أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ وَجَعَلَ لَـكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡــئِدَةَ ‌ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آٰنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اکر دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو آپ کہیے : وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم جمع کیے جائو گے وہ کہتے ہیں : ( عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟ آپ کہیے : اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف عذاب سے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں پھر جب وہ ( عذاب کو) قریب آتا دیکھیں گے تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہی ہے وہ جس کو تم بار بار طلب کرتے تھے

( الملک : ٢٧، ٢٣ )

اللہ تعالیٰ کا حیوانات کے احوال سے اپنی قدرت پر استدلال

الملک : ٢٣ سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حیوانات کے احوال سے اپنی قدرت پر دلائل قائم کیے تھے، اور فرمایا تھا :

کیا انہوں نے اپنے اوپر پر پھیلائے ہوئے اور سمیٹے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا اور اس آیت میں انسانوں کے احوال سے اپنی قدرت پر دلائل قائم فرمانے ہیں اور کان اور آنکھوں اور دلوں کو پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر کیا ہے، اور یہاں ان نعمتوں کا ذکر کر کے اس پر تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو یہ عظیم نعمتیں عطاء کی ہیں، سوچو ! اگر تمہارے کان نہ ہوتے تو لوگوں سے تمہارے رابطے نہ ہوسکتے، اگر آنکھیں نہ ہوتیں تو تمہارے لیے پوری دنیا اندھیر ہوتی اور دل نہ ہوتے تو تمہارے جسم میں خون کی گردش کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا اور تمہارا جینا محال ہوجاتا، لیکن تم نے ان نعمتوں کو ضائع کردیا، تم کو پیغام حق سننے کے لیے کان دیئے تھے لیکن تم نے اس کو نہیں سنا، حقائق کائنات میں غور کرنے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اور ان نشانیوں سے صاحب نشان تک پہنچنے کے لیے تمہیں آنکھیں دی تھیں لیکن تم نے ان نشانیوں نے عبرت حاصل نہیں کی اور دل سے تم نے صحیح تدبر نہیں کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دل سے اس آیت میں مجازا ذہن مراد ہو کیونکہ تدبر اور تفکر کرنا دماغ کا کام ہے، دل کا کام نہیں ہے اور چونکہ کافروں نے ان نعمتوں کو ضائع کردیا، اس لیے فرمایا : تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر کرنے کا معنی یہ ہے کہ جن مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں دی ہیں، ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ان نعمتوں کو خرچ کیا جائے اور ان نعمتوں سے اس کی رضا کے کام کیے جائیں اور جب کافروں نے ایسا نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 23