أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَنَجۡعَلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ كَالۡمُجۡرِمِيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

کیا ہم اطاعت گزاروں کو نافرمانوں کی مثل کریں گے ؟

تفسیر:

القلم : ٣٦۔ ٣٥ میں فرمایا : کیا ہم اطاعت گزاروں کو نافرمانوں کی مثل کردیں گے۔ تمہیں کیا ہوا، تم کیسا فیصلہ کرر ہے ہو۔

ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اطاعت گزاروں اور غیر اطاعت گزار دونوں کو ایک درجہ میں رکھنا جائز نہیں ہے۔

اس آیت سے معتزلہ کے اس استدلال کا رد کہ مومن مرتکب کبیرہ کو دائمی عذاب ہو گا

معتزلہ نے کہا : اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن اور فاسق مرتکب کبیرہ مساوی نہیں ہیں، پس واضح ہوگیا کہ جو شخص نفاسق مرتکب کبیرہ ہو وہ مومن نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مسلم اور مجرم مساوی نہیں ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ مسلم اور مجرم کسی چیز میں بھی مساوی نہیں ہیں کیونکہ مسلم اور مجرم جسم ہونے میں، جاندار ہونے میں اور انسان ہونے میں بہرحال مساوی ہیں، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اسلام اور جرم میں مساوی نہیں ہیں یا اسلام اور جرم کی جزاء میں اللہ کے نزدیک مساوی نہیں ہیں، کیونکہ مسلم ابتداء جنت میں داخل ہوگا اور فاسق مرتکب کبیرہ شفاعت سے جنت میں داخل ہوگا، یا اللہ تعالیٰ کے فضل محض سے، یا پھر اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں داخل ہوگا، دوسرا جواب یہ ہے کہ مومن فاسق بھی مسلمین میں داخل ہے کیونکہ وہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوا اور مجرمین سے مؤمنین فاسقین نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کفار ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 35