کیا حضور اکرمﷺ اپنی زندگی میں بنو امیہ سے نفرت کرتے تھے ؟

تحقیق: اسد الطحاوی

 

اس حوالے سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے مسند ابی یعلی و مستدرک الحاکم سے جسکی سند و متن درج ذیل ہے :

مسند ابی یعلی کی سند درج ذیل ہے :

حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي، قال: حدثني حجاج بن محمد، حدثنا شعبة، عن أبي حمزة، جارهم، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مطرف، عن أبي برزة، قال: «كان أبغض الأحياء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنو أمية وثقيف وبنو حنيفة»

[مسند ابی یعلی برقم: 7421]

اور

مستدرک الحاکم کی سند درج ذیل ہے :

حدثناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، ثنا حجاج بن محمد، ثنا شعبة، عن أبي حمزة، قال: سمعت حميد بن هلال، يحدث، عن عبد الله بن مطرف، عن أبي برزة الأسلمي، قال: «كان أبغض الأحياء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنو أمية، وبنو حنيفة، وثقيف» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه “

ابو حمزہ کہتا ہے میں نے حمید بن ھلال کو یہ حدیث روایت کرتے ہوسنا عبداللہ بن مطرف سے حضرت ابی برزہ اسلمی کی حوالے سے :

وہ فرماتے ہیں نبی اکرمﷺ اپنی زندگی میں بنو امیہ ، بنو حنیفہ اور ثقیف سے ناراض رہے

[مستدرک الحاکم برقم: 8482]

 

یہ روایت معلل ہے اور اس روایت میں لفظ ”بنو امیہ ” اور مطلق ان قبائل سے حضور اکرمﷺ کے ناراض ہونے کے الفاظ منکر اور غیر ثابت ہیں ۔

کیونکہ امام حاکم کی مذکورہ سند دیکھی جائے تو اس میں امام عبداللہ بن احمد سے انکے والد کے طریق سے حجاج سے یہ روایت بیان کی ہے امام حاکم نے اپنی سند سے اور جب ہم امام احمد کی اپنی تصنیف مسند احمد دیکھتے ہیں تو اس میں یہ متن تبدیل ہے اور نیز اس میں ”بنو امیہ” کا لفط بھی موجود نہیں ہے

 

جیسا کہ امام احمد روایت کرتے ہیں:

حدثنا حجاج، أخبرنا شعبة، عن أبي حمزة جارهم قال: سمعت حميد بن هلال يحدث، عن عبد الله بن مطرف، عن أبي برزة قال: ” كان أبغض الناس أو أبغض الأحياء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثقيف، وبنو حنيفة

امام احمد کہتے ہیں مجھے حجاج نے روایت کیا ہے امام شعبہ کے حوالے سے اور وہ ابو حمزہ سے وہ کہتا ہے میں حمید بن ھلال کو عبداللہ بن مطرف سے حدیث روایت کرنے سنا حضرت ابی بزرہ کے حوالے سے ” کہ حضور اکرمﷺ اپنی زندگی میں بنو حنیفہ اور ثقیف کے بعض اشخاص یا (مذکورہ قبائل ) کے لوگوں سے ناراض تھے

[مسند احمد برقم: 19775]

 

فائدہ:

اس روایت میں راوی سے ابو حمزہ جو کہ اس روایت کا مرکزی راوی ہے اس سے متن کو روایت کرنے میں بھی وھم ہوا ہے

پہلے یہ کہتا ہے کہ حضور اکرمﷺ ان قبائل (جن میں بنو امیہ نہیں ) کے بعض اشخصاص سے ”یا” ان قبائل سے مطلق طور پر ناراض تھے ۔

اب معلوم نہیں کہ اس میں محفوظ متن کونسا ہے ؟

نیز اس میں بنو امیہ کا لفظ نہیں ہے موجود !!

