أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا بَلَوۡنٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ‌ ۚ اِذۡ اَقۡسَمُوۡا لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

ہم نے ان کی اس طرح آزمائش کی جس طرح ہم نے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی، جب انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضروری صبح کو اس کے پھل کاٹیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے ان کی اس طرح آزمائش کی جس طرح ہم نے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی، جب انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور صبح کو اس کے پھل کاٹیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا پھر آپ کے رب کی طرف سے اس باغ پر ایک آفت آئی، جب وہ سوئے ہوئے تھے۔ پھر وہ باغ ایسا ہوگیا جیسے کئی ہوئی کھیتی ہو۔ پس صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔ کہ اگر تم پھل کانٹنے والے ہو تو علی الصبح اپنے کھیت کی طرف چلو۔ پھر وہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چل پڑے۔ کہ آج اس باغ میں تمہارے پاس ہرگز کوئی مسکین نہ آئے پائے۔ پھر وہ خود کو اپنے فیصلہ پر قادر سمجھتے ہوئے سویرے سویرے چل دیئے۔ پھر جب انہوں نے اس کئے ہوئے باغ کو دیکھا تو کہا : ہم ضرو راستہ بھول گئے بلکہ ہم محروم ہوگئے ان میں سے متوسط نے کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا ہمارا رب سبحان ہے بیشک ہم ظالم تھے۔ پھر وہ مڑ کر ایک دوسرے کو ملامت نہیں کرنے لگے۔ انہوں نے کہا : ہائے افسوس ! بیشک ہم سرکش تھے۔ توقع ہے کہ ہمارا رب ہم کو اس کے بدلے میں سے اچھا باغ دے، بیشک ہم اپنے رب کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اسی طرح عذاب ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب ضرور ( اس سے) بہت بڑا ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔ (القلم : ٣٣۔ ١٧)

باغ والوں کی نا شکری کا انجام

ان آیات میں کفار مکہ کو باغ والوں کی مثال سے ڈرایا ہے، ایک باغ میں انواع و اقسام کے پھل بہ کثرت تھے، ان لوگوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہونے سے پہلے راتوں رات اس باغ کے سارے پھل اتار لیں گے، تاکہ فقراء، مساکین اور سائلوں کو پتہ نہ چلے اور وہ بھی پھل مانگے چلے آئیں اور ہمیں ان کو بھی پھل دینا پڑیں، وہ اپنے اس منصوبہ پر بہت زیادہ خوش تھے اور اس خوشی میں انہوں نے انشاء اللہ یا سبحان اللہ بھی نہیں کہا، ان کو بھی پھل دینا پڑیں، وہ اپنے اس منصوبہ پر بہت زیادہ خوش تھے اور اس خوشی میں انہوں نے انشاء اللہ یا سبحان بھی نہیں کہا، ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، اس لیے ان کا یہ منصوبہ نا کام ہوگیا، ان کے اس باغ میں پہنچنے سے پہلے ایک زبردست آندھی آئی یا گرم ہوا کہ بگولے آئے اور باغ کے تمام پھل جل کر خاکستر ہوگئے، اس وقت رات کو وہ محو خواب تھے، جب وہ پھل دار باغ کاٹی ہوئی فصل کی طرح ہوگیا، جب صبح ہوئی تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر باغ سے پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ کرو، علی الصبح ہی چل پڑو، حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ انگور کا باغ تھا، یہ لوگ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ کوئی سن نہ لے اور فقراء کو ان کے پھل اتا رنے کا پتا نہ ہوجائے، وہ پختہ عزم کے ساتھ باغ کی طرف جا رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے منصوبہ کا پورا کرنے پر ہر طرح قادر ہیں، وہ سمجھتے تھے کہ وہ پھل اتارنے پر پوری طرح قادر ہیں اور ابھی جا کر سب پھل لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ لہلہا تا ہوا سرسبز باغ اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں، سارے باغ میں آندھی آچکی ہے اور تمام پھل جل کر خاکستر ہوچکے ہیں، جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو پہلے تو سمجھے کہ شاید ہم راستہ بھول کر کسی اور باغ میں آگئے، لیکن جب بہ غور دیکھنے سے یہ یقین ہوگیا کہ یہ ان ہی کا باغ ہے تو کہنے لگے کہ ہم بدقسمت ہیں، اس باغ کے پھل ہمارے نصیب میں نہ تھے، بیشک ہمارا رب سبحان ہے ( پاک اور بےعیب ہے) ہم ہی ظالم ہیں، پھر وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے ناحق مسکینوں کا حق مارا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا چھوڑدی، ہماری سرکشی حد سے بڑھ کرگئی تھی، اس لیے ہم پر عذاب آیا، شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے، بیشک ہم اپنے رب کی طرف رغبت کرنے والے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد اس سے دنیا میں بدلہ دینا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے ان کی مراد آخرت میں بدلہ دینا ہو۔

سعید بن جبیر نے کہا : یہ لوگ ضرور اس جگہ کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے، اور بعض مفسرین نے کہا : یہ لوگ اہل حبشہ تھے، یہ اہل کتاب تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر تھے، یہ باغ ان کو اپنے باپ سے ورثہ میں ملا تھا، ان کے باپ کا معمول یہ تھا کہ باغ کی پیداوار سے باغ کا خرچ نکال کر اور اپنے بچوں کا خرچ نکال کر باقی نفع یا باقی مال اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا کرتا تھا، باپ کی وفات کے بعد بچوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمارا باپ تو احمق تھا، جو اتنی بڑی آمدنی فقراء کو دے کر ضائع کردیا کرتا تھا، اگر ہم فقراء کو نہ دیں اور سارا نفع اپنے پاس رکھیں تو ہم بہت جلد سرمایہ دار ہوجائیں گے، جب انہوں نے یہ عزم راسخ کرلیا تو ان کے باغ پر وہ آفت آئی کہ ان کے سارے پھل جل کر خاکستر ہوگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور اس کی نعمتوں کا شکرادا نہ کرے، اس پر اسی طرح اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے اور یہ تو دنیا کا عذاب ہے، آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 17