أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيۡنٍۙ ۞

ترجمہ:

آپ بہت قسمیں کھانے والا بےحد ذلیل کی بات نہ مانیں۔

القلم : ١١۔ ١٠ میں فرمایا : آپ بہت قسمیں کھانے والے، بےحد ذلیل کی بات نہ مانیں۔ جو بہت طعنے دینے والا اور چلتا پھرتا چغل خو رہے۔

زیادہ قسم کھانے کی مذمت اور چغلی کھانے پر وعید

اس آیت میں ” حلاف “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : بہت زیادہ قسم کھانے والا، خواہ وہ معاملہ حق ہو یا باطل، بات بات پر اللہ تعالیٰ کا قسم کھانا ناپسندیدہ ہے، قرآن مجید میں ہے :

وَلاَ تَجْعَلُوا اللہ عُرْضَۃً لِّـاَیْمَانِکُمْ (البقرہ : ٢٢٤) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنائو۔

اور اس آیت میں ” مھین “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : حقیر اور ذلیل۔

یہاں مراد یہ ہے کہ جو شخص بہت زیادہ اللہ کی جھوٹی قسم کھاتا ہو، اور وہ جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہو وہ لوگوں کے نزدیک حقیر اور ذلیل ہوتا ہے اور جو شخص بات بات پر اللہ کی قسم کھائے وہ بھی ذلیل ہوتا ہے کیونکہ اس شخص دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت نہیں ہے، کیونکہ اگر اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت ہوتی تو وہ بات بات پر اللہ کی قسم کھا کر اللہ کو گواہ نہ بناتا اور جب کہ وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جھوٹ پر اللہ کو گواہ بنا رہا ہے اور جو شخص اللہ کو جھوٹ پر گواہ بنائے اس سے بڑھ کر ذلیل اور کون ہوگا۔

القلم : ١١ میں ” ھماز ‘ کا لفظ ہے ” ھماز “ کا مبالغہ کا صیغہ ہے، اس کا معنی ہے : بہ طور طعن آنکھ سے اشارہ کرنے والا، کسی کا عیب بیان کرنے والا، کسی کو طعنہ دینے والا۔

اس آیت میں ” مشاء بنمیم “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : چلتے پھرتے چغلی کھانے والا۔

چغلی کا معنی ہے : فساد ڈالنے کے لیے ایک فریق کی بات دوسرے فریق تک پہنچانا، چغلی کھانے پر احادیث میں سخت وعید ہے۔

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا۔

(صحیح مسلم کتاب، الایمان : ١٠٥، باب ٤٥، مسند احمد رقم الحدیث : ٦٥٤٨، دارلفکر)

حضرت اسماء بنت یزید بن السکن بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو یہ نہ بتائوں کہ تم میں سب سے اچھے لوگ کون ہیں ؟ صحابہ نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جب یہ دکھائی دیں تو اللہ عزوجل کی یاد آئے، پھر فرمایا : کیا میں تم کو یہ نہ بتائوں کہ تم میں سب سے بدتر لوگ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو چلتے پھرتے چغلی کرتے ہیں، دوستوں کے درمیان پھوٹ ڈالت ہیں اور بےقصور لوگوں پر تہمت لگاتے ہیں۔

( مسند احمد ج ٦ ص ٤٥٩ قدیم، مسند احمد ج ٤٥ ص ٥٧٥ جدید، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١١٩ المعجم الکبیر ج ٢٤ ص ٤٢٣، شعب الایمان رقم الحدیث : ١١٠٧)

القرآن – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 10