أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَهۡلَـكَنِىَ اللّٰهُ وَمَنۡ مَّعِىَ اَوۡ رَحِمَنَا ۙ فَمَنۡ يُّجِيۡرُ الۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : بھلا یہ بتائو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو درد ناک عذاب سے کون پناہ دے گا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : بھلا یہ بتائو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بنا دے گا آپ کہیے : وہی رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے توکل کیا ہے، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون کھلی گمراہی میں ہے آپ کہیے : بھلا یہ بتائو کہ اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں اتر جائے تو تمہارے پاس بہتا ہوا پانی کون لا کر دے گا (الملک : ٣٠۔ ٢٨ )

کفار کی بد دعا سے حراساں نہ ہونے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تلقین

کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مؤمنوں کو ہلاکت کی بد دعا دیتے تھے، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنَ (الطور : ٣٠)

یاوہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر حوادث زمانہ ( موت) کا انتظار کررہے ہیں

اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا : آپ ان سے کہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے وفات دے کر اٹھا لے یا مجھ پر رحم فرما کر میری اجل کو مؤخر کر دے تو اس میں تمہارے لیے کون سی راحت ہے اور کون سا فائدہ ہے اور جب تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا تو تمہارا یہ گمان ہے کہ تمہارے یہ بت تم کو اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے، سو تم جان لو کہ تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، اگر تم اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آئو اور برے کاموں سے تائب ہو کر نیک کام کرو۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 28