ ٢٠٠٥ ء بہ روز جمعرات کو سورة تبارک الذی کی تفسیر مکمل ہوگئی، اے میرے رب ! جس طرح آپ نے محض اپنے کرم سے یہاں تک پہنچا دیا ہے قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور اس تفسیر کو قیامت تک کے مسلمانوں میں مقبول عام بنادیں اور میری، میرے والدین کی، میرے اساتذہ کی اور تمام قارئین کی مغفرت فرما دیں اور قیامت کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے اور دنیا میں آپ کی زیارت سے شاد کام فرمائیں۔

والحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبین وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ وازواجہٖ وامتہٖ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 30