بِاَيِّٮكُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Sunday، 14 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِاَيِّٮكُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ ۞
ترجمہ:
کہ تم میں سے کون مجنون تھا۔
القلم : ٦ میں فرمایا کہ تم میں سے کون مجنون تھا۔
یعنی عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ دونوں فرقوں میں سے کون سا فرقہ مجنون ہے، آیا اسلام کے فرقہ میں جنون ہے یا کفر کے فرقہ میں جنون ہے۔
اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ مفتون سے مراد شیطان ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کا دین فتنہ ہے اور جب کفار نے آپ کو مجنون کہا تو ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کو جن چمٹا ہوا ہے اور اس کے اثر سے آپ مرنے کے بعد زندہ ہونے، حشر و نشر اور جنت اور دوزخ کی باتیں کرتے ہیں، اللہ تعالٰ نے ان کا رد کر کے فرمایا : ان کو عنقریب کل قیامت کے دن معلوم ہوجائے کہ کس کو جن چمٹا ہوا ہے اور کس کی عقل فاسد ہے ۔
القرآن – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 6