اور مستدرک کی روایت میں جب ان امام احمد کے طریق سے یہ روایت بیان کی گئی تو اس میں تبدیلی آگئی

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر کہا جائے کہ اس روایت کے متن میں مذکورہ لفظ ”بنو امیہ” روایت کرنے میں امام حاکم اپنی سند میں منفرد نہیں ہیں بلکہ امام ابی یعلی نے اپنی مسند میں ابراہیم الدورقی سے حجاج کے طریق سے روایت کرنے میں لفظ ”بنو امیہ” روایت کیا ہے

 

تو اسکا جواب یہ ہے کہ اس روایت کے متن میں وھم راوی چونکہ روایت کا مرکزی راوی ” ابو حمزہ ” ہے جسکا مکمل نام ” عبد الرحمن بن عبد الله المازني” ہے اور ان سے امام شعبہ روایت کرتے ہیں جنکا عمومی اصول ہے وہ اپنے نزدیک ثقہ سے روایت کرتے ہیں لیکن اس پر جرح ثابت ہے

جیسا کہ امام دارقطنی علیہ رحمہ سے روایت کرتے ہیں:

عبد الرحمن بن عبد الله المازني، أبو حمزة، البَصْرِيّ، ويقال ابن أبي عبد الله

قال البرقاني: سمعت الدارقطني يقول أبو حمزة الذي يقول شعبة جارنا؛

وليس بالقوي

امام برقانی کہتے ہیں میں نے امام دارقطنی سے سنا کہ یہ ابو حمزہ جو کہتا ہے کہ امام شعبہ ہمارے پڑوسی تھے۔

اور یہ قوی نہیں ہے

[موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني، برقم: 2104]

 

معلوم ہوا کہ یہ راوی روایت حدیث میں قوی نہیں تبھی یہ متن میں بار بار تبدیلی کرتا ہے کبھی یہ روایت میں ”بنو امیہ ” کو شامل کر دیتا ہے ، کبھی ترک کر دیتا ہے اور کبھی یہ بعض اشخاص کا تذکرہ کرتا ہے اور کبھی یہ مطلق قبائل کا تذکرہ کرتا ہے

تو یہ روایت کے متن میں اتنی گڑ بڑ ہے جو اس روایت کو قابل استدلال ہونے سے توقف کرنے کی دلیل دیتی ہے!!

اور محفوظ اور مختصر سند جو امام احمد نے خود روایت کی ہے اس میں ”بنو امیہ” کا شامل نا ہونا ہی اصح ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی نے اس کو ”مقبول” طبقہ میں رکھا ہے کہ جسکی ضمنی توثیق امام شعبہ سے روایت کرنے کے سبب تو ملتی ہے لیکن امام دارقطنی کی جرح ”لیس بالقوی” کے سبب یہ راوی قابل احتجاج نہ رہا

 

چناچہ امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

عبد الرحمن بن عبد الله، أو ابن أبي عبد الله، المازني، أبو حمزة البصري، جار شعبة، ويقال: إنه ابن كيسان: ”مقبول،”

[تقریب التھذیب ، برقم:]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اور یہ صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ سے بنو امیہ سے محبت کرنا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی دو شہزادیاں عطاء کرنا اسکا ثبوت ہے

 

اور حضرت ہندہ سے روایت ہے صحیح مسلم میں :

عن عائشة ، قالت:” جاءت هند إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، والله ما كان على ظهر الارض اهل خباء احب إلي من ان يذلهم الله من اهل خبائك، وما على ظهر الارض اهل خباء احب إلي من ان يعزهم الله من اهل خبائك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وايضا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ہند زوجہ ابوسفیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہنے لگی: یا رسول اللہ! ساری زمین پر کوئی ڈیرہ کے لوگ ایسے نہ تھے، جن کو میں یہ چاہتی ہوتی کہ اللہ ان کو تباہ کرے، آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ۔ اور اب ساری زمین پر کوئی ڈیرے والے ایسے نہیں ہیں جن کو میں یہ چاہتی ہوں کہ اللہ ان کو عزت دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈیرے والوں سے زیادہ (مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ اور آپ کی آل مجھ کو محبوب ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی ہے (میری طرف سے آپکے لیے یا یہ محبت میں اضافہ ہوگا )

[صحیح مسلم]

 

اور نبی اکرمﷺ خود فرماتے تھے کہ بنو امیہ میں ابدال و نیک لوگ ہونگے

اور حضور اکرمﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر لوگوں کو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر میں پناہ لینے پر سلامتی کی زمانت دیکر بنو امیہ خاندان کو عزت بخشی

 

تو ان دلائل کے مقابل مذکورہ روایت منکر و باطل ہے

 

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی