فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Sunday، 14 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ ۞
ترجمہ:
پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون مجنون تھا۔ بیشک آپ کا رب ہی خوب جاننے والا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک چکا ہے اور وہی ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ سو آپ مکذبین کی بات نہ مانیں۔ انہوں نے یہ چاہا کہ آپ ( دین میں) نرمی کریں تو وہ بھی نرم ہوجائیں گے۔ آپ بہت قسمیں کھانے والے، بےحد ذلیل آدمی کی بات نہ مانیں۔ جو بہت طعنے دینے والا اور چلتا پھرتا چغل خور ہے۔ نیکی سے بہت روکنے والا، حد سے متجاوز، سخت گناہ گار ہے۔ بہت بدخو، ان سب کے بعد نطفہ حرام ہے وہ بہت مال دار اور بیٹوں والا ہے جب اس کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے : یہ تو پہلے لوگوں کے جھوٹے قصے ہیں۔ ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے ( القلم : ١٦۔ ٥)
آپ کے اور کفار کے عنقریب دیکھنے سے مراد آیا دنیا میں دیکھنا ہے یا آخرت میں ؟
القلم : ٥ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب قیامت کے دن حق، باطل سے متمیز اور ممتاز ہوجائے گا تو اس وقت کفار بھی جان لیں گے کہ دنیا میں کوئی مجنون تھا اور کون فتنہ میں مبتلا تھا، اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا میں آپ کو علم نہیں تھا، یقینا دنیا میں بھی آپ کو علم تھا، یقینا دنیا میں بھی آپ کو علم تھا لیکن قیامت کے دن جب آپ دیکھیں گے کہ آپ کو مجنون کہنے والوں کو عذاب دیا جارہا ہے تو آپ کو ان کی سزا کا مشاہدہ ہوجائے گا۔
بعض مفسرین نے کہا : یہ آیت دنیا کے احوال پر محمول ہے، یعنی عنقریب آپ بھی دنیا میں دیکھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کو کیسی کامیابی، کامرانی اور سرفرازی عطاء فرماتا ہے اور کس طرح لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت جا گزین ہوتی ہے اور خون بن کر ان کی رگوں میں دوڑنے لگتی ہے اور یہ کافر میں جو آپ کا مجنون کہتے ہیں، یہ بھی دیکھ لیں گے کہ جنگ بدر میں کس طرح ان کی گردنیں ماری جاتی ہیں اور پورے جزیرہ عرب میں کفر ملیا میٹ ہوجاتا ہے اور اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچ جاتا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 5